بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں

0
7
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

موجودہ دور میں جہاں عورتوں کے حقوق، ان کے تحفظ اور بحیثیت ماں، بیٹی اور بیوی ان کی حیثیت پر کھل کر گفتگو کی جاتی ہے اور قوانین وضع کیے جاتے ہیں، وہاں عملاً بیٹیوں کے معاملات میں اب بھی والدین بے شمار خدشات کا شکار رہتے ہیں۔ خاص طور پر شادی کا ذکر آتے ہی لامتناہی وساوس، نئے خاندان کی جانچ پڑتال اور ممکنہ وسائل کی فراہمی سے متعلق تشویش جنم لیتی ہے تاکہ یہ فریضہ عزت و احترام کے ساتھ ادا ہو سکے۔
اسی تناظر میں ملک کے نامور اسٹیج فنکار مرحوم دلدار پرویز بھٹی کا ایک ایسا واقعہ سامنے آتا ہے جو ایثار اور نیکی کی روشن مثال ہے۔ جمیل بسمل بتاتے ہیں کہ ان کی بیٹی کی شادی تھی اور انہوں نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر جہیز کی تیاری کی، لیکن اس دوران تمام رقم ختم ہو گئی۔ اب کھانا، کیٹرنگ اور ڈیکوریشن کے دیگر اخراجات پورا کرنا ممکن نہ رہا۔ یہ 80 کی دہائی کی شروعات کا واقعہ ہے جب اکثر تقاریب کھلے میدانوں میں ہوا کرتی تھیں۔
کسی رشتہ دار سے مدد مانگنا اس لیے مناسب نہ سمجھا گیا کہ بعد میں باتیں بننے کا خدشہ تھا، چنانچہ دوستوں میں دلدار بھٹی کا نام ذہن میں آیا۔ جمیل بسمل اور ان کی اہلیہ شام کو ان کے گھر گئے، تاہم وہ شرمندگی اور غیرت کے باعث مانگنے سے ہچکچاتے رہے اور ڈیڑھ لاکھ روپے کی ضرورت کا ذکر نہ کر سکے۔ دلدار بھٹی نے ان کی خاموشی سے سب کچھ محسوس کر لیا۔
اگلی صبح دلدار بھٹی خود جمیل بسمل کے گھر پہنچے اور ناشتے کے دوران آبدیدہ ہو کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے غیر سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی سب کی سانجھی ہوتی ہے اور ایک تھیلا پیش کیا جس میں کاغذ کے لفافے تھے۔ گننے پر معلوم ہوا کہ وہ رقم پورے دو لاکھ روپے تھی، اور انہوں نے اسے واپس لینے سے صاف انکار کر دیا۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ معاشرے میں ایسے بلند کردار افراد موجود رہے ہیں جنہوں نے دوسروں کی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر ان کی مدد کی۔ اس قسم کی نیکیاں نہ صرف دنیا میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں بلکہ آخرت کے لیے بھی زاد راہ بنتی ہیں۔ دعا ہے کہ ہر بیٹی اور بیٹے کے والدین کی عزت محفوظ رہے اور سب کو اولاد کی خوشیاں دیکھنا نصیب ہو۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here