فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
7

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! عمومی طور پر لوگ حضورۖ انسانوں کے اعتبار سے لامتناہی علوم غیبہ کے بارے میں ابہام وتشکیک کا شکار ہیں۔ اور اپنے گستاخانہ مئوقف پر قرآن کریم کی چند آیات مبارکہ کا غلط مفہوم نکال کر بڑی سختی کے ساتھ کار بند ہیں۔ ان کا یہی ظالمانہ رویہ احادیث نبوی کے ساتھ دیکھنے میں آیا ہے علامہ محمد اقبالنے کیا خواب فرمایا تھا !
خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ذیل میں بخاری شریف کی ان احادیث کو موضوع بنایا جاتا ہے جوان حضرات کا تختہ عشق بنی ہوئی ہیں کاش وہ لوگ روح حدیث کو سمجھ لیتے تو موجودہ اختراق وانتشار کی زہر آلود فضا کبھی بھی پیدا نہ ہوتی!
”کیا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا
صباسے بھی نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ”
حضورۖ ایک محفل میں موجود تھے کہ انصار کی بچیاں دف بجا کر مقتولین بدر کے مرثیے گا رہی تھیں۔ اسی دوران کسی بچی نے گانا شروع کردیا، اور ہم میں نبی ایسے ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں۔تو حضورۖ نے فرمایا: یہ چھوڑ دو اور پہلے والا گانا شروع کردو۔ معلوم ہوا کہ آپ کو کل کا علم نہیں اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ یہ شعر کسی بچی کے ذہن کی تخلیق تو ہو نہیں سکتا اور نہ کسی کافرومشرک کا کیونکہ کافر ومشرک آپ کو نبی نہیں مانتے تھے۔ اب ماننا پڑے گا کہ یہ شعر کسی صحابی اور عاشق رسولۖ کا ہی ہے۔ اب آپ ہی غور فرمائیں کہ کل کا علم اگر کسی اور کے حق میں ثابت کرنا شرک ہے تو پھر اس صحابی کے متعلق کیا فتویٰ ہو جس نے یہ نعتیہ شعر تخلیق کیا۔ ثابت ہوا کہ حضورۖ نے عاجزی وانکساری سے کام لیتے ہوئے اپنی تعریف سننا پسند نہ کی۔ ورنہ آپۖ کی عطا سے کل کا عالم جانتے ہیں۔ جیسا کہ بخاری شریف کی احادیث کثیرہ سے ظاہر ہے پھر کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ کا ہار گم ہوگیا پھر آپ پر تہمت لگی تو آپ وحی کے انتظار میں رہے۔ اگر علم ہوتا تو پہلے نہ بتا دیتے کہ سیدہ عائشہ قصور وار نہیں ہیں؟ عرض یہ ہے کہ یہاں بتانے کی نفی ہو سکتی ہے جاننے کی نہیں یہ کوئی ضروری نہیں جو کسی چیز کو نہ ظاہر کرتا ہو تو وہ اسے جانتا نہیں ہے۔ اس حدیث مبارکہ کی ایسی تشریح حدیث مبارکہ کے متن کے ہی خلاف ہے اسی حدیث مبارکہ میں مذکور ہے۔ کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی۔ یارسول اللہ! ہم آپ کی زوجہ مطھرہ میں بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھتے۔ بریرہ کنیز کے عرض کی: خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں نے ان کے اندر کوئی بات نہیں دیکھی جس کے باعث الزام دوں۔ اب غور کیا جائے تو سمجھ آجاتی ہے کہ اگر صحابہ کرام علیھم الرّضوان کو اس بات کا علم ہے کہ سیدہ پاک دامن ہیں تو حضور علیہ الصّلٰوة والسّلام کو بدرجہ ادلی کیوں نہ ہوگا؟ یقیناً علم تھا اور کامل علم تھا حضور علیہ الصّلوٰة والسّلام نے واضح طور پر فرمایا تھا کہ میں اپنی بیوی میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھتا۔ اگر اتنے باوثوق الفاظ یہ بھی کسی کو اطمینان قلب نصیب نہ ہو تو پھر ہمارا کیا قصور؟ بس اللہ ہی ہدایت دے صحابہ کرام علیھم الرضوان والا ایمان وایقان نصیب ہو جائے۔
حضورۖ سّیدہ کے بارے میں ایک لمحہ بھی متذبذب نہ ہوئے کیونکہ نص قطعی ہے گندی عورتیں گندے مردوں کے لئے اور گندے مرد گندی عورتوں کے لئے۔ اگر”معاذ اللہ” سیدہ میں کوئی برائی ہوتی تو امام الانبیاء کے دائرہ نکاح میں ہی نہ آتیں۔ یہ بات جب ہر صحیح العقیدہ جانتا ہے تو پھر حضور نہیں جانتے ہوں گے؟ حضورۖ چاہتے تھے کہ سیدہ کی گواہی اللہ کے قرآن میں موجود ہوتا کہ قیامت تک ان کا منکر قرآن کا منکر قرار پائے۔ پھر وہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: مسلمان مردوں اور عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک گمانی کیوں نہ کی۔ اور فوراً کیوں نہ کہہ دیا یہ تو کھلا بہتان ہے۔ اب کیا کوئی قرآن کی اس تنبیہ میں حضور علیہ الصّلوٰة والسّلام کو شامل کرنے کی جرأت کرسکتا ہے؟ اگر نہیں تو ماننا ناگزیر ہوگیا کہ آپ کو سیدہ کے طیبہ وطاہرہ ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں تھا۔
مذکورہ احادیث مقدسہ نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اصلاح احوال کے ساتھ نبی غیب دان کی رفعت علمی اور منزلت آفتاب نیمروز کی طرح عیاں ہوجائے۔ بخاری شریف کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں ہزاروں ایسی روایات ہیں جن میں آپ نے قیامت ہی نہیں بلکہ بعد کے حالات بھی ظاہر فرما دیئے ہیں۔ جن مقامات پر آپ ۖ نے سکوت فرمایا وہاں آپ کے بحرسکوت سے ہزاروں آسائشوں، نعمتوں اور حکمتوں کے جواہر مفلسان امت کے ہاتھ آئے۔ مثلاً آپ نے سیدہ رضی اللہ عنھا کے ہار کے گم ہونے کا پتہ نہ بتایا۔ وہاں پر ڈھونڈنے میں تاخیر ہوئی تو قلت پانی کی وجہ سے تیمم کی نعمت امت کو نصیب ہوئی بس اللہ پاک ہمیں مقام وشان مصطفیٰۖ سمجھنے اور حقائق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here