شمالی امریکہ میں نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی ترویج کے لیے ہونے والی کاوشیں اور مستقبل میں ہماری ذمہ داریوں کے سلسلہ میں عرض ہے کہ نعت محض شاعری کی ایک صنف نہیں بلکہ یہ محبت، عقیدت، ادب اور وابستگی کا وہ اظہار ہے جس کے ذریعے ایک مسلمان اپنے دل کے جذبات کو تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کرتا ہے۔ نعت دراصل دل کو سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑنے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کو یاد کرنے اور اپنی زندگی کو اسو? حسنہ کے مطابق ڈھالنے کا ایک خوب صورت ذریعہ ہے۔
شمالی امریکہ، خصوصاً امریکہ اور کینیڈا میں آباد مسلمان ایک کثیر الثقافتی معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ہماری نئی نسل مختلف زبانوں، تہذیبوں اور معاشرتی اثرات کے درمیان پروان چڑھ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی تہذیبی شناخت کو زندہ رکھنا محض ایک جذباتی ضرورت نہیں بلکہ ایک اہم دینی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے شمالی امریکہ میں مساجد، اسلامی مراکز، ادبی تنظیموں اور مسلم کمیونٹی کے مختلف حلقوں کی طرف سے پاکستان کی طرح یہاں بھی میلاد النبی، سیرت کانفرنسوں، نعتیہ مشاعروں اور محافلِ نعت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ اردو زبان و ادب کی اس عظیم روایت کو بھی نئی سرزمین پر زندہ رکھتی ہیں۔
اسی سلسلے میں شکاگو کی خدمات خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ سخنور شکاگو اور حریم نعت شکاگو نے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نعتیہ ادب اور نعت خوانی کو بھی ایک باوقار اور مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ اس ادارے کے زیرِ اہتمام تیسری انٹرنیشنل نعت کانفرنس کا سالانہ انعقاد اس بات کی روشن مثال ہے کہ شمالی امریکہ کی سرزمین پر نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کو کس طرح منظم، باوقار اور بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھایا جاتا ہے۔ حریم نعت شکاگو کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی انٹرنیشنل نعت کانفرنس اسی خوب صورت سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ محض ایک نعتیہ محفل نہیں بلکہ نعت کو ادب، تحقیق، تہذیب اور عشقِ رسول کے وسیع تر تناظر میں پیش کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔
اس طرح کی کانفرنسوں میں دنیا کے مختلف خطوں سے شعرائ، نعت گو حضرات، نعت خواں، اہلِ علم اور ادب سے وابستہ شخصیات شریک ہوتی ہیں۔ امسال راقم کو بھی اس بابرکت محفل میں شریک ہونے اور نعتِ رسولِ مقبول پیش کرنے کا شرف حاصل ہوا:
رنگ پر ہے محفل نعت رسول کبریا
نعت کہہ کر ہم بھی حصہ لطف سے پایا کریں
کیوں نہ ان کے نام پر سب کچھ فدا اپنا کریں
الحمد للہ! یوں ایک طرف نعت کے مختلف اسالیب اور ادبی روایات ایک دوسرے سے متعارف ہوتی ہیں تو دوسری طرف شمالی امریکہ میں پروان چڑھنے والی نسل کو اپنے دینی اور ادبی ورثے سے وابستہ ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یہ اعتراف اس بات کی دلیل ہے کہ نعتیہ ادب کی ایسی محافل صرف مذہبی جذبات کے اظہار تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ زبان، ادب، تہذیب اور کمیونٹی کے درمیان ایک خوب صورت پل بھی قائم کرتی ہیں۔
تیسری انٹرنیشنل نعت کانفرنس کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کانفرنس دراصل ایک ایسے سفر کا تسلسل ہے جس کا مقصد نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نئی نسل تک پہنچانا، نعت گو شعراء اور نعت خواں حضرات کی حوصلہ افزائی کرنا، نعتیہ ادب کی عظمت کو اجاگر کرنا اور شمالی امریکہ میں عشقِ رسول کی اس روایت کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔ اس کانفرنس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں عشقِ رسول اور ادب ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ نعت میں جذبات کی حرارت بھی ہے اور زبان و بیان کی نزاکت بھی، عقیدت بھی ہے اور شعری جمالیات بھی۔ اس لیے نعتیہ کانفرنسیں ایک طرف روحانی کیفیت پیدا کرتی ہیں اور دوسری طرف اردو زبان و ادب کے فروغ کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔
راقم کی نظر میں حریم نعت شکاگو کی یہ کوشش محض ایک سالانہ پروگرام نہیں بلکہ ایک تسلسل رکھنے والی ادبی و روحانی تحریک کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر اسے مزید منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے تو یہ کانفرنس مستقبل میں پورے شمالی امریکہ کے لیے نعتیہ ادب کا ایک نمایاں مرکز بن سکتی ہے۔
آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو نعت اور سیرتِ رسول سے کس طرح جوڑیں۔ شمالی امریکہ میں پیدا ہونے والے بہت سے بچے اور نوجوان انگریزی زبان میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں اور ان کا ماحول بھی پاکستان، ہندوستان یا دیگر مسلم ممالک سے مختلف ہے۔ اس لیے ہمیں نعت کے پیغام کو ان کی زبان، ان کے مزاج اور جدید ذرائع ابلاغ کے مطابق ان تک پہنچانا ہو گا۔ ضرورت ہے کہ نعتیہ پروگراموں کے ساتھ بچوں اور نوجوانوں کے لیے نعت خوانی کے مقابلے، سیرت کوئز، نعتیہ ورکشاپس، تقریری مقابلے اور سیرتِ طیبہ کے مختصر کورسز بھی منعقد کیے جائیں۔ نعت کو صرف سننے، پڑھنے اور لکھنے کی حد تک نہیں بلکہ سیرتِ رسول کو سمجھنے اور کردار میں اپنانے کا ذریعہ بنایا جائے۔ اسی طرح نعتیہ کلام کے انگریزی تراجم، دو لسانی پروگراموں، مختصر ویڈیو کلپس، پوڈکاسٹس اور سوشل میڈیا مواد کے ذریعے اس عظیم روایت کو نوجوان نسل تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں آنے والے برسوں میں نعتِ رسول کی ترویج کے لیے چند عملی اقدامات نہایت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اولاً، شمالی امریکہ کی سطح پر ایک مستقل نارتھ امریکن انٹرنیشنل نعت نیٹ ورک قائم کیا جائے جو مختلف شہروں میں ہونے والی نعتیہ سرگرمیوں کو باہم مربوط کرے۔ ثانیاً، ہر سال ہونے والی انٹرنیشنل نعت کانفرنس کے ساتھ نوجوان نعت خواں کانفرنس یا نعت خوانی کا باقاعدہ مقابلہ بھی منعقد کیا جائے تاکہ نئی نسل کے ٹیلنٹ کو سامنے آنے کا موقع ملے۔ ثالثاً، نعت کے ساتھ سیرتِ رسول کے علمی اور تحقیقی پہلو کو بھی نمایاں کیا جائے؛ کانفرنس میں صرف نعت خوانی نہ ہو بلکہ سیرت، نعتیہ ادب، اردو زبان اور عصرِ حاضر میں محبتِ رسول کے تقاضوں پر علمی مقالات بھی پیش کیے جائیں۔ رابعاً، کانفرنس کی کارروائی کو کتابی شکل میں محفوظ کیا جائے، جیسا کہ عابد رشید نے بتایا کہ وہ یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں، اور ہر سال پیش کیے جانے والے منتخب مقالات، نعتیہ کلام اور کانفرنس کی روداد پر مشتمل ایک سالانہ نعتیہ مجلہ شائع کیا جا سکتا ہے۔ خامساً، ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اس پیغام کو پورے شمالی امریکہ اور دنیا تک پہنچایا جائے۔ آج ایک محفل کا پیغام چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، لہٰذا ہمیں اس سہولت کو مثبت، باوقار اور علمی انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔
یہاں ایک بنیادی بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ نعت کا حقیقی مقصد صرف خوب صورت الفاظ اور دل نشین آواز نہیں۔ نعت ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے محبت کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کا درس بھی دیتی ہے۔ اگر ہم نعت پڑھیں مگر اخلاق میں نرمی نہ آئے، اگر ہم درود و سلام پڑھیں مگر دوسروں کے حقوق کا خیال نہ رکھیں، اگر ہم میلاد منائیں مگر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عدل، رحم، امانت، صدق اور حسنِ معاشرت کو اپنی زندگی کا حصہ نہ بنائیں تو ہماری نعت اپنے اصل پیغام سے محروم ہو جائے گی۔ اس لیے شمالی امریکہ میں نعت کی ترویج کا اگلا مرحلہ یہ ہونا چاہیے کہ محبتِ رسول کو کردار سازی اور خدمتِ انسانیت سے جوڑا جائے۔ نعتیہ محافل کے ساتھ ضرورت مندوں کی مدد، نوجوانوں کی تربیت، کمیونٹی سروس اور انسان دوستی کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ اس طرح نعت کا پیغام محفل سے نکل کر معاشرے کے کردار میں جلوہ گر ہو گا۔
آخری بات کے طور پر، راقم حریم نعت شکاگو کو تیسری انٹرنیشنل نعت کانفرنس کے انعقاد پر اور بالخصوص عابد رشید کو، جن کے تیسرے نعتیہ شعری مجموعے خیر الوریٰ کو حکومتِ پاکستان نے داد و تحسین سے نوازا ہے، اور ان کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ کوشش اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مختلف تہذیبیں اور زبانیں ایک دوسرے سے مل رہی ہیں، وہاں نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع روشن رکھنا ایک عظیم خدمت ہے۔
یہ کانفرنس ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ جغرافیہ بدل سکتا ہے، زبانیں بدل سکتی ہیں اور معاشرتی حالات بدل سکتے ہیں، لیکن محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نسبت نہیں بدل سکتی جو ایک مسلمان کے دل کو آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑتی ہے۔ آج ہمیں اس شمع کو صرف روشن رکھنے ہی نہیں بلکہ اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کانفرنس اسی سلسلے کی ایک امید افزا کوشش ہے جسے مزید وسعت، تسلسل اور علمی بنیاد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ شمالی امریکہ کی سرزمین پر نعتِ رسول کو محض ایک ادبی صنف کے طور پر نہیں بلکہ محبت، ادب، سیرت، کردار اور انسانیت کی خدمت کے پیغام کے طور پر فروغ دیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہماری اس کاوش کو قبول فرمائے، منتظمین، شعرائ ، نعت خواں، اہلِ علم اور تمام شرکائے محفل کو اجرِ عظیم عطا فرمائے، اور ہمیں حقیقی معنوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور سنتِ مبارکہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، وما علینا لا البلاغ۔













