عشق رسول ۖسے بریز حضرت نوری بریلوی کے چند اشعار بطور نمونہ پیش کیے جا رہے ہیں!
خدا ایک پر ہو تو اِک پر محمد
اگر قلب اپنا دو پارا کروں میں
تر اذکر لب پر خدا دل کے اندر
یونہی زندگانی گزارا کروں میں
میرا دین و ایمان فرشتے جو پوچھیں
تمہاری ہی جانب اشارا کروں میں
چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا
کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہم زنگار کا
حضرت نوری بریلوی سرکار ابد قرار می نام کے معجزات پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی بے لوث محبت کا یوں اظہار فرماتے ہیں !
اشارہ پائے ڈوبا ہوا سورج برآمد ہو
اٹھے انگلی تو مہ دو بلکہ دو دو چار ہو جائے
اس شعر میں دو دو چار ہو جائے کا جواب نہیں۔ اس کے استعمال میں فکر کی پرواز اور فن کی مریں دو دو ہو چاشنی آفتاب عالم تاب کی طرح درخشاں ہے۔ مذکورہ شعر جہاں سرکار کے تصرفات کا کلمہ پڑھ رہا ہے وہیں گستاخ رسول کی بد عقیدگی کا شیرازہ بھی بکھیر رہا ہے ساتھ ساتھ آپ کی فنی خوبی اور انتہائی درجہ کے عشق رسول کو بھی اُجا گر کر رہا ہے۔
آپ حضرت عیسیٰ کے معجزے سے سرکار دو عالمۖ کے تصرف کا اس قدر محبت آمیز لہجے میں تقابل پیش کر رہے ہیں جو ایک کھلی ہوئی حقیقت کی عکاسی کر رہا ہے نیز آپ کی شرعی احتیاط اور حب رسول پر مہر ثبت کر رہا ہے، فرماتے ہیں ۔
شہرہ لب عیسی کا جس بات پر ہے مولا تم جان مسیحا ہو ٹھو کر میں ادا کرنا اعلی شاعری کے دو اہم جز ہیں ایک فکر دوسرافن ۔ آپ کی بلندی فکر آپ کی شاعری کا طرہ امتیاز ہے۔ ذیل کے اشعار آپ کی اعلی فکروفن پر روشن دلیل ہیں۔
حق کے پیارے نور کی آنکھوں کے تارے ہو تمہیں
نور چشم انبیا میر عجم ماہ عرب
تو شمع رسالت ہے عالم ترا پروانہ
تو ماہ نبوت ہے اے جلوہ جانانہ
اس در کی حضوری ہی عصیاں کی دوا ٹھہری
ہے زہر معاصی کا طیبہ ہی شفاخانہ
٭٭٭















