گزشتہ دنوں عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی نے سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس اچانک کریش کی بنیادی وجہ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی اور تجارتی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان تنازع نے عالمی مالیاتی نظام کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے جس کے اثرات ہر خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کئی برسوں سے جاری ہے، تاہم حالیہ دنوں میں بیانات، پابندیوں اور ٹیرف میں اضافے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاشی دبا بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ سرمایہ کار اس بے یقینی کے باعث اپنے سرمائے کو محفوظ بنانے کے لیے شیئرز فروخت کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں شدید دبا پیدا ہوا۔عالمی منڈیوں میں سب سے زیادہ نقصان ٹیکنالوجی، توانائی اور صنعتی شعبوں کو پہنچا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی جبکہ تیل، سونا اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اتار چڑھا سامنے آیا۔ کئی ممالک کی کرنسیاں کمزور ہوئیں جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا، جو عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک پر اس بحران کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی، برآمدات پر دبا اور اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مقامی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر عالمی معاشی حالات طویل عرصے تک خراب رہے تو اس کا براہ راست اثر روزگار، صنعت اور عوامی قوتِ خرید پر پڑ سکتا ہے۔ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس بحران کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارتی حکمت عملی کے ذریعے ممکن ہے۔ امریکہ اور چین کو چاہیے کہ وہ سیاسی اختلافات کو معاشی جنگ میں تبدیل کرنے کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔ عالمی اداروں کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ عالمی معیشت کو بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی معاشی پالیسیاں مضبوط بنیادوں پر استوار کریں۔ مقامی صنعت کو فروغ دینا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سرمایہ کاری میں احتیاط اور طویل المدتی منصوبہ بندی اپنانا چاہیے۔آخرکار یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حالیہ اسٹاک مارکیٹ کریش صرف ایک مالی جھٹکا نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر ذمہ دارانہ فیصلے نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسے بحران مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ عالمی استحکام کے لیے تعاون، مکالمہ اور معاشی توازن ناگزیر ہو چکا ہے۔
٭٭٭












