اسی کی دہائی میں امریکہ نے افغانستان میں جس جنگ کی بنیاد رکھی اس کے مہیب اثرات نے آج پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ تزویراتی غلطی نہ صرف افغانستان کی سیاسی اور معاشی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی بلکہ اس کے نتیجے میں ملک صومالیہ جیسی صورتحال سے دوچار ہو کر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ افغان سرزمین کے اس بگاڑ کے بعد امریکی مداخلت کا اگلا رخ مشرق وسطیٰ کی جانب ہوا جہاں خلیج کی جنگوں نے عراق جیسے مستحکم اور امیر ملک کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا۔ صدر صدام حسین کی پھانسی اور ملک کی شیعہ، سنی اور کرد لسانی بنیادوں پر تقسیم نے عراق کے قومی وجود کو ایک ایسے نامعلوم نقشے میں بدل دیا ہے جس کی شناخت اب قصہ پارینہ بن چکی ہے۔یہی لہر جب لیبیا تک پہنچی تو وہاں بھی قبائلی عصبیتوں کو ہوا دے کر اس ریاست کا شیرازہ بکھیر دیا گیا جو کبھی افریقہ اور عالم اسلام کی قیادت کا خواب دیکھتی تھی۔ کرنل قذافی کے قتل کے بعد لیبیا کا ایک خوشحال ملک سے دوبارہ ریگستان میں بدل جانا اس عالمی سازش کا حصہ ہے جس کے تحت مقامی گروہوں کو استعمال کر کے قومی وسائل کی لوٹ مار کی راہ ہموار کی گئی۔ آج یہی منظرنامہ ایران کے گرد بنتا دکھائی دے رہا ہے جہاں بیرونی قوتوں کے بیانات اور بڑھتا ہوا دباؤ اس ملک کو کردوں اور بلوچوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ ماضی میں جس طرح صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگوں کے خلاف مزاحمت کی تھی، آج جدید دور کی وہی یلغار نئے عنوانات کے ساتھ ایرانی سرحدوں پر دستک دے رہی ہے تاکہ خطے کے نقشے کو دوبارہ سے ترتیب دیا جا سکے۔
اگر ایران کو بھی عراق کی طرز پر تقسیم کر دیا گیا تو اس کے براہ راست اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے جہاں بلوچستان میں جاری علیحدگی پسند تحریکوں کو پہلے ہی پڑوسی ممالک اور عالمی طاقتوں کی درپردہ حمایت حاصل ہے۔ ایران کی عدم استحکام کی صورت میں پاکستان کا جغرافیہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے اور افغانستان میں پہلے سے موجود پشتون و غیر پشتون تفریق اسے شمالی اور جنوبی حصوں میں بانٹنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس صورتحال میں بھارت جو پاکستان کی سالمیت کے خلاف مختلف محاذوں پر سرگرم ہے، اسے بھی یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کبھی ایک واحد وفاق نہیں رہا بلکہ مختلف ریاستوں اور سلطنتوں کا مجموعہ تھا۔علاقائی تقسیم کا یہ لاوا اگر ایک بار پھوٹ پڑا تو بھارت کی اپنی ریاستیں بھی خود مختاری کا مطالبہ کر سکتی ہیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب سرحدیں ٹوٹتی ہیں تو اس کی زد سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہتا۔ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو یورپی یونین کے تجربے سے سبق سیکھنا چاہیے جس نے صدیوں کی جنگوں اور خونریزی کے بعد اتحاد کی راہ اپنائی تاکہ اپنی بقا کو یقینی بنا سکے۔ آج وقت کی پکار یہی ہے کہ خطے کی ریاستیں تقسیم در تقسیم کے بیرونی ایجنڈے کو سمجھیں اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے بجائے اتحاد کا راستہ اختیار کریں، ورنہ آنے والی دہائیوں میں تاریخ ہمیں صرف بکھرے ہوئے نقشوں کی صورت میں یاد رکھے گی۔
٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)











