پچھلے دنوں مجھے ویانا، روم اور استنبول کا سفر کرنا پڑا کہ جس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روم اور استنبول آثار قدیمہ کی جائے مقام ہیں کہ جنہوں نے صدیوں پرانی آر کائیو کو سنبھال کر رکھا ہوا کہ جس کو دیکھنے کے لئے ہر سال ملین اینڈ ملین سیاح آتے جاتے ہیں۔ آثار قدیمہ سے ماضی کی تاریخ کا پتہ چلتا ہے کہ قدیم وقتوں میں کونسی دنیا کسی حالت میں رہتی تھی کہ جن کے قدیم زمانوں میں انسان ایک معاشرہ تیار کر چکا تھا کے جس میں پارلیمنٹ اور عدلیہ کا وجود لایا جاچکا تھا چاہے ان ملکوں میں بادشاہوں، سلطانوں، خلیفوں کی حکمرانی قائم تھی۔ مگر عہد جدید میں انسانی آزادی بھی اسی طرح ختم ہو چکی ہے جس طرح ماضی میں انسان بے آواز تھا چنانچہ چند دہائیوں سے انسان کے سفر کو نان الیون کے نام پر اتنا مشکل بن دیا کہ اب سفر کرنے سے پہلے مسافر سوچتا ہے کہ اب مجھے نہ جانے کتنی بار انسائی پل صراط سے گزانا پڑے گا جس کا مشاہدہ ہمیں پہلی مرتبہ اس سفر میں دیکھنے کو ملا کہ استنبول کے ایئرپورٹ پر پانچ مرتبہ اور آئس لینڈ کے ایئرپورٹ پر ٹرانزٹ فلائیٹ کے وقت پل صراط سے گزانا پڑا کہ ایئرپورٹ پر پہلے تمام سامان پھر کیرپر بیگ سمیت سکیورٹی مراحل سے گزرانا پڑا ہے سب سے بڑا واقعہ آئس لینڈ کے ایئرپورٹ پر یش آیا کہ جب ایک جہاز سے اتر کر دوسرے جہاز میں سوار ہو رہے تھے تو بھی آسی سکیورٹی کے نام پر پل صراط کا واسطہ پڑا جسے کہ کسی مسافر نے جہاز حل کوئی شہ تیار کرلی تھی جس سے دوسری فلائیٹ کو خطرات لاحق ہوچکے تھے علاوہ ازیں استنبول اور آئس لینڈ ایئرپورٹوں میں بسوں پر سوار کرکے جہازوں تک لیجایا گیا جس سے سردی اور تیز ہوا نے وہ حالت کی تھی کہ جس کو بیان کرنا مشکل ہے۔ خاص طور پر آئس لینڈ کی ایئرلائن کے جہاز میں اتنی ہی سردی لگ رہی تھی جتنی یا پھر زمین پر سردی محسوس ہو رہی تھی جس پر ماتم کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے جب جہاز نیویارک پہنچا تو ایسا لگا کہ ہم بھارت کے کسی شہر میں پہنچ چکے ہیں کہ پاسپورٹ لائن ننانوے فیصد لوگ بھارتی نژاد امریکن تھے جو نہ جانے کس فلائیٹ سے اترے تھے جن کے ہم خلاف نہیں ہیں مگر پل صراط کی کہانی میں مطلع کرنا ضروری سمجھا۔ تاہم آج کے انسانی پل صراط سے کل کا ماضی یاد آجاتا ہے کے جب ہم لوگ اپنے دوستوں رشتے داروں اور مہانوں کو ایئرپورٹ کے اندر جاکر جہاز سے اترنے والوں کا استقبال کیا کرتے تھے یا پھر امریکہ سے باہر جانے والوں کو جہاز تک جاکر سوار کیا کرتے تھے جب کوئی دوست احباب سفر کیا کرتا تھا تو پوری دوستوں کی جماعت انہیں سی آف کے لئے جہاز تک جایا کرتی تھی جس کی آج یاد بہت آرہی تھی کہ نہ جانے کیسے اور کیوں نان الیون ہوا کہ پوری دنیا بدل گئی کہ آج ہر آدمی پر شک لگ جاتی ہے کہ آج کا سفر انسانی پل صراط بن چکا ہے۔
٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)












