سید عارف: شخصیت و شاعری!!!

0
8
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

18 جون 2016 کی بات ہے۔ یہ تقریبا صبح کے 7 بجے کا وقت تھا میرے دل میں درد کی شدید لہر اٹھی۔ گمان ہوا کہ دل کا دورہ پٹرا ہے۔ الہی خیر۔ کلمہ پڑھا۔ درد تھما۔ سوچنے لگا کیا ماجرا ہے۔ دس بجے ممتاز شاعر ادبی تنظیم سخنور کے چیئرمین آفتاب ضیا صاحب کا فون آیا اور سید عارف کے انتقال کی خبر سنائی۔ تڑپتے دل کو مزید تڑپا دیا۔ ان کا انتقال صبح سات بجے ہوا تھا جب میرے دل میں شدید درد اٹھا۔ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے اور روحانی تجربہ نے کئی پوشیدہ راز منکشف کر دیئے ۔ آنکھوں سے اشکوں کی جھڑی نے موسمِ برسات کو مات دے دی۔ ایسے محسوس ہوا جیسے قبرِ دوستِ دل میں بن گئی ہو۔ شیخ سعدی نے کہا تھا!
بعد از وفات تربتِ ما در زمیں مجو
در سینہ ھائے مردمِ عارف مزارِ ماست
اِن مردمِ عارف میں سید عارف بھی شامل ہیں۔سید عارف کو میں ہمیشہ سید الشعرا کہہ کر پکارتا تھا۔ وہ عصرِ حاضر کے ایک صاحبِ طرز شاعر تھے۔ انہیں نظم اور غزل پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ ان کی شاعری سادہ و سلیس، رواں اور مترنم تھی۔ میری ان سے چالیس سالہ رفاقت تھی۔ میں جب گورڈن کالج راولپنڈی میں انگریزی ادب کا پروفیسر تھا وہ روزنامہ جنگ راولپنڈی میں سب ایڈیٹر اور ادبی صفحہ کے انچارج تھے۔ میں آج بھی ان کی روحِ پرفتوح کا شکر گذار ہوں کہ وہ میرا کلام اور مجھ پر لکھے گئے مضامین بھی شائع کرتے رہے۔ان کی یاد میں با چشمِ نم صفح قرطاس پر چند حروفِ درد لکھ رہا ہوں۔ وہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے مشاعروں کی جان تھے۔ وہ میں سیالکوٹ میں قصبہ کامونکی میں پیدا ہوئے۔آپ ایک مخلص انسان تھے۔ ایک دفعہ میں نے ان کے اخلاص کی تعریف کی تو آہ ِ سرد بھر کے اپنا یہ شعر سنایا!
اِتنے مخلص بھی نہ بن جا کہ پچھتانا پڑے
لوگ اخلاص کو ٹھکرا بھی دیا کرتے ہیں۔
یہ شعر ضمیرِ عصرِ حاضر، تہذیبِ نو اور خود غرضی کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔ ان کی سرشت میں مہر و وفا، انسانیت ، محبت، شرافت، حق گوئی اور مروت تھی۔ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا He was a positive person and a thorough gentleman
وہ ادب میں حلقہ بندی، منافرت، منافقت اور سازشوں سے کوسوں دور ایک جنوئین ( Genuine) شاعر تھے۔ عاجزی اور انکساری ان کا طر امتیاز تھا۔ ایامِ جوانی میں ایک دفعہ میں نے ان سے کہا سیدی اللہ نے آپ کو قوتِ وجدان اور الہامی شعری صلاحیت سے نوازا ہے، رومانی شاعری کے علاوہ قوم کو کوئی انقلابی اور انسانی پیغام بھی دیں میری بات سن کر سیدی نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لگایا اور کہا لوگوں نے خدا کے پیغام پر عمل نہیں کیا میرے پیغام پر کیا عمل کریں گے۔ جس سادگی سے سید عارف نے یہ فقرہ کہا میں نے زور دار قہقہہ لگایا۔ لیکن مجھے قومِ ثمود و قومِ عاد کے واقعات یاد آ گئے اور میری زبان سے ان الانسان لفی خسرا جاری ہو گیا۔آپ کی پیاری بیٹی شازیہ باورچی خانہ میں آگ بھڑکنے سے جھلس گئی اور اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اس حادثہ نے سید عارف کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ اس کی موت پر آپ نے ایسی دردناک نظمیں لکھیں جنہیں پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ شازیہ کی قبر کے کتبہ پر وہ نظم شازیہ کی رخصتی کے عنوان سے کندہ ہے۔ نیو کٹاریاں راولپنڈی میں میرے والدین مدفون ہیں۔ میں جب بھی ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے جاتا ہوں تو شازیہ کی قبر پر بھی بچشمِ نم اور با دلِ سوختہ فاتحہ پڑھتا ہوں۔ میں سید عارف کی خوشی کو اپنی خوشی اور ان کے غم کو اپنا غم سمجھتا ہوں۔ چند سال قبل کی بات ہے میں نیویارک میں مقیم تھا۔ سید عارف کی ایک بیٹی کی شادی ان کے بھانجے امجد کے بیٹے سے ہوئی۔ امجد نے اصرار کیا کہ وہ نیویارک تشریف لائیں اور دعوتِ ولیمہ میں شرکت کریں ۔ انہوں نے کہا امریکہ میں مقصود جعفری کے ہوتے ہوئے میری ضرورت نہیں ہے۔ وہ بھی اس کے باپ کا درجہ رکھتا ہے ۔ دعوتِ ولیمہ میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ امجد نے مجھے کہا کہ سید عارف کی نمائندگی کرتے ہوئے حاضرین سے خطاب کروں۔ میں نے ان کی فرمائش پر مختصر تقریر کی اور احباب کو سید عارف کی شخصیت اور شاعری سے روشناس کرایا۔
بحیثیت شاعر سید عارف نے رومانی شاعری کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار، آزادی اور انقلاب جسے موضوعات پر بڑی جاندار شاعری کی ہے۔ زندگی کے آخری ایام میں وہ باغیانہ شاعری کرنے لگے ۔ سید ضمیر جعفری، احمد فراز، افتخار عارف ، محسن بھوپالی اور پروین شاکر نے ان کی شاعری کی تعریف کی اور ان کی کتابوں دیباچے لکھے۔ سید عارف کے پانچ شعری مجموعے ان کی زندگی میں شائع ہوئے تھے۔ نغم غم لہو کی فصلیں، زخم بھرتے نہیں، عکس میری وجود کے ، اور ہم دئیے جلاتے ہیں۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے میرے دو شعری مجموعوں اوجِ دار اور جبرِ مسلسل کے دیباچے لکھے۔
سید عارف کی پہلی کتاب نغم غم تھی۔ میر تقی میر اور فانی بدایونی کے غم کے سائے کتاب پر چھایا نظر آتے ہیں۔ گویا انگریز شاعر جان کیٹس کی نظم Ode to Melancholy
ہی سید عارف کا نغم غم ہے۔ لہو کی فصلیں ایک طویل مسدس ہے۔پہلا حصہ داستانِ کشمیر اور دوسرا حصہ قائدِ اعظم کی بے لوث اور باوقار قیادت پر مبنی ہے۔ جب یہ کتاب شائع ہوئی اس وقت میں وزیرِ اعظم آزاد کشمیر سردار محمد عبدالقیوم کا مشیر تھا۔ میری سفارش پر مسل کشمیر کو اجاگر کرنے پر وزیرِ اعظم نے انہیں انعام دیا تھا۔ زخم بھرتے نہیں ، ہم دئیے جلاتے رہیں اور عکس مرے وجود کے میں غزلیات اور نظمیں ہیں۔
ہم دئیے جلاتے رہیں کے سر ورق پر سید عارف کا یہ شعر مرقوم ہے
لوحِ وقت پہ دیکھیں کس کا نام رہتا ہے
تم دیئے بجھاتے ہو، ہم دئیے جلاتے ہیں
سید عارف کا یہ شعر شہرتِ دوامی حاصل کر چکا ہے
تو قد و قامت سے شخصیت کا اندازہ نہ کر
جتنے اونچے پیڑ تھے، اتنا گھنا سایہ نہ تھا
سید عارف کی غزل روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ فطری شاعری ہے۔ جدت کے نام پر بدعت نہیں۔ ہیئت کے تجربوں کے جنوں میں حرفِ فسوں نہیں۔ ایک غزل کے دو شعر سنیے اور سر دھنیے ۔ کہتے ہیں
ہم تری بزم میں اے کاش نہ لائے جاتے
حشر سے پہلے نہ یہ حشر اٹھائے جاتے
آدمی بن کے خسارے میں رہے ہیں جاناں
پھول ہوتے تری زلفوں میں سجائے جاتے
آپ کی غزلیات کیف و کیفیت سے لبریز، باد تبریز اور فکر انگیز ہیں۔
زخم بھرتے نہیں میں متعدد منظومات ہیں جن۔ میں نئی تاریخ لکھنی ہے، آئینے کا بدن، لہو کا حصار، زندگی، نئی کربلا، اور ارضِ فلسطین احتجاجی، انقلابی اور مزاحمتی نظمیں ہیں۔ چند دلدوز نظمیں ان کی بیٹی شازیہ پر ہیں جو حادثاتی مرگ کا شکار ہوئی تھیں۔ کتاب کا آخری حصہ اشکِ خوناب کے عنوان سے ہے جس میں مرحومہ بیٹی شازیہ پر چند دلخراش نظمیں ہیں اور یہ شعر مرقوم ہے
جس کو اٹھارہ برس گود میں رکھا جائے
کتنا مشکل ہے اسے گور کے اندر رکھنا
سید عارف شازیہ کا غم لئے دنیا سے تو رخصت ہو گئے لیکن احباب کو بھی غم زدہ کر گئے۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ حافظ شیرازہ نے ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا تھا
ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جرید عالم دوامِ ما
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here