اقتدار نہیں، امانت: دیانت ،خدمت خلق ،اسلامی تہذیب وتمدن اور اخلاقی قدریں جماعت اسلامی کا ضابط اخلاق ہے۔ اسکا منشور ہے۔ نظام کی تبدیلی اسکا الوطن ہے۔ یہ محض ایک اعلان نہیں، یہ اعلانِ بغاوت ہیاس فرسودہ، بدبودار اور خود غرض سیاست کے خلاف جو اقتدار کو مراعات، دولت اور شاہانہ طرزِ زندگی کا زینہ سمجھتی ہے۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہم شخصیت پرست ہیں۔ مذہبی اور سیاسی شخصیت پرستی نے سیاسی ماحول کو پروان نہیں چڑھنے دیا۔ بحثیت قوم ہمیں شخصیت پرستی کے چنگل سے نکل کر وطن پرستی کیطرف آنا ھوگا۔ اس متعفن ،بدبودار، گلے سڑے نظام سے چھٹکارا حاصل کرناھوگا۔ ملک پر پانچ فیصد بدمعاشیہ مسلط ہے۔ پچانوے فیصد طبقہ ان جانوروں کے رحم وکرم پر ہے۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں ملک اور عوام کو مختلف اکائیوں میں تقسیم کیا گیا۔ جن کی قبر میں ٹانگیں ہیں۔ یا جنہیں جیلوں میں ھونا چاہئے ۔ وہ اقتدار کی مسند پر بیٹھے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کے مالشیے حکومت چلا رہے ہیں۔ جنہوں نے کراچی میں ہزاروں قتل کیے ہیں انہیں بیس سیٹیں دیکر وزارتوں میں بٹھا دیا گیا ہے۔ جنہوں نے سندھ کو برباد کیا انہیں صدر بنادیا گیا۔ جنہوں نے ملک لوٹا انہیں وزات عظمی کی کرسی فراہم کردی گئی۔ ایم کیو ایم کے قاتلوں قاتلوں کو دوبارہ طاقت فراہم کی جارہی ہے۔ جنہوں نے گزشتہ تیس سال اقتدار میں رہے اور کراچی کو کھنڈر میں تبدیل کیا۔ جماعت اسلامی کراچی میں اپنے محدود وسائل میں شہر کی تعمیر کررہی ہے۔ نوجوانوں کے لئے آئی ٹی پروگرامز، سپورٹس کے میدانوں کی فراہمی ، کم پڑھے لکھے افراد کے لئے پلمبنگ، کارپینٹری،الیکٹریشن ، میسن ،کنسٹرکشن جیسے ہنر مند فرد تیار کررہی ہے۔ جو اپنا روزگار کماسکیں ۔ ملک میں ایک بھی ایسی جماعت نہیں جو عوام کا سوچتی ھو۔ عوام کی بہبود کا فکر کرتی ھو۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ملک میں سیلاب ھو جماعت اسلامی خدمت گار خاضر۔ کرونا ھو جماعت اسلامی خدمت میں پیش پیش۔ زلزلہ آئے جماعت اسلامی کے رضاکار خاضر۔ نوجوانوں نسل کو آجی ٹی کی مفت تعلیم ھو جماعت اسلامی خاضر ۔ اسکے برعکس پانامہ لیک ھو ان پارٹیوں کے نام ۔ توشہ خانہ ھو انکی کرپشن ۔ جو لوگ توشہ خانہ کی خفاظت نہ کرسکیں وہ آپکی کیا خدمت کرینگے۔ عوام الناس کو ایماندار، صاف ستھری ،کرپشن سے پاک قیادت چاہئے جو انکے معاملات کی امین ھو ۔ وہ صرف جماعت اسلامی ہی ہے۔ جماعت اسلامی ایسا ضابط اخلاق جاری کر دیا ہے جس نے جنوبی ایشیا ہی نہیں، پوری دنیا کی نام نہاد جمہوری سیاست کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ڈاکٹر سید عبداللہ محمدطاہر، سابق رکنِ پارلیمنٹ اور نائب امیر و صدر سیاسی کمیٹی جماعت اسلامی بنگلادیش، کی جانب سے جاری کردہ ضابط اخلاق کے مطابق جماعت اسلامی کیمنتخب اراکینِ پارلیمنٹ سرکاری پلاٹ، ٹیکس فری گاڑیاں اور کسی بھی قسم کی اضافی مراعات قبول نہیں کریں گے۔ مزید یہ کہ منتخب ہونے کے بعد ان کا معیارِ زندگی وہی رہے گا جو حلف اٹھانے سے پہلے تھا۔ یہ جملہ محض الفاظ نہیں، ایک پورا فکری، اخلاقی اور عملی نظام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پورے یقین، دلیل اور شعور کے ساتھ کہتے ہیں: حل صرف جماعت اسلامی ہے، اخلاقی محاذ پر سیاست بطور عبادت۔ جماعت اسلامی کی سیاست کی بنیاد اخلاق ہے۔ سیاست عبادت ہے، تجارت نہیں۔ اقتدار ذاتی مفاد نہیں، امانت ہے۔ جب ایک سیاسی جماعت اپنے نمائندوں کو یہ پابند کرے کہ وہ اقتدار میں جا کر بھی عوام جیسے رہیں گے، تو یہ محض اخلاقی برتری نہیں بلکہ اخلاقی انقلاب ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھتے ہی سیاستدان کیسے بدل جاتے ہیںرہائش، سواری، لباس، لہجہ، حتی کہ ضمیر بھی۔ جماعت اسلامی نے اس تبدیلی پر بند باندھ دیا ہے۔ یہ اعلان کر دیا ہے کہ اقتدار کردار نہیں بدلے گا۔ جماعت اسلامی کی سیاست مفادات کے گرد نہیں، نظریے کے گرد گھومتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اقتدار میں جا کر بھی اپنی صفوں میں احتساب کو زندہ رکھنے کا کہتی ہے۔ ضابط اخلاق دراصل اس بات کی ضمانت ہے کہ سیاست اصولوں پر ہوگی، سمجھوتوں پر نہیں۔ یہ وہ سیاست ہے جو نہ خاندانوں کی جاگیر ہے، نہ سرمایہ داروں کی لونڈی، نہ بیرونی طاقتوں کی غلام۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی ہر دور میں دبا، تشدد، پابندیوں اور قربانیوں کے باوجود اپنے مقف پر قائم رہی۔ سفارتی محاذ: وقار، خودداری اور اصول اسکا خاصہ ہے۔ جو قیادت اپنے ملک میں سادہ، دیانت دار اور عوامی ہو، وہی عالمی سطح پر باوقار سفارت کاری کر سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کا ضابط اخلاق عالمی برادری کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان میں ایک ایسی سیاسی قوت موجود ہے جو وقار، خودداری اور اصولوں کے ساتھ دنیا سے بات کر سکتی ہے، نہ کہ امداد کے عوض خاموشی اختیار کرنے والی اشرافیہ کی طرح۔ پارلیمانی، جمہوری اور دستوری محاذ جماعت اسلامی جمہوریت کو نعرہ نہیں، ذمہ داری سمجھتی ہے۔ پارلیمنٹ کو ذاتی مفادات کی منڈی نہیں بلکہ عوام کی امانت تصور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کو مراعات سے دور رکھ کر انہیں عوام کے قریب رکھنا چاہتی ہے۔ یہ ضابط اخلاق دراصل آئین، قانون اور جمہوریت کی روح کی حفاظت ہیکیونکہ جب نمائندہ عوام جیسا ہوگا، تو قانون سازی بھی عوامی مفاد میں ہوگی۔ عوامی طرزِ زندگی اور عوامی حکمرانی-جماعت اسلامی کا تصورِ حکمرانی سادہ مگر مضبوط ہے:حکمران عوام سے الگ نہیں، عوام میں سے ہوں گے۔ جب ممبر پارلیمنٹ، وزیر یا لیڈر عام آدمی کی طرح زندگی گزارے گا تو وہ عوام کے دکھ، مسائل اور ضروریات کو بہتر سمجھ سکے گا۔ یہی حقیقی عوامی حکمرانی ہے، یہی اسلامی طرزِ سیاست ہے۔ کردار، کریکٹر، عمل، دیانت اور خدمت یہ پانچ ستون جماعت اسلامی کی سیاست کی بنیاد ہیں۔ کردار بغیر کریکٹر کے کھوکھلا ہے، عمل بغیر دیانت کے دھوکہ ہے، اور اقتدار بغیر خدمت کے ظلم۔ جماعت اسلامی نے اپنے ضابط اخلاق کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اقتدار کے لیے نہیں، اصلاحِ نظام کے لیے میدان میں ہے جب سیاست سے مراعات چھین لی جائیں، جب اقتدار سے تکبر نکال دیا جائے، جب حکمران عوام جیسے ہو جائیں، تو پھر انقلاب نعرہ نہیں بنتا، حقیقت بن جاتا ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس کا حل صرف جماعت اسلامی ہے۔ ملک میں جتنی بھی مذہبی یا سیاسی جماعتیں ہیں۔ ان سب سے بہتر جماعت اسلامی ہے۔ حق کے متلاشیوں کو فرقہ واریت، نفرت اور موجودہ ظلم کے نظام سے نکال کر نظام مصطفوی کی طرف لانا چاہتی ہے۔ روایتی سیاسی گند اور متعفن کلچر سے نکال کر قرآن و سنت کے آفاقی نظام کی طرف لانا چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش ھو یا جماعت اسلامی پاکستان ۔ قربانیوں کی ہزاروں داستانیں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اسلامی نظریہ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ نہ کبھی ڈکٹیڑوں کے سامنے جھکی ہے اور نہ بیرونی آقاں کی تنخواہ دار رہی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر نعیم الرحمن نے عوام کو تعلیم ،صحت ،آئی ٹی اور خدمت خلق کے لئے نوجوانوں کو متحرک کیا ہے۔ اب موجودہ ظالمانہ نظام کے خلاف عوام الناس کو بیدار کرناہے ہی ۔ جماعت اسلامی اقتدار میں جا کر بھی اپنی صفوں میں احتساب کو زندہ رکھتی ہے۔ جماعت کا یہ ضابط اخلاق ہے جو دراصل اس بات کی ضمانت ہے کہ سیاست اصولوں پر ہوگی، سمجھوتوں پر نہیں۔ یہ وہ سیاست ہے جو نہ خاندانوں کی جاگیر ہے، نہ سرمایہ داروں کی لونڈی، نہ بیرونی طاقتوں کی غلام۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی ہر دور میں دبا، تشدد، پابندیوں اور قربانیوں کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہی۔ سفارتی محاذ: وقار، خودداری اور اصول ! جو قیادت اپنے ملک میں سادہ، دیانت دار اور عوامی ہو، وہی عالمی سطح پر باوقار سفارت کاری کر سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کا ضابط اخلاق عالمی برادری کو یہ پیغام دیتا ہے کہ بنگلادیش میں ایک ایسی سیاسی قوت موجود ہے جو وقار، خودداری اور اصولوں کے ساتھ دنیا سے بات کر سکتی ہے، نہ کہ امداد کے عوض خاموشی اختیار کرنے والی اشرافیہ کی طرح۔ پارلیمانی، جمہوری اور دستوری محاذ! جماعت اسلامی جمہوریت کو نعرہ نہیں، ذمہ داری سمجھتی ہے۔ پارلیمنٹ کو ذاتی مفادات کی منڈی نہیں بلکہ عوام کی امانت تصور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کو مراعات سے دور رکھ کر انہیں عوام کے قریب رکھنا چاہتی ہے۔ یہ ضابط اخلاق دراصل آئین، قانون اور جمہوریت کی روح کی حفاظت ہیکیونکہ جب نمائندہ عوام جیسا ہوگا، تو قانون سازی بھی عوامی مفاد میں ہوگی۔ عوامی طرزِ زندگی اور عوامی حکمرانی۔ جماعت اسلامی کا تصورِ حکمرانی سادہ مگر مضبوط ہے:حکمران عوام سے الگ نہیں، عوام میں سے ہوں گے۔ جب ممبر پارلیمنٹ، وزیر یا لیڈر عام آدمی کی طرح زندگی گزارے گا تو وہ عوام کے دکھ، مسائل اور ضروریات کو بہتر سمجھ سکے گا۔ یہی حقیقی عوامی حکمرانی ہے، یہی اسلامی طرزِ سیاست ہے۔ کردار، کریکٹر، عمل، دیانت اور خدمت! یہ پانچ ستون جماعت اسلامی کی سیاست کی بنیاد ہیں۔ کردار بغیر کریکٹر کے کھوکھلا ہے۔ عمل بغیر دیانت کے دھوکہ ہے۔ اور اقتدار بغیر خدمت کے ظلم۔ جماعت اسلامی نے اپنے ضابط اخلاق کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اقتدار کے لیے نہیں، اصلاحِ نظام کے لیے میدان میں ہے۔ جب سیاست سے مراعات چھین لی جائیں، جب اقتدار سے تکبر نکال دیا جائے، جب حکمران عوام جیسے ہو جائیں، تو پھر انقلاب نعرہ نہیں بنتا، حقیقت بن جاتا ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں حل صرف جماعت اسلامی ہے۔
٭٭٭













