”Might is Right”

0
9

”Might is Right”

امریکہ کا وینزویلا پر حملہ اور وہاں کے صدر کو اہلیہ سمیت گرفتار کر کے امریکہ لانے کے واقعے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، ٹرمپ کی جارحانہ حکمت عملی اب صرف امریکہ تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر تک پھیل چکی ہے ، ٹرمپ نے اس وقت ”مائٹ از رائٹ” کی نئی مثال قائم کر دی ہے ، ٹرمپ کا جارحانہ اقدام اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، او آئی سی، عالمی عدالت سمیت دیگر عالمی اداروں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے، چین اور روس جیسی عالمی طاقتیں بھی امریکہ کی اس جارحانہ کارروائی پر خاموش تماشائی بنی رہی ہیں ، دونوں ممالک نے صرف زبانی مذمت پر اکتفا کیا ہے جبکہ امریکہ نے صرف کچھ ہی گھنٹوں میں دنیا کے معدنی ذخائر سے مالا مال ملک پر قبضہ کر لیا ہے ، اس وقت اقوا م متحدہ، سلامتی کونسل سمیت کوئی ادارہ امریکہ کو یہ اقدام واپس لینے پر مجبور نہیں کر سکتا ہے ۔وینزویلا میں 2026 کے آغاز میں پیش آنے والے ڈرامائی واقعات اور پھر امریکہ میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بعد یہ سوالات اْٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا وینزویلا کے صدر کے خلاف آپریشن کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائی کسی قانون کے دائرے میں تھی یا نہیں۔مادورو اور اْن کی اہلیہ کو ہتھیاروں اور منشیات کی سمگلنگ کے الزامات کا سامنا ہے،وینزویلا میں 2026 کے آغاز میں پیش آنے والے ڈرامائی واقعات اور پھر امریکہ میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بعد یہ سوالات اْٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا وینزویلا کے صدر کے خلاف آپریشن کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائی کسی قانون کے دائرے میں تھی یا نہیں۔مادورو اور اْن کی اہلیہ کو ہتھیاروں اور منشیات کی سمگلنگ کے الزامات کا سامنا ہے اور اْنھیں پیر کو امریکی عدالت میں پیش کیا جائے گا اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو پھر مادورو اور اْن کی اہلیہ کو کئی برس قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ماضی میں کئی مواقع پر مادورو منشیات کا کارٹیل چلانے کی تردید کرتے ہوئے امریکہ پرالزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ منشیات کے الزامات کی آڑ میں وینزویلا کے تیل کے ذخائر ہتھیانا چاہتا ہے۔عالمی قوانین کسی بھی ملک کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی ممانعت کرتے ہیں جب تک کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل حق دفاع کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی منظوری نہ دے۔وینزویلا پر امریکی حملوں اور مادورو کی گرفتاری کے چند گھنٹوں کے اندر، ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے اس کارروائی کو جائز قرار دینے کے لیے اس کے لیے مجرمانہ الزامات کی بنیاد پیش کی۔ اس کارروائی کو ملکی قانون کے نفاذ کے معاملے کے طور پر پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ ‘منشیات سے متعلقہ دہشت گردی’ کے خلاف اپنے دفاع کے طور پر کی گئی۔ یہ معاملہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ بن سکتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ ‘وار پاورز ریزولوشن’ یعنی ‘حالتِ جنگ میں اختیارات کی قرارداد’ کی مدد بھی لے سکتی ہے، جو صدر کو 60 دن تک قلیل مدتی فوجی کارروائی شروع کرنے کی اجازت اور انخلا کے لیے مزید 30 دن دیتی ہے اور اس کے لیے کانگریس کی پیشگی منظوری درکار نہیں بشرطیکہ اسے 48 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے۔اس فریم ورک کے تحت، صدر کو بغیر کانگریس کو پیشگی اطلاع دیے، وینزویلا پر حملے کے قانونی اختیار کا دعویٰ کرنے کی اجازت ہے تاہم، امریکی قانون ساز اب بھی دو جماعتی بنیادوں پر مزید فوجی کارروائی کو محدود یا ختم کرنے کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں ووٹنگ متوقع ہے۔اب بظاہر اگلا قدم یہ ہے کہ مادورو کو وینزویلا سے امریکہ لانے کے متنازع اور طریقے کچھ بھی تھے، ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔امریکی عدالتیں نام نہاد کیرفریزبی اصول پر عمل کرتی ہیں، جس کے تحت اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کسی مشتبہ شخص کو عدالت میں کس طریقے سے پیش کیا گیا۔ چاہے وہ غیر قانونی مسلح مداخلت کے ذریعے لایا گیا ہو یا اغوا کے بعد، عدالت مقدمہ چلا سکتی ہے بشرطیکہ ملزم کو شدید تشدد کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو اگر امریکہ کو وینزویلا میں اپنے اقدامات کے نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑا تو اس کے دیگر ابھرتے ہوئے عالمی تنازعات کے لیے بہت سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب اقوام متحدہ کی بین الاقوامی سطح پر کسی قسم کے قواعد پر مبنی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی صلاحیت کو واضح طور پر چیلنج کیا جا رہا ہے۔امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا میں اچانک کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے غیر متوقع طور پر مشہور ٹی وی سیریز جیک رائن کے سیزن 2 کے ایک منظر کو دوبارہ خبروں کی زینت بنا دیا۔مذکورہ سیزن کا 6 سال پرانا ویڈیو کلپ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک بار پھر اس قدر وائرل ہو چکا ہے کہ ناظرین اسے آج کی جغرافیائی سیاسی صورتحال سے حیران کن حد تک مشابہ قرار دے رہے ہیں۔وینزویلا کی حکومت کے خاتمے کے بعد انٹرنیٹ صارفین نے 2019 میں ریلیز ہونے والی ٹام کلینسی کی سیریز جیک رائن کے سیزن 2 کو دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا، جس کی وجہ یہ ہے کہ سیریز میں دکھایا گیا منظر محض اندازہ نہیں بلکہ حالیہ امریکی کارروائی کا مکمل خاکہ معلوم ہوتا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here