پرانی کہاوت ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس !!!

0
11
کامل احمر

1962 میں کیوبا میزائل بحران 13 دن تک جاری رہا جب امریکہ نے دریافت کیا کہ روس نے کیوبا میں اپنے میزائل جمع کرنا شروع کردیئے ہیں۔ اس وقت تک دنیا بڑے سکون سے تھی اور امریکی صدر جان ایف کینڈی نے فوری طور پر کانگریس اور سینیٹ سے مل کر فیصلہ کیا اور روس کو وارننگ دے دی کہ نتیجہ میں جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا یہ خبر 13 دن تک چلتی رہی بالآخر روس نے ہتھیار ڈال دیئے اور چلا گیا لیکن کیوبا کے ساتھ مراسم برقرار رہے اس وقت خرو شیف تھا۔ اور امریکہ میں عوام یا ملک کو کوئی پریشانی درکار نہ تھی۔ ایک ایسا معاشرہ تھا کہ جہاں آتے ہی ہمیں سکون اور خوشی ملی اندازہ کیجئے۔ ہم نے اپنے ماموں کو انڈیا میں خط لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی مسلمان ملک میں اٰگئے ہیں جہاں نہ کوئی جھوٹ بولتا ہے نہ کم تولتا ہے پڑوسی کی مدد کرتا ہے ہر کوئی بوڑھے لوگوں کو سڑک کراس کراتا ہے۔ اخبار دوکان کے باہر ہوتے ہیں وہاں ایک ڈبہ رکھ دیا جاتا ہے اخبار اٹھائو اور پیسے ڈال دو۔ دوکانیں کھلی ہوتی ہیں اگر مالک اندر ہو وغیرہ وغیرہ ماموں نے حیران ہو کر لکھا تو کیا اتنے مسلمان ہیں وہاں یہ بات ہے 1972 کی جب صدر نکسن تھے اور ان پر واٹر گیٹ کا کیس چل رہا تھا۔ اور ویٹ نام میں کمیونزم کو روکنے کے لئے جنگ جاری تھی اور نوجوان کو رجسٹرڈ کرانے کا حکم تھا ان کی مرضی کے بغیر یہ جنگ 1975 تک رہی اور شمالی ویت نام کی جنوبی ویٹ نام پر فتح کے بعد ختم ہوگئی اس وقت کی ویت نام جنگ اور اسکے امریکہ پر اثرات کے پس منظر ایک فلم بینی تھی DEER HUNTER (ہرن کا شکاری) کے نام سے فلم دیکھ کر آپ کو رونا آسکتا ہے اب شاید نہ آئے کہ غزہ میں جو اندھا دھند، فلسطینیوں کو مارا جارہا ہے کہ سارا غزہ کھنڈر بن گیا ہے اور اب اسکی صفائی ہو رہی ہے۔ چند ہفتوں بعد نقشے کے مطابق عمارتیں کھڑی ہونا شروع ہونگی جن پر نتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے داماد کا قبضہ ہوگا۔ ویت نام کی جنگ میں جو نوجوان امریکن مارے گئے تھے انکی یادگار قبریں جگہ جگہ پر ریاست میں دیکھنے کو ملینگی۔ یہ جنگ بھی کسی تیل کے ذخیرے یا ایمپائز بڑھانے کے لئے نہیں تھی اور نہ ہی ہتھیار بیچنے کے لئے تھی۔
لیکن آج کا امریکہ، جنگ، جنگ اور قبضہ قبضہ کے کھیل میں مصروف ہے امریکہ گریٹ کا نعرہ لگا کر پچھلے کئی سالوں سے یہ نعرہ صدر ٹرمپ لگا رہے ہیں لیکن امریکن کی نظر میں امریکہ گریٹ نہیں بن رہا۔ ملک کی معاشی پالیسی بری طرح فلاپ ہے۔COVID-19 کے بعد امید تھی کہ صدر ٹرمپ آکر معیشت پر دھیان دینگے۔ اور وعدہ پورا کرینگے لیکن اس کے برعکس ہو رہا ہے اور ایک سال سے وہ سوائے زبانی جم خرچ کے کچھ اور نہیں کر رہے کہ امریکن کو کوئی مالی فائدہ ہو۔
حال ہی میں انہوں نے امریکہ کے لئے نیا فرنٹ کھول دیا ہے اور وہ ہے وینزویلا پچھلے کئی ماہ وارننگ دی جارہی تھی وہاں کے صدر نکولس مدارو کو کہ وہ صدارت چھوڑ دیں اور امریکہ میں ڈرگ بھیجنا بند کردیں۔ مدارو کا کہنا تھا بات چیت کریں امریکہ نے کہا وقت نکل گیا اور بحری بیڑے لگا دیئے۔ پہلے تین کشتیوں پر ڈروں مار کر ختم کیا اور پھر چین اور کیوبا کو تیل لے جانے والے جہازوں پر قبضہ کرلیا۔ چین کا وینزویلا سے معاہدہ تھا اور روس کا بھی جب روس کے ساتھ مدارو نے 25 سالہ پیکٹ کیا اور جنگی مشقیں شروع کیں تو امریکہ نے آخری وارننگ دی۔ امریکہ کو شاید خدشہ ہوا کہ روس میزائل کے زمانے میں ہے جو اس نے کینڈی کے دور میں کیا تھا اور اب ضروری ہے کہ مدارو کو سبق سکھایا جائے۔ اور کچھ دن پہلے رات کی تاریکی میں پلان بنا کر مدارو کی رہائش گاہ کی چھت پر اتر گئے اور اُسے اسکی بیوی کے ساتھ پکڑ کر نیویارک لے آئے جہاں کورٹ میں انکی شنوائی ہوگی، مقدمہ چلے گا، امریکہ میں ڈرگ اسمگل کرنے کا اور دونوں میاں بیوی کو کئی کئی سالوں کی سزا ہوگی یاد ہوگا اس سے پہلے صدر جارج بش نے پانامہ کے مینوئل نوریگا کے ساتھ بھی ایسا کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ نوریگا اور صدر بش کا ذاتی تنازعہ تھا لیکن الزام یہ ہی تھا ملک میں ڈرگ لانے کا مدارو پر امریکہ نے 50 ملین ڈالر کا انعام بھی رکھا تھا۔ جس پر صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں ہلکے سے کسی سے کہا کہ خیال رہے۔ 50 ملین ڈالر کسی اور کو نہیں دینا ہیں۔
کچھ بھی کہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں کہ کسی ملک میں جا کر وہاں کے صدر اور اسکی بیوی کو اغواء کیا گیا ہے۔ نیویارک کے نئے میئر، ممدانی نے اپنا احتجاج صدر ٹرمپ کو رجسٹر کرایا ہے ابھی تک دو اور سینیٹرز اور کانگریس مین نے بھی صدر ٹرمپ کی اس طاقت کے استعمال کو غلط کہا ہے۔
ابھی شروعات ہیں۔ اور امریکہ سے دوسرے ممالک تک جہاں اسپین کی زبان بولی جاتی ہے امریکہ کے حق میں نعرے لگائے ہیں لیکن وہائٹ ہائوس کے سامنے امریکنز جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں اسکی وجہ یہ رہی 2013 کے بعد سے کہ وینزویلا پاکستان کی طرح، زرداری، شریفوں اور اب عاصم منیر کے علاوہ دوسرے بااثر لیٹروں کے قبضے میں رہا ہے اس وقت وینزویلا کے پاس 303بلین بیرل آئل کا ذخیرہ ہے جو دنیا کے مقابلے میں ایک پانچ ہے یعنی 1/5 لیکن بدانتظامی یا کرپشن کی وجہ سے وہاں کے عوام غربت کا شکار ہیں۔
وینزویلا سے پہلے امریکہ نے، عراق، لیبیا کے ساتھ ایسا کیا ہے مڈل ایسٹ اور سعودی عربیہ کو قابو میں لیا ہے۔ مختصر یہ کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے آئل کی وجہ سے ہے آج یعنی 5 جنوری کے دن سکیورٹی کونسل کی ایمرجنسی میٹنگ ہے کولمبیا کے کہنے پر اور روس اور چین اس کے پیچھے ہیں امریکہ کے ملٹری ایکشن کے خلاف جو وینزویلا مر کیا ہے سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں امریکہ کے علاوہ، چین، روس کولمبیا، لائبیریا، پانامہ، لٹویا، فرانس، گریک، وینزویلا، ایران، چلی میکسیکو پیراگوائے، نکارگوا، سائوتھ افریقہ، یوگنڈا اور دوسری بار کیوبا نے امریکہ کے خلاف دھواں دار تقاریر کیں۔ اور میٹنگ برخاست ہوگئی بغیر کسی حل کے ایسا ہوتا ہے اور اگر حل ہوتا بھی تو امریکہ کے پاس ویٹو پاور ہے اس بارے میں سب سے پہلے ناروے نے احتجاج کیا تھا امریکہ کی اس دست درازی پر جس کا اثر امریکہ پر ہونے والا نہیں۔ ایک بار جب وہ کوئی قدم اٹھاتا ہے یا کہتا ہے وہ پورا کر دکھاتا ہے سنا ہوگا سالوں سے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس، انگریزی میں MGHT IS RIGHT اور صدیوں کے بعد بڑے بوڑھوں کی بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا ہے کہ جب تک کوئی مناسب شخص نہیں ملتا، وینزویلا پر ہم حکومت کرینگے۔ ہمارے خیال میں کرتے رہینگے جیسے پاکستان کے جنرل ضیاء الحق مرحوم نے کہا تھا لیکن امریکہ کو ان کی کو ادا بری لگ گئی۔ صدر ٹرمپ نے کئی گیس کمپنیوں کو جن میںCHEVRON پہلے سے وہاں ہے۔ اب PHILIPS CONOCO.MOBILEXXON اور SHELL وہاں جانے کی تیاری میں ہے۔ بقول صدر ٹرمپ وہاں پر وہ جاکر اپنے اپنے حصے کا کام کرینگے ترتیب دینگے، زیادہ سے زیادہ آئل نکالینگے اور اپنی مرضی سے تیل بیجنگے۔
امریکہ کے عوام خوش نہ ہوں، ان ساری ہیرا پھیری سے امریکن کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا وہ قرضہ پر اپنی زندگی چلائینگے۔ معیشت ایسی ہی رہیگی جیسی تھرڈ ورلڈ ملکوں میں ہے کہ چوروں مہنگائی کرنے والوں کو صدر ٹرمپ نے چھٹی دے رکھی ہے جو چاہو کرو کہ مہنگائی بہت کم ہوگئی ہے سوائے گیس کے ساری چیزیں مہنگی ہوتی جارہی ہیں کئی سیاست دانوں کا کہنا ہے عوام سے حکومت جھوٹ بولتی ہے۔ اور 1% سے جھوٹ بلواتی ہے۔ ہم چاہینگے صدر ٹرمپ کسی دن بھیس بدل کر بازار میں جائیں اور خریدوفروخت کریں ڈیلر سے کار خریدیں، انشورنس کروائیں۔ مگر خریدیں اس کا انشورنس دیں، بجلی کا بل دیں پانی اور گھریلو گیس کا بل ادا کریں اور حساب لگائیں کتنا خرچہ ہوا ہاں مکان کا کرایہ اورMORTGAGE ادا کریں اُن کا دل چیخینے کو چاہے گا۔
کہ یہ دوسرے ملکوں کو سبق بعد میں سکھائیں وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی اڈریگز نے مدارو کی طرفداری کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ مدارو ستمبر سے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا۔ امن، امن، کوئی جنگ نہیں صدر ٹرمپ نے سن لی بڑے امن کے ساتھ بغیر جنگ کے اندر گھس کر اغوا کرکے لے آئے اور اسکی بیوی کو بھی ایک اور بات بھی ہے اب سب کا دھیان وینزویلا پر ہے۔ لیکن ان کا یار نتن یاہو اپنے کام میں لگا ہوا ہے غزا کو نئے نقشے کے تحت تعمیر کر رہا ہے اور ایران پر ایک ہی رات میں بمباری کرا چکا ہے دو دفعہ، کیا اب کیوبا امریکہ کا دوسرا ٹارگٹ ہے؟۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here