امریکہ کیساتھ جلد از جلد کسی معاہدے پر پہنچنے کو تیار ہیں: ایران

0
8

واشنگٹن(پاکستان نیوز)وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ایران کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ پہلے سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں مگر ضرورت پڑنے پر وہ طاقت کا استعمال کرنے کو بھی تیار ہیں۔کیرولائن نے مزید کہا کہ امریکہ نہ صرف اپنی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتا ہے بلکہ اس کا مقصد دنیا کا سب سے طاقتور ملک بننا بھی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اپنے لیے ایران کو خطرہ سمجھتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ: ‘ایران، امریکہ مردباد کا نعرہ لگاتا ہے، اب آپ خود ہی بتائیں کہ وہ خطرہ ہے یا نہیں۔’دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جو عمان کی ثالثی میں امریکہ سے ہونے والے مذاکرات میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں نے مذاکرات کے تیسرے دور سے قبل اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ اگر سفارتکاری کو ترجیح دی جائے تو معاہدہ جلد ہو سکتا ہے۔ خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جنیوا میں جمعرات کو شروع ہوگا۔ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ‘مذاکرات کے پہلے دو ادوار کی سمجھ بوجھ کی بنیاد پر ایران جنیوا میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا، اس عزم کے ساتھ کہ ایک منصفانہ اور متوازن معاہدہ کم سے کم وقت میں حاصل کیا جائے۔’ انھوں نے مزید لکھا کہ ‘ہمارے بنیادی تصورات بالکل واضح ہیں: ایران کسی بھی صورت میں کبھی ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا، اور ہم ایرانی کبھی بھی اپنی قوم کے لیے پْرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے ثمرات حاصل کرنے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔’ عباس عراقچی نے کہا کہ ‘ہمارے پاس ایک تاریخی موقع ہے کہ ایک بے مثال معاہدہ کیا جائے جو باہمی خدشات کو دور کرے اور مشترکہ مفادات کو یقینی بنائے۔ معاہدہ قریب ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘ہم نے ثابت کیا ہے کہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہی جرات ہم مذاکرات کی میز پر بھی لاتے ہیں، جہاں ہم ہر اختلاف کا پْرامن حل تلاش کریں گے۔’ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت ?روانچی نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے تیسرے دور سے قبل کہا ہے کہ تہران ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے پْر عزم ہے۔ خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جنیوا میں جمعرات کو شروع ہوگا۔ مجید تخت روانچی کا کہنا تھا کہ ‘ہم جلد از جلد کسی معاہدے پر پہنچنے کو تیار ہیں’ اور ‘ہم ایسا کرنے کے لیے جو ضروری ہوا کرنے کو بھی تیار ہیں۔’ خیال رہے امریکہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ ایران کے قریب خطے میں اپنا عسکری ساز و سامان بھی پہنچا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ خود واضح کر چکے ہیں کہ سفارتکاری کی ناکامی کی صورت میں وہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے کسی ممکنہ امریکی حملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ‘میری نظر میں یہ ایک جوا ہوگا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو، تاہم اگر ایسا ہوا تو ایران کے خلاف جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔’

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here