ریڈیو سحری ٹرانسمیشن !!!

0
29
عامر بیگ

ریڈیو کی سحری ٹرانسمیشن ہمارے گھر کی اس فضا میں ایک اور رنگ بھر دیتی تھی۔ ریڈیو پاکستان پشاور کی نشریات میں نذیر نیازی مرحوم کی پراثر آواز ایک روحانی کیفیت قائم کر دیتی تھی۔ ان کا اندازِ بیان، قاری فدا محمد کی رقت آمیز تلاوت ، نعتیہ اشعار اور میرے والد سید عبد الجبار(مرحوم)کی ترتیب و پیشکش،سب ایک ماحول بنا دیتا تھا اور پھر سحری کے اختتام کا اعلان یہ سب ہمارے لیے وقت کا پیمانہ بھی تھا اور کیفیت کا زینہ بھی ،اعلان سنتے ہی سب پانی کا آخری گھونٹ لیتے اور اذانِ فجر کی آواز کے ساتھ ماحول نور میں ڈھل جاتا، جیسے ریڈیو کی آواز نے گھر کے اندر عبادت کی فضا کو مکمل کر دیا ہو۔
اذان کے فورا بعد میری والدہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتیں اور تمام شور گویا خودبخود تھم جاتا۔ ان کی دعا میں گھر، خاندان، مرحومین اور پوری امت شامل ہوتی اور ہمیں محسوس ہوتا کہ اس لمحے قبولیت کے در ہمارے سامنے وا ہو رہے ہیں۔ ہمارے خاندان میں روزہ چھوڑنے کا کبھی تصور ہی نہ تھا اگر کبھی وقت کم رہ جاتا تو والد نرمی مگر تاکید کے ساتھ کہتے، کم از کم پانی کا ایک گھونٹ پی لو، نیت اور برکت کو ہاتھ سے نہ جانے دو یوں نیت، برکت اور استقامت ہمیں بچپن سے اس طرح سکھائی گئی کہ عبادت بوجھ نہیں، رحمت محسوس ہوتی تھی۔دن گزرتا تو شہر کا رنگ ایک بار پھر بدلنے لگتا، اور یوں لگتا کہ پشاور دن میں بھی رمضان کی چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ بازاروں میں افطار سے پہلے رونق اپنے عروج پر ہوتی؛ پکوڑوں کی خوشبو، فروٹ چاٹ کے رنگ، کھجوروں کی قطاریں، اچار ،شربتوں کے مرتبان اور سڑک کنارے سجے اجتماعی دسترخوان جہاں ہر خاص و عام بلا امتیاز بیٹھ سکتا تھا۔ افطار کا لمحہ ایک ایسی خوشی کا منظر بن جاتا جس میں پیاس کے بجھنے کے ساتھ شکر اور سکون کا ایک نیا ذائقہ شامل ہوتا، اور یوں شہر کے بازار بھی عبادت کے ماحول کا حصہ محسوس ہوتے تھے۔
ہمارے گھر میں افطار کا اہتمام باقاعدہ ایک منظم خدمت کی صورت اختیار کر لیتا تھا۔ دوپہر سے ہی امی تیاریوں میں مصروف ہو جاتیں، خاندانی ملازم اور مددگار بھرپور تعاون کرتے اور ہمارے وفادار ملازم حسین خان نظم و ضبط سنبھالتے۔ ایک طرف بڑی کڑاہی میں پکوڑے تل رہے ہوتے ،آلو، پیاز، پنیر، بینگن، مرچ اور پالک کے ،دوسری طرف دہی بھلے، چھولے، آلو کی چاٹ اور فروٹ چاٹ رنگ اور ذائقے کی بہار بکھیر رہے ہوتے،میں شربت بنانے کی ذمہ داری نبھاتی ،روح افزا کا دودھ والا شربت، لیموں کی شیکنجبین، اور دہی کی لسی، کبھی میٹھی کبھی نمکین، برف کی کھنک اور رنگ برنگے گلاس افطار کی خوشی کو اور بڑھا دیتے۔
اسی سرگرمی کے دوران ہمارے بھائی بھی گھر کی اس خیر میں شریک ہوتے۔ میرے بھائی عمدہ صاف ستھرے استری شدہ شلوارقمیض اور پشاوری چپل پہنے، حسین خان کے ساتھ سجی ہوئی ٹریز اٹھاتے اور پہلے تایا کے گھر پہنچاتے، پھر پڑوسیوں، دکانداروں ،مسجد اور تندور والوں تک یہی محبت بھرا پیغام لے جاتے۔ ان کے لباس، ان کی ترتیب اور ان کے چہروں کی سنجیدہ خوشی، سب مل کر اس بات کا اعلان ہوتے کہ افطار ہمارے ہاں محض گھریلو تقریب نہیں بلکہ رشتوں اور ذمہ داریوں کی اجتماعی ادائیگی ہے۔ اذان قریب ہوتی تو سب تیزی سے لوٹتے، اور دسترخوان پر بیٹھ کر پہلے کھجور سے روزہ کھولا جاتا، پھر شربت اور دیگر نعمتوں کی طرف ہاتھ بڑھتے، مگر دل میں پہلی ترجیح شکر کی رہتی۔
افطار کے بعد مساجد آباد ہو جاتیں تو یوں لگتا جیسے شہر کی نبض ایک بار پھر مدینہ کی طرف متوجہ ہو گئی ہو۔ مسجد مہابت خان کی صفوں میں تراویح کے لیے نمازیوں کی قطاریں دور تک پھیل جاتیں اور قرآنِ مجید کی آواز فضا میں گھل کر پرانی اینٹوں، محرابوں اور منبروں کو پھر سے تسبیح میں مصروف کر دیتی۔ ہر رکعت، ہر سجدہ، ہر دعا اس احساس کو گہرا کرتی کہ رمضان دراصل اندرونی صفائی اور اجتماعی تربیت کا نام ہے، اور تراویح اس تربیت کا اوج ہے جس میں تھکن بھی سکون بن جاتی ہے۔
اور پھر تراویح کے بعد شہر کا ایک اور روپ سامنے آ جاتا جو پشاور کے رمضان کی پہچان بن چکا تھا۔ گلیوں میں بڑی بڑی فلڈ لائٹ روشن ہو جاتیں، نوجوان لڑکے مسجد سے نکلنے کے بعد کرکٹ کے میدان میں اتر آتے۔ گیند کی آواز، بلے کی ٹک، دوڑتے قدموں کی تھپ تھپ اور قہقہوں کی گونج یہ سب سحری تک جاری رہتا۔ بزرگ کبھی چارپائیوں پر بیٹھ کر یہ منظر دیکھتے، کبھی پیار بھری نصیحت کر دیتے، یوں عبادت اور زندگی کی یہ ہم آہنگی رمضان کی راتوں کو مذید خوشگوار بنا دیتی ۔
سحری کی برکت، ریڈیو کی آواز، والد کی تربیت، والدہ کی محنت، بھائیوں کی ذمہ داری، ملازموں کی وفاداری، افطار کی سخاوت، تراویح کی نورانیت اور کرکٹ سحری تک جاری رہتی یہ سب مل کر ایک مکمل تصویر بناتی۔ رمضان ہمارے لیے محض ایک مہینہ نہ تھا، ایک تربیت تھا، ایک تہذیب تھا، ایک زندہ روایت تھی جسے ہم نے صرف دیکھا نہیں، اپنے گھروں، گلیوں، مسجدوں اور دلوں میں جیا تھا۔دعا ہے کہ اللہ پاک ہماری عبادات اور کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here