فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! امّ المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنھا کو اللہ تعالیٰ نے بڑی شانوں اور عظمتوں سے نوازا ہے۔ مئومنوں کی سب سے پہلی ماں اور حسنین کریمین کی نانی ہونے کا شرف آپ کے پاس ہے۔ آپ رضی اللہ عنھا کے فضائل ومناقب بے شمار ہیں۔ آپ رضی اللہ عنھا حضور نبی کریم علیہ الصّلواة والسّلام کی زوجہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مشیر بھی تھیں۔ ہر مشکل گھڑی میں حضورۖ کی دلجوئی کرتیں باقی حضورۖ کی عطائوں اور نوازشوں کا کیا کہنا؟ جب بھی ذکر فرماتے اچھے لفظوں میں یاد کرتے۔ حضورۖ کا فرمان ہے کہ جب مشرکوں کو میری باتیں ناگوار گزرتیں اور وہ مجھے تکلیف پہنچا تو اس وقت حضرت خدیجتہ الکبرٰی رضی اللہ عنھا میری دلجوئی کرتیں اور میری ہمت بڑھاتی تھیں ان کی اس دلجوئی سے میرے دل کو قرار آجاتا تھا۔ اُمُّ المئومنین حضرت خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنھا دین اسلام قبول کرنے والی پہلی خاتون ہیں اور آپ رضی اللہ عنھا اس وقت ایمان لائیں جب کوئی بھی ایمان نہیں لایا تھا۔ امام بخاری رضی اللہ عنہ نے روایت بیان کی ہے کہ امّ المئومنین سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنھا کے وصال کے بعد آپ کی بہن ہالہ رضی اللہ عنھا ایک مرتبہ کسی کام کی غرض سے حضور پاک ۖ کے پاس ملنے کے لئے آئیں ۔حضور نبی کریم ۖ نے ان کی آواز سنی تو آپ ۖ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے کیونکہ ان کی آواز امّ المئومنین خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنھا سے ملتی تھی۔ امّ المئومنین سیدہ عائشہ صدیقی رضی اللہ عنھا جو کہ اس وقت آپ ۖ کے پاس تشریف فرما تھیں کہنے لگیں کہ آپ ایک بوڑھی عورت کے لئے روتے ہیں جب کہ اللہ تعالی نے آپ ۖ کو کثیر ازواج سے نوازا ہے حضور نبی کریم ۖ نے فرمایا: اے عائشہ! انہوں نے میری اس وقت تصدیق کی جب سب نے میری تکذیب کی اور وہ اس وقت اسلام لائیں جب سب کافر تھے اور انہوں نے اس وقت میری مدد کی جب میری مدد کرنے والا کوئی نہ تھا اور میری تمام اولاد اسی کے بطن سے ہوئی ہے۔ ام مسلم رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ۖ کی بارگاہ میں حضرت جبریل علیہ السّلام تشریف لائے۔ اس وقت حضورۖ امّ المئومنین حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنھا کے ہمراہ تشریف فرما تھے۔ حضرت جبریل علیہ السّلام نے آپ علیہ الصّلواة والسّلام سے کہا یارسول اللہ! اللہ عزّوجلّ نے حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت دی ہے جو موتیوں سے بنا ہوگا اور اس میں کسی قسم کی مشقت نہ ہوگی۔ باقی حضور نبی کریمۖ کی تمام اولاد سوائے ابراہیم رضی اللہ عنہ کے آپ رضی اللہ عنھا کے بطن اطہر سے ہے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا کے بطن اطہر سے بعد میں پیدا ہوئے جو دوسرے شہزادوں کی طرح بچپن میں ہی وصال فرما گئے۔
امّ المئومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ دنیا میں کوئی عورت ایسی نہیں سوائے امّ المئومنین حضرت سید خدیجہ رضی اللہ عنھا کے جن سے رشک کرتی ہوں اور اس میں چاہتی تھی کہ میں آپ رضی اللہ عنھا کی طرح حضور نبی کریم ۖ کی محبوب ہوجائوں۔ حضور نبی کریم ۖ کو سب سے زیادہ پیار اپنی انہی زوجہ سے تھا ور حضور نبی کریم ۖ فرماتے تھے کہ وہ میری سب سے زیادہ خدمت کرنے والی، روزہ دار ، تہجد گزار، عبادت گزار، میری غمگسار اور میری تمام اولاد کی ماں تھی۔ نبی پاک ۖ کی چار سگی بیٹیاں شہزادیاں تھیں سب کی سب حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کے بطن اطہر سے تھیں ۔حضرت سیدہ زینب، حضرت سیدہ رقیہ، حضرت سیدہ امّ کلثوم اور حضرت سیدہ، طیبہ، طاہرہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہ عنھنّ اور دو شہزادے باختلاف، روایت، سیّدنا حضرت قاسم اور سیدنا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنھا۔ حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنھا نے والد اور دوسرے شوہر کے مرنے کے بعد تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ آپ رضی اللہ عنھا بچوں کی کفالت بھی کرتیں اور ان کی تعلیم وتربیت کا بھی خاصل خیال کرتی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنھا بچپن میں ہی بتوں سے شدید نفرت کرتی تھیں، آپ نے اپنے مال سے کثیر حصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا۔ آپ اپنے زاد بھائی ورقہ بن نوفل سے تو رات اور انجیل سنا کرتی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنھا کا قیام زیادہ ترخانہ کعبہ شریف میں ہوتا تھا۔ وہاں آپ خدائے واحد کی عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ اس کے علاوہ آپ رضی اللہ عنھا اپنے سامان تجارت نیک اور ایمان دار لوگوں کے ہاتھ تجارت کی غرض سے دوسرے ممالک بھیجا کرتی تھیں۔ ان تجارتی قافلوں میں آپ رضی اللہ عنھا اپنے غلام کو بھی روانہ کرتیں جو نفع ونقصان کا حساب رکھتے تھے ۔نبی پاکۖ کے ساتھ نکاح کا سبب تجارت ہی بنی۔ بہرحال نبی پاک ۖ کی انتہائی وفادار اور ایمان دار بیوی ثابت ہوئیں۔ مئومنوں کی ماں کا شرف حاصل کیا تقریباً پچیس سال کی ازدواجی رفاقت کے بعد دس رمضان المبارک کو اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ آپ رضی اللہ عنھا کا مزار پر انوار مکہ مکرمہ میں جنت الملّٰی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنھا کے درجات بلند فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭













