فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! برکتوں رحمتوںاور مغفرتوں والا مہینہ، جہنم سے آزادی کا مہینہ، خیرخواہی وخیرسگالی کا مہینہ اور شیطان کے جھکڑنے کا مہینہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ ہر مسلمان کا دل خوش ہے اور بڑی کوشش کے ساتھ روزے رکھنے کی تیاریاں اور سحری وافطاری کے انتظامات جاری وساری ہیں۔ یہ ماہ مقدس تمام مہینوں سے افضل ہے اور اس ماہ مقدس میں ایک نقل کا ثواب اور مہینوں میں ادا کئے جانے والے ایک فرض کے برابر ہے۔ اور ایک فرض کا ثواب اور مہینوں میں ادا کئے جانے والے ستر فرائض کے برابر ہے۔ باقی اللہ پاک اپنے خاص فضل وکرم سے اس سے کہیں زیادہ بھی عطا فرماتا ہے۔ اس ماہ مقدس کے روزے فرض ہیں اس میں ادا کی جانے والی بیس رکعت نماز تراویح سنت مبارکہ ہے۔ اور مئوکدہ ہے سعادت مند لوگ بڑی خوشی سے ادا کرتے ہیں اور بڑے شوق اور ذوق سے قرآن پاک کی تلاوت بھی سنتے ہیں اس ماہ مقدس کا احترام بھی فرض ہے۔ روزہ دار کا احترام کرنا بھی بہت بڑی سعادت ہے روزے کا احترام یہ ہے کہ طاقت اور صحت ہو تو رکھنا چاہئے اور ماہ مقدس کا احترام یہ ہے کہ بچوں اور مریضوں اور مسافروں کو کھلے عام نہیں کھانا چاہئے کہ وہ بازاروں میں دندناتے پھیریں اور کھاتے پھیریں۔ یہ سب احترام رمضان کے منافی ہے۔ روزہ والے کا احترام یہ ہے کہ اس کے سامنے نہیں کھانا چاہئے۔ بخارا شہر میں ایک مجوسی (آتش پرست) کا بیٹا ماہ مبارک رمضان المبارک میں سرعام کھا رہا تھا یہ دیکھ کر اُس کے مجوسی باپ نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور ڈانٹتے ہوئے کہا کہ وہ تجھے رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمانوں کے سامنے کھاتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی؟ بیٹے نے کہا: ابا جان آیا بھی تو اس مہینے میں دن کے وقت کھانے پیتے ہیں؟ مجوسی نے کہا بیٹا! میں کھاتا تو ہوں مگر اس مبارک مہینے کا احترام کرے ہوئے لوگوں سے پوشیدہ ہو کر اپنے گھر میں کھاتا ہوں۔ برسرعام نہیں کچھ عرصہ کے بعد اس مجوسی کا انتقال ہوگیا۔ ایک بزرگ نے اسے جنت میں ٹہلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ تو جَنّت میں داخلے کا سبب دریافت فرمایا: اور فرمایا کہ جنت تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے بنائی ہے تو تو مجوسی ہے؟ مجوسی نے جواب دیا واقعی میں مجوسی تھا لیکن اس کے باوجود ر مضان المبارک کا احترام کیا کرتا تھا۔ چنانچہ اسی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مرنے سے پہلے ایمان کی دولت سے سرفراز فرما دیا تھا۔ اسی وجہ سے آج میں جنت میں داخل ہوں۔ ماشاء اللہ!! احترام رمضان مجوسی کے لئے دولت اسلام ملنے کا ذریعہ بن گیا اور جنت بھی نصیب ہوگئی لیکن بدنصیب ہیں وہ لوگ جو مسلمان کہلوانے کے باوجود رمضان المبارک کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔اور بازاروں میں سرعام کھاتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ حضورۖ نے فرمایا جب ماہ رمضان کی پہلی رات آئی ہے تو تمام جنّتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور پورا مہینہ کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ایک آواز دینے والے کو حکم دیتا ہے کہ آواز دو اے بھلائی کے طلب گارو آگے بڑھو! اے برائی کے خواہش مندوں پیچھے ہٹو پھر وہ کہتا ہے، کوئی بخشش چاہنے والا کہ اسنے بخش دیا جائے۔ ہے کوئی مانگنے والا تاکہ اسے دے دیا جائے۔ ہے کوئی توبہ کرنے والا تاکہ اس کی توبہ قبول کر لی جائے۔ اور صبح ہونے تک یہ ندا مسلسل آتی ہے اور اللہ تعالیٰ عید الفطر کی رات کو دس لاکھ ایسے بندوں کو بخش دیتا ہے جو مستحق عذاب ہوتے ہیں۔ حضورۖ واصحابہ وسلم کا فرمان ہے کہ امت کو رمضان المبارک میں پانچ ایسی باتیں عطا ہوئی ہیں۔ جو اس سے پہلے کی امتوں
میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئیں۔ 1 روزہ دار کے منہ کی بوجو اللہ تعالیٰ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔2 فرشتے ان کے روزہ افطار کرنے تک ان کے لئے مغفرت اور بخشش طلب کرتے رہتے ہیں۔3 متکبر ومرکش شیطان اس ماہ مقدس میں قید کردیئے جاتے ہیں۔ 4 اللہ تعالیٰ ہر دن جنت کو سنوارتا ہے اور فرماتا ہے کہ عنقریب میرے بندے اس میں داخل ہوں گے ان سے تکلیف اور اذیت دور کر دی جائے گی۔5 آخری رات میں انہیں بخش دیا جائے گا۔ عرض کیا گیا رسول اللہ! کیا اس سے مراد لیلة القدر ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن کام کرنے والا کام پورا کرے تو پھر اسے پوری مزدوری ملتی ہے(مکاشفتہ القلوب)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمۖ نے منبر شریف کے پہلے درجہ پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین، دوسرے پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین تیسرے پر قدم رکھا تو فرمایا: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ! یہ آپ کے تین مرتبہ آمین فرمانے میں کیا حکمت ہے؟ تو نبی کریمۖ نے ارشاد فرمایا: میر ے پاس ابھی جبریل امین علیہ السّلام آئے اور انہوں نے کہا، یارسول اللہ! جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس نے اس کے تمام روزے نہ رکھے تو وہ ہلاک ہوگیا پس میں نے کہا آمین پھر انہوں نے کہا کہ جس نے اپنی زندگی میں اپنے والدین کی خدمت نہ کی تو وہ ہلاک ہوگیا پس میں نے کہا آمین پھر انہوں نے کہا جس کے پاس آپ کا نام مبارک لیا جائے اور وہ آپۖ پردرود شریف نہ پڑھے وہ ہلاکت میں پڑا۔ پس میں نے کہا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے ارشاد فرمایا: جو شخص بغیر کسی وجہ کے جان بوجھ کر رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے گا تو ساری عمر کے روزے اس کی قضا نہیں بن سکتے اور جان بوجھ کر ایک روزہ چھوڑنے کی سزا میں وہ نو لاکھ سال دوزخ میں جلایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان شریف کے تمام روزے بشرائط وقواعد رکھنے، ادب واحترام کرنے اور نماز تراویح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭












