یہ ہڑتال محض ایک دن کی بندش نہیں تھی، بلکہ ایک اجتماعی چیخ تھی، عمران خان کی اپیل پر پورے پاکستان میں ہونے والی ہڑتال نے یہ واضح کر دیا کہ عوام کے دلوں میں کیا چل رہا ہے۔ بازار بند، سڑکیں سنسان اور کاروبار ٹھپ یہ سب کسی جبر سے نہیں بلکہ ایک مشترکہ احساس کے تحت ہوا۔ خاص طور پر وہ دیہاڑی دار مزدور، جو اس مہنگائی کے دور میں ایک دن کی اُجرت چھوڑنا بھی عیش سمجھتے ہیں، انہوں نے پیٹ کاٹ کر اس ہڑتال میں حصہ لیا۔ یہ قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ وقتی نہیں، گہرا اور دیرینہ ہے آج کا پاکستان مہنگائی، بے روزگاری اور نااُمیدی کی گرفت میں ہے جن سے یہ اُمید باندھی گئی تھی کہ وہ دودھ اور شہد کی نہریں بہائیں گے، وہ تیز رفتار وعدوں کے ساتھ آئے اور ملک میں غربت کا ایسا جال بچھا گئے کہ غریب کی حالت مزید ابتر ہو گئی۔ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے کبھی بسنت، کبھی لگاتار کرکٹ میچز اور کبھی نت نئے سٹنٹس لیکن حقیقت اپنی جگہ قائم ہے۔ تمام معاشی اشاریے چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ نہ جی ڈی پی گروتھ میں کوئی جان آئی، نہ ایکسپورٹس میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، اور نہ ہی بیرونی سرمایہ کاری نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔عمران خان بارہا خبردار کرتا رہا کہ اگر چھ اعشاریہ چار فیصد جی ڈی پی گروتھ والی حکومت کو اس کا وقت پورا نہ کرنے دیا گیا تو نتائج سنگین ہوں گے۔ آج حالات دیکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں کہ وہ خدشات بے بنیاد نہیں تھے۔ معیشت کی گاڑی پٹری سے اتری ہوئی ہے اور عوام اس کا بوجھ اپنی روزمرہ زندگی میں اٹھا رہے ہیں اب بھی وقت ہے کہ حقیقت کو تسلیم کیا جائے۔ وہ رہنما جسے ستر فیصد عوام اپنا نمائندہ سمجھتے ہیں، جس کی ایک اپیل پر لوگ بھوک برداشت کر کے ہڑتال کر سکتے ہیں، اس کے کہنے پر وہ تن، من اور دھن کی قربانی دینے کو بھی تیار ہیں یہ عوامی اعتماد کسی نعمت سے کم نہیں۔ اگر حالات یہی رہے تو آئے روز ہڑتالیں معمول بن جائیں گی، رہی سہی سرمایہ کاری بھی بھاگ جائے گی، اور نوجوان مایوسی کے عالم میں ملک چھوڑنے کی قطاروں میں کھڑے رہیں گے۔ اسے برین ایکسپورٹ کہنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں وہ شخص آج جیل میں بیٹھا یہ سب دیکھ رہا ہے، سوچ رہا ہے اور منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ نو تاریخ کو سپریم کورٹ میں اس کے مقدمات کی سماعت مقرر ہے۔ اس کا مقف واضح ہے کہ وہ اسی صورت باہر آئے گا جب اس پر کوئی مقدمہ باقی نہ رہے اور نہ وہ باہر جائے گا اپنی پاکیزگی پر اس کا یقین اتنا مضبوط ہے جتنا اپنے رب کی ربوبیت اور حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر شاید آج کی ہڑتال نے سوئی ہوئی آنکھوں کو کچھ تو جگایا ہو۔ قوم کی نبض پر ہاتھ رکھنا ہوگا، ورنہ یہ بے چینی کسی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے۔ اللہ ہم سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، کیونکہ وہی انصاف کرنے والا ہے اور انصاف کو پسند فرماتا ہے۔
٭٭٭













