آقائے کائنات کے چند مشاہیر اجدادِ کرام !!!

0
6

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ربّ قدیر نے آپ کو گوناگوں خصوصیات وصفات کا حامل بنایا تھا۔آپ اس قدر وجیہ تھے کہ جو انہیں دیکھتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا۔ آپ کے چہرہ انور سے جہاں وجہات کی شعاعیں پھوٹتی تھیں وہیں جاہ وجلال اور شان وشوکت کی ایسی روشنیاں نکلتی تھیں کہ دیکھنے والا نہ چاہ کر بھی آپ کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ پورے عرب میں آپ کی شجاعت کا ایسا سکہّ بیٹھا ہوا تھا کہ دشمن آپ کے نام سے کانپا کرتا تھا۔ بڑے سے بڑا بہادر آپ سے متصادم ہونے سے پہلے ہی ایسا مرعوب ہوجاتا کہ جیسے کاٹو تو خون نہ نکلے۔ آپ کی مذکورہ بالا صفات تو قابل قدر تھیں ہی اس پر مستزاد آپ کا جذبہ سخاوت لوگوں کو مسخر کئے ہوئے تھا۔ اسی جذبہ سخاوت کا بین اثر تھا کہ آپ پورے عرب میں اعلیٰ درجے کے مہمان نواز مانے جاتے تھے۔ آپ کا خود لقب ”ہاشم” آپ کی مہمان نوازی کا آج بھی کلمہ پڑھ رہا ہے۔ ہوایوں کہ آپ کے دور میں پورے عرب میں قحط سالی کا ایسا شدید حملہ ہوا کہ لوگ دانے دانے کو ترسنے لگے۔ چاروں طرف بھوک مری کی مکدّر فضا چھائی ہوئی تھی۔ مزید برآں حج کا زمانہ بھی آپہنچا۔ گویا حالات انتہائی پرآشوب اور ناقابل برداشت ہوگئے۔ سارا عرب ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی شدید قحط سالی اس سے پہلے کبھی عرب میں رونما نہیں ہوئی۔ بہرکیف ایسے نازک اور سنگین موقع پر بھلا حضرت ہاشم جیسا سخی اور مہمان نواز خاموش ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کیسے سکتا تھاچنانچہ آپ نے بلاتاخیر ملک شام کے لئے رخت سفر باندھا اور وہاں سے ڈھیر ساری خشک روٹیاں خرید کر مکہ المکرمہ پہنچے اور اونٹ کے گوشت کے شوربہ میں روٹیوں کا چورہ کرکے ثرید بنا کر تمام حاجیوں کو اتنا کھلایا کہ سب کے سب شکم سیر ہوگئے۔ چونکہ ”ہاشم” کا لفظی معنی ہے روٹیوں کا چورہ کرنے والا اور اسی واقعے کے بعد ہی سے آپ کا لقب ہاشم پڑ گیا اور یہ لقب اس قدر مشتہر اور زبان زد خاص وعام ہوگیا کہ دنیا بجائے آپ کے نام عمرو کے ہاشم سے جاننے پہچاننے لگے۔ واضح رہے کہ سرورِ کائنات ۖ کو ثرید بے حد پسند تھی اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ ثرید لذت آمیز ہونے کے باوصف کھانے والے کو جلد شکم سیر بھی کردیتی ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث میں ہے حضور اکرم ۖ نے فرمایا ”دیگر کھانوں میں ثرید کی فضیلت ایسی ہے جیسے عائشہ کی فضیلت عورتوں پر۔
٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here