بوڑھے باپ پر 9 لاکھ کا قرض!یہ مصر کا ایک دل چھونے والا واقعہ ہے۔ حاجی حسن کے تین بیٹے تھے۔ تینوں کو انہوں نے اچھی تعلیم دلائی اور بہترین پرورش کی۔ جب باپ خود بوڑھا ہوا تو تینوں بیٹے الگ الگ اپنے اپنے گھروں میں سیٹل ہو چکے تھے، ایک مرتبہ حاجی حسن بیمار پڑ گئے۔ جب ہسپتال سے گھر واپس آئے تو ان کے چہرے پر عجیب سی شکستگی تھی۔ وہ خاموشی سے اندر داخل ہوئے، کچھ دیر رکے اور سوچا، پھر جیب سے ایک تہہ شدہ کاغذ نکال کر میز پر رکھ دیا۔ انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ تینوں بیٹے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ کاغذ کھولا گیا تو سب کی سانس رک سی گئی۔ وہ امانت نامہ تھا، نو لاکھ جنیہ (مصری کرنسی) کا بھاری قرض، والد کے نام پر، جس کی فوری ادائیگی لازم۔ (پاکستانی کرنسی میں تقریبا 53 لاکھ روپے)کمرے میں خاموشی چھا گئی، ایسی خاموشی جس میں خوف بولتا ہے۔ سب سے پہلے بڑے بیٹے خالد نے گلا صاف کیا اور نظریں جھکاتے ہوئے کہاکہ آپ جانتے ہیں بچوں کی سکول فیس اور مہنگی یونیورسٹیاں میری کمر ٹوٹ چکی ہے، میرے پاس ایک روپیہ بھی اضافی نہیں۔ درمیانے بیٹے سعید جس نے حال ہی میں الیکٹرونکس کی دکان کھولی تھی، ذرا تیزی سے بولا میں خود تاجروں کے قرض میں ڈوبا ہوں، سارا مال ادھار کا ہے، کوئی نقدی نہیں۔ سب سے چھوٹا بیٹا تھا یوسف ،اس کا کہنا ہے کہ میری شادی کو چند ہی مہینے گزرے تھے، فلیٹ کی قسطیں، مرمت کا خرچ سب کچھ باقی تھا لیکن جب میں نے والد کی طرف دیکھا، ان کے سفید ہوتے بال، جھکا ہوا کندھا اور آنکھوں میں دبی ہوئی تھکن، تو میرے گلے میں کچھ اٹک سا گیا۔ میں کیسے انکار کرتا؟ میرے دل نے ناں کہنے سے انکار کر دیا۔ میں نے کاغذ اٹھایا، قلم پکڑا اور والد کی جگہ خود ضمانت پر دستخط کر دیئے اور والد صاحب سے کہا کہ بے فکر رہیں، یہ رقم میں ادا کردوں گا۔ پھر والد کو اپنے چھوٹے سے فلیٹ میں لے آیا، تاکہ خود ان کی خدمت کر سکوں۔ ایک سال گزر گیا، اللہ گواہ ہے، وہ میری زندگی کا سب سے کڑا سال تھا۔ دن کو نوکری، رات کو آن لائن ٹیکسی چلانا۔ کبھی کبھی رات کا کھانا صرف روٹی اور پنیر یا دال کا ایک پیالہ ہوتا۔ میری بیوی (اللہ اسے سلامت رکھے) میرا دست و بازو بن گئی، وہ نئے کپڑوں سے دستبردار ہوگئی، حتی کہ اپنی سونے کی چوڑیاں بھی بیچ دیں، تاکہ گھر کا خرچ چل سکے۔ لیکن ان سب کے بدلے، میرے لیے سب سے بڑی راحت والد کے چہرے پر اطمینان اور ان کی مسکراہٹ تھی، رب تعالی نے اس دوران مجھے ایک خوبصورت بیٹے سے بھی نواز دیا، یہ بچہ والد صاحب کے لیے بھی سامان راحت بن گیا۔ پھر اسی تاریخ کو، ٹھیک ایک سال بعد، والد نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا۔ میں ان کے پاس بیٹھا۔ انہوں نے دراز کھولی، ایک تہہ شدہ کاغذ نکالا اور نرمی سے میرے سامنے رکھ دیا۔ بولے: یوسف پڑھو۔ میں نے کاغذ کھولا تو جیسے میں وہیں کا وہیں جم گیا۔ میرا حلق خشک ہو گیا اور آنکھوں کو اپنی ہی نظر پر یقین نہ آیا۔ وہ کاغذ نہ تو کوئی امانت نامہ تھا، نہ ہی محض شکریے کا خط۔ وہ ایک وصیت تھی۔ اس وصیت میں صاف صاف لکھا تھا کہ شہر کے وسط میں واقع تین منزلہ مکان اور سب سے بہترین کمرشل اور مہنگے علاقے میں واقع 300 گز کی زمین، ان دونوں کی مکمل ملکیت، صرف اور صرف میرے نام منتقل کی جاتی ہے۔ میں حیرت سے والد کی طرف دیکھنے ہی والا تھا کہ انہوں نے مسکرا کر آہستہ سے کہا: یوسف میں نے ساری زندگی صرف یہ جاننا چاہا کہ مشکل وقت میں واقعی کون میرا ساتھ دے گا۔ ان کی آنکھوں میں نمی تھی، آواز میں لرزش۔ اسی لمحے دروازے پر قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ میرے دونوں بڑے بھائی خالد اور سعید کمرے میں داخل ہوئے۔ پتہ چلا کہ والد صاحب نے ان کو کال کرکے بلایا تھا، ان کی نظریں میرے ہاتھ میں موجود وصیت پر جا ٹھہریں۔ چہروں کا رنگ بدل گیا۔ وہی لوگ، جو ایک سال پہلے بے نیازی کا مظاہرہ کر رہے تھے، اب ان کے چہروں پر پچھتاوے، حسرت اور صدمے کا ملا جلا نقش تھا۔ بڑے بھائی نے بھاری آواز میں بولا: ابا آپ نے ایسا کیوں کیا؟ ہم بھی تو آپ کے بیٹے ہیں۔ والد نے آہستہ سے سر اٹھایا اور اس بار ان کی آواز دھیمی ضرور تھی، مگر فیصلہ کن: میں جانتا ہوں کہ ہر انسان اپنی مشکلات میں گھرا ہوتا ہے۔ لیکن جب مجھے واقعی سہارا چاہیے تھا تو تم میں سے کسی نے ہمت نہیں کی۔ صرف تمہارے چھوٹے بھائی نے یہ بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ یہ گھر اور یہ زمین اسی قربانی کا صلہ ہیں۔ درمیانے بھائی نے کچھ کہنا چاہا، مگر لفظ اس کے گلے میں اٹک گئے۔ دونوں بھائی خاموشی سے مڑے اور آہستہ آہستہ باہر چلے گئے، یوں لگتا تھا جیسے ان کے قدم شرمندگی کے بوجھ تلے دبے ہوں۔ میں وہیں بیٹھا رہا۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے، جب میں وصیت تھامے ہوئے تھا۔ والد نے شفقت سے میرا کندھا تھپتھپایا اور کہا: بیٹا، اب تمہیں وہ قرض ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ رقم تو میں بہت پہلے ادا کر چکا تھا۔ یہ سب صرف ایک امتحان تھا۔ اب مجھے سمجھ آیا کہ وہ ایک سال محض قرض اتارنے کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ ایک آزمائش تھی، یہ جاننے کی آزمائش کہ کون واقعی خون اور رشتے کی قدر کرتا ہے۔ اگلے دن وصیت کی خبر پورے خاندان میں پھیل گئی۔ کچھ نے والد کو دانا کہا، کچھ نے سخت اور ناانصاف۔ لیکن میں نے ہمیشہ کی طرح والد کی خدمت جاری رکھی، کیونکہ میں جانتا تھا کہ مجھے جو سب سے قیمتی وراثت ملی، وہ نہ مکان تھا نہ زمین، بلکہ میرے والد کا مکمل اعتماد تھا۔
٭٭٭












