پچھلی صدی کے آخری نصف حصے میں امریکہ پہنچنے والے پہلی نسل کے تارکینِ وطن کیلئے ابتدائی رہائشی اور معاشی مشکلات تو موجود تھیں لیکن انہیں اسلاموفوبیا کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ معاشرے میں ایک نحیف اقلیت ہونے کی وجہ سے، ہر طبقہ انہیں اچھی نیت سے نظرانداز کر دیتا تھا۔ دوسری طرف، یہ نئے تارکینِ وطن امریکہ بہادر کے ورلڈ آرڈر کو خلافِ شریعت سمجھتے ہوئے، اپنے بند حلقوں میں امریکی قومی ترانے اور پرچم سے نفرت کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ ترکی سے سعید نورسی ، مصر سے حسن البنا اور پاکستان سے سید مودودی کے پیروکار جو زیادہ تر اعلی تعلیم کیلئے امریکہ پہنچے تھے، اپنی مقامی تنظیمیں بنا کر اقامتِ دین پر بحث مباحثہ تو خوب کرتے رہتے تھے لیکن ساتھ ہی اپنے آبائی ممالک کی سیاست کو ہی اہمیت دیتے ہوئے امریکہ کی سیاست سے فاصلے برقرار رکھنا بھی ایک فرض سمجھتے تھے۔ انتہائی خوبصورت آزاد نظمیں کہنے والے امجد اسلام امجد نے اس نسل کی کیا خوب ترجمانی کی ہے۔
کہاں سے پوچھوں!
وہ کس لیے ہے کسے بتائوں!
مجھے عقیدوں کے خواب دے کر کہا گیا،ان میں روشنی ہے
چمکتی قدروں کی چھب دکھا کر مجھے بتایا یہ زندگی ہے
سکھائے مجھ کو کمال ایسے
یقیں نہ لا ئیں سکھانے والے اگر انہیں کو میں جا سنائوں
میں کہنہ آنکھوں کی دسترس میں نئے مناظر کہاں سے لائوں
کہاں پہ جنسِ کمال رکھوں، خیالِ تازہ کہاں سجائوں
زمین پائوں تلے نہیں ہے،تو کیسے ستاروں کی سمت جائوں
پرانی قدریں جو محترم ہیں
انھیں سنبھالوں یا آنے والے نئے عقیدوں کا بھید پائوں
یہ اس صدی کا آغاز ہی تھا جب نائن الیون نے ان پہلی نسل کے تارکینِ وطن کو ایک ایسا جھٹکا دیا جس نے نہ صرف انہیں بلکہ انکی آئندہ آنے والی نصف نسل کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ جس امریکی سیاست سے یہ تارکینِ وطن دور بھاگ رہے تھے، وہی سیاست انکو اپنے مرکز و محور میں لے آئی۔ اسلام جو پہلے کسی بلدیاتی الیکشن میں بھی کبھی اشو نہیں بنا تھا، اب دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے کنونشنز میں ڈسکس ہونا شروع ہو گیا۔ مرکزی ذرائعِ ابلاغ نے گرانڈ زیرو مسجد کو لے کر ایسا اودھم مچایا کہ بے چارے مسلمان خود بخود ہی عوامی توجہ کا مرکز بن گئے۔ مسلمانوں سے بہت پہلے آئے ہوئے نئے تارکینِ وطن، چاہے وہ یہودی ہوں یا کیتھولک، انہیں جس مقام پر پہنچنے میں دہائیاں لگیں، ہمارے لوگ وہاں چند سالوں میں ہی پہنچ گئے۔ نہ صرف پہنچے بلکہ دردِ سر بھی بن گئے۔ وسیم بریلوی نے کیا خوب کہا تھا کہ!
تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں
میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جائوں گا
اب اس نئے مسئلے نے امریکی سیاست کے اہم ستون صیہونیت کو چیلنج کرکے، امریکہ کی خارجہ پالیسی پر کاری ضرب لگانی شروع کی ہوئی ہے ۔ فلسطین کے مسلمانوں کے حقوق کیلئے پرامن جدوجہد کے زاوئیے بھی بدل رہے ہیں۔ فرسٹ جنریشن امیگرنٹس کی اگلی نسل اب تارکینِ وطن کے زمرے میں نہیں آتی۔ وہ پراعتماد شہریوں کی طرح امریکی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہمارے جیسے فرسٹ جنریشن والے تو ابھی تک متذبذب ہی رہتے ہیں کہ کس پارٹی کو ووٹ دیں لیکن نئی نسل خود ووٹ لینے والی بن چکی ہے۔ نئی نسل کی بات آئی ہے تو مجھے امجد اسلام امجد کی اپنے بیٹے علی ذیشان کیلئے کہی گئی مشہور زمانہ نظم کے چند اشعار یاد آگئے ہیں۔
مری تعظیم کی خاطر وہ ان کو لے تو لے شاید
مگر جو زندگی اس کو ملی ہے، اس کے دامن میں
ہمارے عہد کی قدریں تو کیا یادیں بھی کم کم ہیں
انوکھے پھول ہیں اس کے نرالے اس کے موسم ہیں
خود اپنی موج کی مستی میں بہنا چاہتا ہے وہ!
نئی دنیا ، نئے منظر میں رہنا چاہتا ہے وہ!
فرسٹ جنریشن امیگرنٹ مسلمانوں کی قیادت کا اِس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہی نئی نسل پر اعتماد کی کمی ہے۔ ہماری بعض مساجد میں تو معمول کے اعلانات کرنے کیلئے بھی صرف انکلز مائیک پر آسکتے ہیں۔ بہت ساری بڑی تنظیمیں بھی اقتدار اگلی نسل تک منتقل کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ یہ تو بھلا ہو اس حقیقت کا کہ عملی سیاست پر ہم جیسے بوڑھوں کی گرفت پہلے ہی نہ ہونے کے برابر تھی، اس لئے اس میدان میں نوجوانوں کو زیادہ آسانی سے آگے بڑھنے کا موقع مل گیا ہے۔ ورنہ امجد اسلام امجد کے بقول، ہونا یہ تھا کہ
جب ان کو رہبر بنا کے نکلا
تو میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں کچھ نہیں ہے
میں ایسے بازار میں کھڑا ہوں جہاں کرنسی بدل چکی ہے
٭٭٭














