ایماندار جوہری !!!

0
5

ایک یہودی کے پاس ایک مسلمان ہیرے تراشنے کا کام کرتا تھا جو اپنے کام میں ہنر مند اور حد سے زیادہ ایماندار تھا۔ اس سنار کی کاریگری سے بے تحاشا منافع کمانے کے باوجود اسے مناسب معاوضہ ادا نہ کرتا تھا۔ یونہی کام کرتے کرتے اس نے عمر گزار دی مگر قلیل تنخواہ میں وہ بمشکل ہی اپنے گھر کا خرچہ کبھی کبھار ہی پورا کر پاتا۔ حتیٰ کہ اس کی بیٹی جوان ہوگئی، وہ اپنے قلیل مشاہرے میں سے کچھ بھی جمع نہ کر پایا تھا۔ بیٹی کی شادی کیلئے سنار کاریگر نے یہودی سے کچھ رقم بطور ادھار مانگی۔ کروڑ پتی یہودی نے رقم ادھار دینے سے معذوری ظاہر کردی۔ سنار اپنی قسمت کو برا بھلا کہتا ہوا گھر لوٹ آیا۔ رقم ادھار نہ ملنے پر بیوی نے بھی سخت ناراضگی اور طعنوں کے تیر برسا کر الگ استقبال کیا۔ پریشان حال بے چارہ ساری رات سوچتا رہا کہ اب کیا ہوگا۔ دوسرے دن وہ کام کیلئے نہ گیا۔ بعد میں یہودی سنار کے بلانے پر جب وہ دکان پر پہنچا تو اس کے ہاتھ میں ایک پوٹلی تھی جو اس نے یہودی کے سامنے کھول کر رکھ دی۔ اس میں قیمتی ہیرا دیکھ کر یہودی سوالیہ نگاہوں سے کاریگر سنار کی طرف دیکھنے لگا۔ کاریگر بولا مالک یہ ہمارا خاندانی ہیرا ہے۔ اسے بیچنے کی اجازت نہیں ہے آپ اس کو گروی رکھ کر مجھے کچھ رقم دے دیں میں آپ کو رقم لوٹا کر اپنا ہیرا وپاس لے لوں گا۔ یہودی راضی ہوگیا۔ کاریگر نے قرضے کی رقم سے بیٹی کی شادی کردی پھر دن رات کام کرتے قرضے کی رقم آہستہ آہستہ ادا کرنے میں لگ گیا۔ قرضے کی آخری قسط ادا کرنے کے بعد کاریگر نے اپنے ہیرے کا مطالبہ کیا۔ یہودی نے وہ ہیرا لا کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہیرا گھل کر ختم ہوگیا۔ کاریگر نے کہا کہ مالک یہ مصری کی ڈلی تھی جسے میں نے اپنے فن سے ہیرے کا اس طرح روپ دیا کہ آپ جیسا سنار بھی دھوکہ کھا گیا۔ آپ نے میری عاجزی و درخواست پر قرضہ نہ دیا جس کی وجہ سے مجھے یوں آپ سے رقم نکلوانی پڑی۔ میں مسلمان ہوں اس لیے بھاگا نہیں، آپ کی پائی پائی ادا کرکے سرخرو ہوا۔ افسوس آپ نے میری قدر نہ کی، اس لیے ملازمت چھوڑ کر جارہا ہوں، کاریگر یہودی کو پریشان چھوڑ کر چل دیا۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here