پاکستان میں ایک بار پھر فرقہ واریت اور دہشت گردی نے بے گناہ انسانی جانوں کو نشانہ بنایا ہے، جو نہ صرف ایک افسوسناک سانحہ ہے بلکہ ریاست، معاشرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بھی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک پہلے ہی معاشی دبا، سیاسی عدم استحکام اور سماجی تقسیم جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کا دوبارہ سر اٹھانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ اب بھی پوری طرح ختم نہیں ہو سکا۔پاکستان میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کی ایک طویل اور تلخ تاریخ ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف علاقوں میں مذہبی بنیادوں پر تشدد، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔ کبھی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، کبھی مذہبی اجتماعات کو، اور کبھی عام شہریوں کو صرف ان کے عقائد کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ ان واقعات نے نہ صرف ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچایا بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو بھی شدید متاثر کیا۔حالیہ واقعے میں بھی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے افراد عام شہری تھے، جن کا کسی بھی قسم کے تشدد یا جرائم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ معاشرے میں خوف، عدم تحفظ اور انتشار پھیلانا ہے۔ ایسے حملوں کے نتیجے میں عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہوتا ہے، جو بالآخر دہشت گرد عناصر کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔فرقہ واریت اور دہشت گردی کے اس ناسور کو محض سیکیورٹی کے نقط نظر سے دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے پس منظر میں نظریاتی، سماجی اور معاشی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر، شدت پسند لٹریچر کی کھلی ترسیل، اور سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد کی بھرمار نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جب تک ریاست ان فکری محاذوں پر مثر اور مستقل حکمتِ عملی اختیار نہیں کرے گی، محض وقتی اقدامات یا ردِعمل پر مبنی پالیسیاں دیرپا نتائج نہیں دے سکتیں۔ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو بلاامتیاز مکمل تحفظ فراہم کرے۔ آئینِ پاکستان ہر فرد کو جان و مال کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، مگر بار بار پیش آنے والے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات اس وعدے پر سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کے بعد محض بیانات اور مذمت پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ شفاف تحقیقات، فوری گرفتاریاں اور مجرموں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں، تاکہ یہ واضح پیغام جائے کہ دہشت گردی کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ علما، تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مذہبی رواداری، برداشت اور احترامِ انسانیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نصابِ تعلیم میں ایسے مواد کو شامل کیا جانا چاہیے جو مختلف مسالک کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کو مضبوط کرے۔ میڈیا پر بھی لازم ہے کہ وہ سنسنی خیزی سے گریز کرتے ہوئے ذمہ دارانہ اور متوازن رپورٹنگ کرے، تاکہ نفرت اور خوف کے بجائے شعور اور یکجہتی کو فروغ ملے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کا ہر واقعہ پورے ملک کے خلاف ایک حملہ ہے۔ اگر کسی ایک طبقے یا گروہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ ریاست اور عوام مل کر فرقہ واریت کے خلاف ایک واضح، مضبوط اور غیر مبہم مقف اختیار کریں۔ صرف اسی صورت میں پاکستان کو ایک پرامن، محفوظ اور متحد ملک بنایا جا سکتا ہے جہاں دہشت گردی اور نفرت کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔
٭٭٭











