”مولانا نے دل جیت لیے”

0
7

”مولانا نے
دل جیت لیے”

پاکستان کے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے فیصلے سے ملک بھر میں ملا جلا ردعمل ہے ،کئی سیاسی جماعتیں پاکستان کے اس فیصلے کو تنقید کی نگاہ سے دیکھتی ہیں جن میں ایک جمعیت علمائے اسلام ف بھی ہے جس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے” غزہ پیس بورڈ” میں شامل ہونے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا ہے ، مولانا فضل الرحمن نے مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے والے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا ساتھ دینے پر وزیراعظم شہباز شریف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے اور واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی حکومت کو اس متنازعہ پیس بورڈ کا حصہ بننے سے روکتے رہیں گے ، پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب او قطر بھی ‘بورڈ آف پیس’ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قزاقستان، پیراگوئے اور ازبکستان بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ پاکستان سمیت مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ تمام ممالک بورڈ میں شمولیت کی دستاویزات پر اپنے قوانین کے تحت دستخط کریں گے، بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے تحت امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کے مطابق غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کو ممکن بنایا جا سکے گا۔’بورڈ آف پیس’ کے چارٹر کے مطابق اس میں ہر ریاست کی نمائندگی حکومت یا ریاست کا سربراہ کرے گا اور اس میں شامل ہر ریاست کو ایک، ایک ووٹ کا حق حاصل ہو گا۔چارٹر کے مطابق تمام فیصلے رْکن ممالک کے اکثریتی ووٹوں کے تحت لیے جائیں گے تاہم اس کے لیے بھی چیئرمین کی منظوری درکار ہو گی۔پاکستان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اسلام آباد کے ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت کے معاملے پر تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں۔ماضی میں واشنگٹن اور اقوامِ متحدہ میں بطور پاکستانی سفیر خدمات انجام دینے والی ملیحہ لودھی اسے ‘غیر دانشمندانہ فیصلہ’ سمجھتی ہیں۔پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بنائے گئے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کا باضابطہ فیصلہ کر لیا،غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت ہوگا جس میں پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف یا نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار ملک کی نمائندگی کریں گے، غزہ کی صورتحال، امن و استحکام سے متعلق اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور ہوگا۔دوسری جانب، وزیر اعظم 13 سے 15 فروری کو جرمنی کا دورہ کریں گے، شہباز شریف میونخ سکیورٹی کانفرنس میں شریک ہوں گے جبکہ سائیڈ لائن پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون اور معاشی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے اور ساتھ ہی امریکہ کے پہلے نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے،چیئرمین کو بورڈ آف پیس کے مشن کو پورا کرنے کے لیے، ضروری یا موزوں سمجھتے ہوئے، ذیلی ادارے قائم کرنے، ان میں ترمیم کرنے یا انہیں ختم کرنے کا خصوصی اختیار حاصل ہو گا۔وہ ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان کا انتخاب کریں گے جو ”عالمی سطح کے رہنما” ہوں گے اور دو سالہ مدت کے لیے خدمات انجام دیں گے، تاہم چیئرمین انہیں برطرف بھی کر سکتے ہیں۔چیئرمین بورڈ آف پیس کی جانب سے قراردادیں یا دیگر ہدایات بھی جاری کر سکتے ہیں۔چیئرمین کو صرف ”رضاکارانہ استعفیٰ یا نااہلی کی صورت” میں ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔چارٹر کے مطابق رکن ممالک کو امریکی صدر کی جانب سے دعوت دی جائے گی اور ان کی نمائندگی ان کے سربراہِ مملکت یا حکومت کرے گی،ہر رکن ”زیادہ سے زیادہ تین سال کی مدت” کے لیے خدمات انجام دے گا تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تین سالہ مدت ان رکن ممالک پر لاگو نہیں ہو گی جو چارٹر کے نافذ ہونے کے پہلے سال کے اندر بورڈ آف پیس کو نقد رقم میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا تعاون دیں گے۔بورڈ کم از کم سال میں ایک بار ووٹنگ اجلاس منعقد کرے گا اورہر رکن ریاست کو ایک ووٹ حاصل ہو گالیکن تمام فیصلوں کے لیے موجود اور ووٹ دینے والے رکن ممالک کی اکثریت” کے ساتھ ساتھ ”چیئرمین کی منظوری” بھی ضروری ہو گی، اور برابری کی صورت میں چیئرمین اپنے عہدے کی حیثیت سے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔البانیہ سے ویتنام تک کئی ممالک نے بورڈ میں شامل ہونے کی آمادگی ظاہر کی ہے، یورپی یونین میں ٹرمپ کے سب سے بڑے حامی ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان بھی شامل ہونے پر رضامند ہیں، کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ شرکت کرے گا، تاہم مستقل رکنیت کیلئے ایک ارب ڈالر فیس ادا کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا ہے۔یہ واضح نہیں کہ مثبت جواب دینے والے دیگر ممالک، جن میں آرمینیا، بیلاروس، قازقستان، مراکش اور ویتنام شامل ہیں، ایک ارب ڈالر ادا کرنے پر آمادہ ہوں گے یا نہیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here