اہل تشیع کی بارگاہ میں خودکش، شرمناک حملہ !!!

0
8
کامل احمر

پاکستان میں روزمرّہ کی بنیاد پر ہونے والے واقعات کا لکھیں تو یقین کرنا مشکل ہوگا کہ پاکستان میں کسی کی حکومت ہے۔ 6 لاکھ کی فوج، اور اُن پر لاتعداد جنرلز پھر پولیس یہ کیا کر رہے ہیں کہ دہشت گردی کی جنت ہے خودکش حملے لاتعداد ادھر ان ناکارہ اور مجرم حکومت کے دعوے اور بیان بازیاں جنرلز کی خاموشی جیسے کہہ رہے ہوں ہم سیاست نہیں کر رہے جب کہ حقیقت یہ ہی ہ کہ دن رات سیاست کر رہے ہیں امریکہ کے پٹھو بن کر خود کو فائدہ پہنچا رہے ہیں کبھی افغانستان تو کبھی ہندوستان اگر درست بھی ہے تو ان سے کوئی پوچھے تم کیا کر رہے۔ ہم مسلمان کہلاتے ہیں لیکن مسلمانوں والی کوئی بات نہیں اول درجے کے منافق ہیں اور حالیہ اسلام آباد میں اہل تشیع کی مسجد(امام باڑہ) خدیجتہ الاکبریٰ میں جمعہ کے دن جو دہشت گردی ہوئی نتیجہ میں حکومت کے بیان کے مطابق٣٥ افراد موقعہ پر ہی شہید ہوگئے اور 160زخمی ہوئے، کہا یہ بھی گیا کہ پچھلے دس سال میں دہشت انگیزی کا سب سے بڑا حادثہ ہے اس سے پہلے نومبر 2025 میں اسلام آباد میں ایسے ہی دہشت گردی کے نتیجہ میں بارہ افراد جان بحق ہوگئے تھے لیکن 6 فروری کو اسلام آباد میں ترلائی کے مقام پر بھری مسجد میں سب سے زیادہ خطرناک واقعہ ہے۔ اور اگر ان دہشت گردوں کو ختم نہیں کرسکتے تو ہم کہینگے سرحدوں کو چھوڑ کر شہروں میں گشت لگائیں اور الزام تراشی بند کریں۔ اس قسم کے واقعات جنرل ضیاء الحق کی موت سے پہلے ہوتے رہے ہیں آخر کیوں سنی اور شیاہ کا شوشہ ہے یہ بند کیوں نہیں ہوسکتا حکومت کی شرمناک ناکامی اگر ایسا واقعہ جاپان میں ہوتا تو کوئی وزراء استعفیٰ دے چکے ہوتے لیکن یہ اسلامی ملک ہے جہاں وہ ہی لیٹر ہے منافق حکومت چلا رہے ہیں ملک کو بانٹ کر کھا رہے ہیں۔سندھ میں جو ہو رہا ہے پنجاب یا جنرلز کو اس سے کوئی واسطہ نہیں بلوچستان جو سب سے بڑا صوبہ ہے وہاں عرصہ سے جاری ہے 1976 میں عطا اللہ مینگل کے بیٹے اسد اللہ مینگل کو گھر کے باہر سے اٹھایا گیا تھا اس کے ساتھ احمد شاہ بلوچ بھی تھا دونوں کا 50 سال بعد بھی کوئی پتہ نہیں سب جانتے ہیں بلوچستان میں آرمی نگرانی کرتی ہے دوسرے معنوں میں بلوچستان باہر رہنے والوں کے لئے NO GO ایریا ہے کہا یہ جاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے اور جب تک ہوتا رہے گا جب تک بلوچستان علیحدہ نہیں ہوجاتا۔ہمارے جنرلز جنہیں کسی قسم کی شرم وحیا نہیں1971کی تیاری میں ہیں۔ ضیاء الحق کے آخری دنوں میں اس سے بھی زیادہ شرمناک درندگی بھرا واقعہ ہوا تھا۔ یہ فروری 1988 کی بات ہے جس میں 150 سے 700 سو اہل تشیع افراد مارے گئے تھے پورا گائوں جلا دیا گیا۔ مرنے والے شیعہ مسلمان تھے لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا تھا۔ کرنے والے بھی مسلمان تھے اور روکنے والا کوئی نہیں تھا یہ شرمناک حد تک ناقابل قبول واقعہ ہے اور اسکی وجہ نہایت مضحکہ خیز تھی۔ کہ عید کا چاند دیکھنے کا تنازعہ تھا اور گلگت کا مقام تھا۔ لشکر جھنگوی اور ISI نے کھلم کھلاّ بمباری کی ڈیڑھ سو کے قریب افراد مارے گئے اور گلگت جو کشمیر سے ملحق ہے اور جنت کا نظارہ پیش کرتا ہے جہاں کے لوگ اسماعیلی ہیں کو جہنم بنا دیا گیا۔ قرآن میں کئی جگہ پر کہا گیا ہے ”ایک انسان کی موت تمام انسانوں کی موت ہے اور بدامنی پھیلانے والوں کو تنبیہ کیا گیا ہے۔ 1988 میں رونما ہونے والے اس واقعہ کے چشم دید گواہ لشیم گلگتی ہیں جو ہم میں یہاں موجود ہیں اور عرصہ سے گلگت کے لئے محفلیں سجاتے رہے ہیں انہیں ہم شاباشی دینگے ان کی ملنساری پر۔کاغان ویلی میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں عید کے موقع پر جب لوگ گھروں کو جارہے تھے راستے میں بس کو روک کر کولوشرلیک کے مقام پر ان سب کو پہچان کرنے کے عبد مار دیا گیا بے دردی سے یہ لوگ ہندوستان یا افغانستان سے نہیں آئے تھے یہ2012 کا واقعہ ہے مہدی شاہ وزیراعلیٰ تھے اور مقام گورنر فارم کا تھا جو استور ضلع میں آتا ہے۔
اگر شروع سے ہی 1947 کے بعد وہاں کی تاریخ دیکھیں تو یہ ہماری حکومتوں کی بے بسی سے زیادہ دشمین کی بات ہے کبھی بھی گلگت کو پرامن بنانے کی کوشش نہیں کی گئی 1947 میں ڈوگرہ راج کو بھگایا یکم نومبر1947 کے دن راجہ شاہ رئیس خان کی حکومت آئی صرف دو ہفتے کے لئے1948 ء میں اسکردو کو آزادی ملی۔ کراچی میں معاہدہ ہوا تو اسکردو اور گلگت کا کوئی نمائندہ نہیں تھا۔اور یہ جگہ متنازعہ بنی رہی کوشش یہ تھی کہ اسے آزاد کشمیر میں شامل کیا جائے گا۔ اور آج تک گلگت متنازعہ جگہ ہے رہنے والے اسماعیلی ہیں۔
اوپر لکھی گئی باتوں کو دھیان میں رکھیں تو شرم آتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں ترلائی اسلام آباد کی مسجد خدیجتہ لکبریٰ کے دہشت گردی کے واقعہ کو ذہن میں رکھیں تو یہ ہی کہنا پڑتا ہے کہ اگر حکومت اور جرنیلز عوام کی حفاظت نہیں کرسکتے تو انہیں ملک چھوڑ کر اپنے آقائوں، برطانیہں اور امریکہ چلے جانا چاہیئے اور عیش میں زندگی گزارنا چاہیئے جو ان سے پہلے جانے والے کر چکے ہیں یہ سازش ہی ہوسکتی ہے ملک کو کئی حصوں میں بانٹ دیا ہے خواجہ آصف نے انڈیا کو الزام دیا ہے اور طلال چوہدری نے دوسرے ہی دن یہ انکشاف کیا کہ دہشت گرد جس کے عین نماز کے دوران دوسرے سجدے میں یہ کیا وہ کئی بار افغانستان گیا تھا۔ اور انڈیا آسان ہدف کو نشانہ بنا رہا ہے انہیں اس بے حد دکھ ہے کہIG کا کزن بھی مسجد میں جاں بحق ہوگیا اور حکومت میں شامل مسٹر خواہ مخواہ محسن نقوی نے ہمیں حیران کردیا کہ اس خودکش حملے میں غیر ملکی حمایت حاصل ہے اور خارجی حملہ آور درندے ہیں۔ فضل الحق کا کہنا تھا یہ کسی حمایت یا رعایت کے مستحق نہیں ادھر سندھ سے ایک احمق زرداری کا پالا بھی بول پڑا ہے عبادت گاہ پر حملہ بزدلانہ عمل ہے کیا بات ہے ان کی طلال چودھری کے خیال میں پاکستان میں امن ہے اور ترقی کر رہا ہے دشمن نقصان پہنچنا چاہتا ہے۔
مریم نواز نے بھی بیان داغا ہے کہ وہ شدید مذمت کرتی ہیں اور بسنت کا تہوار معطل کر رہی ہیں۔ یہ بات کسی قانون کے تحت نہیں ہے اور لوگ پنجاب میں چھتوں پر چڑھے حلوے مانڈے کے ساتھ پتنگ بازی کر رہے ہیں یہ شہر پاکستان میں نہیں لگتا مولانا ناصر عباس نے اچھا اور شرم دلانے والا بیان دیا ہے۔”سیاست کو دشمنی میں تبدیل نہ کریں یہ بات ثناء اللہ کے لئے ہے اگر شرم ہو تو ڈوب مریں۔ عظمیٰ بخاری اور مریم نواز کی نوکرانی نے بھی کہا ہے کہ عوام قانون کی پاسداری کریں یہ دونوں عرصہ سے پاکستان میں بنے قانون کی پابندی کر رہی ہیں جھوٹ انکا مزاج ہے اور PTI پر دن رات کسی نہ کسی بہانے سے الزام تراشی کرنا ان کا شیوا ہے۔ بسنت کے تہوار پر دو افراد جان بحق ہوئے ہیں اور31 افراد زخمی ہو کر ہسپتال پہنچے ہیں اگر دہشت گرد غنڈوں اور ڈاکوئوں کی حکومت پر نشانہ بازی کریں تو جنت کے مستحق ہیں ورنہ جہنم میں تو جائینگے۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here