آقائے کائنات کے چند مشاہیر اجدادِ کرام!!!

0
25

واضح رہے کہ حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام نامی اسم گرامی شیبہ ہے۔ اس نام کی وجہ تسمیہ یوں بیان کی گئی ہے کہ چونکہ آپ کی ولادت باسعادت کے وقت آپ کے سر میں سفید بال تھے اس مناسبت سے آپ کا نام شیبہ رکھ دیا گیا۔ آپ کے نام عبدالمطلب رکھے جانے کے سلسلے میں محدث علی الاطلاق شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے کئی وجوہات بیان فرمائی ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ آپ کی ولادت کے بعد جب آپ کے چچا مطلب مدینہ منورہ آئے اور حسن وجمال کے پیکر بچے کو دیکھ کر لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ حسین بچہ کس کا ہے یہ تو ہمارے خاندان کا ہی چشم وچراغ لگتا ہے اور اس کے نازک بدن کی ساخت اور اس کے اعضاء کے نقش ونگار بہت حد تک ہم سے مشابہ ہیں تو لوگوں نے بتایا کہ آپ کا قیاس سو فیصد صحیح ہے کیوں کہ یہ بچہ کوئی اور نہیں بلکہ آپ کے برادر اکبر جناب ہاشم کا نور نظر اور لخت جگر ہے اور آپ کا بھتیجا ہے۔ اتنا سنتے ہی مطلب کے چہرے پہ مسرت وشادمانی کی کلیاں مسکرانے لگیں اور انہوں نے فرط محبت میں اپنے حسین وجمیل بھتیجے کو گود میں اُٹھا لیا اور اپنے اونٹ میں بٹھا کر چلنے لگے تو اثنائے راہ لوگوں نے پوچھا کہ یہ بچہ کون ہے؟ جسے آپ نے اپنے ساتھ اونٹ یہ بٹھا رکھا ہے تو آپ نے جواب دیا کہ یہ مبرا عبد ہے۔ اس طرح آپ کا نام عبدالمطلب مشہور ہوگیا۔ حضرت محدث علی الاطلاق شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے روضتہ الاحبار کے حوالے سے دوسری وجہ یہ بتائی کہ حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد گرامی کی دنیائے فانی سے رحلت کے بعد چونکہ جناب مطلب نے آپ کی پرورش کی اور عرب کے دستور کے مطابق جس کی پرورش کی جاتی تھی اسے عبد کہا جاتا تھا تو اس تناظر میں آپ کو عبدالمطلب نام سے پکارا جانے لگا۔
زرقانی علی المواہب کی جلد اوّل میں بڑی صراحت واستناد کے ساتھ درج ہے کہ حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقدس پیشانی میں سرور کائنات ۖ کا نور نبوت اس قدر درخشاں وتاباں تھا کہ جو بھی آپ کو دیکھتا اس کی آنکھیں خیرہ ہوجاتیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ خانہ کعبہ کے کسی گوشے میں محوِ استراحت تھے۔ جب آپ بیدار ہوئے تو یہ دیکھ کر لوگوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آپ کے جسم مقدس پر بے حد قیمتی زرق برق لباس تھا اور آپ کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا تھا اور مزید برآں آپ کے سر کے بالوں سے تیل کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ اس وقت آپ کا حسن وجمال اس قدر دوبالا نظر آرہا تھا کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں ٹھہر نہیں پا رہی تھیں۔ سارے کے سارے ایک دوسرے سرگوشی کرنے لگے کہ اخیر اس جوان کے حسن وجمال اور مرتبہ کمال کا راز کیا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here