ریاست، یونین یا فیڈریشن کا وجود !!!

0
10
رمضان رانا
رمضان رانا

بنی آدم کی اولادوں کے بکھر جانے کے بعد انسان ایک جانور پرند چرند کی طرح زندگی بسر کرنے لگا جو اپنے آپ کو کمزور اور غیر محفوظ سمجھتا تھا جس کے بعد اپنے قریبی رشتے داروں میں خاندان کی طرح رہنے لگا جو اکٹھے کھاتے پیتے تھے تاکہ متحد ہو کر مشترکہ تکلیفوں اور مشکلوں کا مقابلہ کیا جائے ۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب انسان جانوروں کی طرح خانہ بدوش تھا ،پھر یہ خاندان قبیلوں کی شکل اختیار کر گئے ،جس میں قبیلے کے لوگ مل کر اپنا سردار اور محافظ چننے لگے جو بڑھتے بڑھتے بڑے قبائل میں بدل گئے ۔ جنہوں نے آخر کار ایک سولائزیشن کی بنیاد رکھی جس کو تاریخ میں قدیم سول لائزیشن کا نام دیا ہے جو آج بھی بیلان، آسرین، مونجودھاڑو، ہڑپہ گنگا جمنا اور قدیم مذہبوں کا نام آتا ہے جو بعد میں توسیع پسندی میں سلطنتوں میں بدل گیا ۔
جب انسان ایک دوسرے کے علاقوں پر قبضے کرنے لگے جس میں فرعونوں، نمرودوں، روضوں، عشمائیوں، فارسیوں، یونانیوں، خلافتوں، انگریزوں فرانسیوں ولندیزوں، پرتگالیوں، ہیٹ ٹولوںکی سلطنتیں قابل ذکر ہیں ۔جس کا خاتمہ گزشتہ صدی میں ہوا تھا جب جنگ عظیم اوّل اور دوم کا آغاز ہوا تو دنیا پر قابض سلطنتوں بعد دیگرے خاتمہ ہوا ۔جس کے عوض دنیا میں لیگ آف نیشن اور اقوام متحدہ کا وجود لایا گیا کہ آج کے بعد دنیا بھر کے ملکوں کا وجود اور جغرافیہ تسلیم کیا جائے گا جو آزاد اور خودمختار ریاستوں کے وجود کا باعث بنا۔ جس میں علاقے کی لاتعداد ریاستوں نے متحد ہو کر یونین یا فیڈریشن کی بنیاد رکھی ہے جو سابقہ سوویت یونین ریاست ہائے متحد امریکہ، ہندوستان، پاکستان اور دوسرے لاتعداد ملک پائے جاتے ہیں جو کئی کئی ریاستوں یا صوبوں پر مشتمل یونین اور فیڈریشن کہلاتی ہیں جس میں ریاستوں صوبوں اور اکائیوں کے حقوق وفرائض شامل ہوتے ہیں۔ جو اپنے اپنے وسائل ،کلچر، زبان، تہذیب وتمدن پر مشتمل ریاست کو چلانے کیلئے حکومتوں کی تشکیل وتحلیل کرتے ہیں۔ ان ریاستوں کی یونین یا فیڈریشن کا مطلب اور مقصدیہ تھاکہ عہد قدیم کی طرح کوئی بھی سکندراعظم ملکوں کو فتح کرتے ہوئے ہندستان تک نہ پہنچ پائے جو آج ممکن نہیں ہے۔ جس میں بڑی طاقتیں ملکوں کو اپنے اسلحے سے تباہ وبرباد تو کرسکتی ہیں مگر ملکوں پر قبضہ کرنا ممکن نہیں رہا کیونکہ ریاستوں صوبوں اکائیوں کے اتحاد سے وہ ملک بہت مضبوط کہلاتے ہیں جن کو ریاستوں کے عوام مل کر جنگ وجدل کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے جدید دور میں وہ ملک کمزور کہلاتے ہیں جن کے پاس زیادہ اکائیاں یا صوبے نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی نفری کم ہوتی ہے۔ وسائل بھی کام نہیں کرتے ہیں جس کے بچائو کیلئے عربوں کی طرح انہیں امریکہ جیسی طاقت کا سہارا لینا پڑتا ہے حالانکہ یہ عرب دنیا ایک خلافت ہوا کرتے تھے جس میں تمام عرب ممالک صوبے کہلاتے تھے تو اس وقت عربوں کے دنیا میں ڈنکے بجتے تھے۔ تاہم آج پوری دنیا یونین یا فیڈریشن کو ترجیح دے رہی ہے۔ جس میں یورپ نے وہ سب کچھ کر دیکھا کہ جس نے اپنی صدیوں پرانی جنگ وجدل کے باوجود جس میں کروڑوں انسان مارے گئے تھے ایک یونین پر مشتمل یورپین یونین کی بنیاد رکھی ہے جس میں یورپین ممالک شریک ہیں جو ایک پلیٹ فارم پر جمے ہو کر انہی نقاط پر متحد ہوچکے ہیں کہ اگر کوئی غیر یورپین ملک کسی بھی یورپین ملک پر حملہ کرے گا تو وہ پورے یورپ پر حملہ تصور سمجھا جائے گا۔
جس کی ایک کرنسی ہے ایک دوسرے ملک میں داخل ہونے کیلئے کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہے یہ وہ اتحاد ہے کہ جس نے دنیا بھر میں مزید یونین کے وجود کی بنیاد رکھ دی ہے، جس میں افریقہ ،سائوتھ ایشیا اتحاد یا پھر مختلف اتحاد وجود میں آچکے ہیں جو فی الحال کاروبار تک محدود ہیں۔ بہرحال آج ملکوں کے درمیان یونین کی شدید ضرورت ہے جو اردگرد کی ریاستوں کی مل کر مدد کر پائیں ۔بدقسمتی سے سائوتھ ایشیا میں اس کا شدید فقدان ہے حالانکہ بھارت پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، افغانستان یا دوسرے ایشیا ملک متحد ہوکر اپنے مشترکہ وسائل کی بنا پر تمام مسائل پر قابو پا سکتے ہیں مگر بھارت جیسا ملک اردگرد کی ریاستوں کے اتحاد توڑنے میں مصروف ہے جس سے لگتا ہے ایک دن پھر سائوتھ ایشیا کئی طاقت کا مقبوضہ اور مغلوبہ بن جائے گا جس سے چند دہائیاں پہلے آزادی حاصل کی ہے۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here