رنگِ زیست : گلدست صد رنگ!!!

0
8
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

علی احمد شاہ صاحب مقیم ٹورنٹو کینیڈا کا شعری مجموعہ رنگِ زیست زیرِ طبع ہے۔ ان کی ارسال شدہ چند غزلیات زینتِ نظر ہوئیں ۔ یہ شعری مجموعہ ایک گلدست صد رنگ ہے۔ جیسے سبز رنگ میں کئی رنگ ہوتے ہیں اور ہر سبز پتا دوسرے سبز پتے سے جدا سبز رنگ رکھتا ہے ویسے ہی علی احمد شاہ کی ہر غزل ایک نئے رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ مرزا غالب نے اپنی فارسی شاعری پر فخر کرتے ہوئے کہا تھا!
فارسی بین تا ببینی نقش ہائے رنگ رنگ
بگذر از مجموع اردو کہ بے رنگِ من است
لیکن یہاں اب معاملہ الٹ نظر آتا ہے۔ جیسے مرزا غالب کی اردو شاعری بھی ایک گلدست صد رنگ ہے، علی احمد شاہ کی شاعری بھی رنگ برنگ پھولوں کا گلدستہ ہے۔آپ کا طرزِ تحریر سادہ و سلیس ہے۔ جیسے آپ کی شخصیت میں خلوص اور سوز ہے ویسے ہی آپ کی شاعری میں بوئے اخلاص اور سوزِ دروں ہے۔ کتاب کا نام رنگِ زیست ہے۔گویا آپ نے زندگی کے گرم و سرد ایام کو مالا میں پرو دیا ہے۔ بقول ساحر لدھیانوی
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ دیا ہے مجھ کو وہ لوٹا رہا ہوں میں
مرزا غالب کی زمین میں کامیاب شعر کہنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ مرزا غالب کی ایک مشہورِ زمانہ غزل کا مطلع ہے!
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
اس زمین میں آپ نے نہایت عمدہ غزل کہی ہے۔ دو شعر ملاحظہ کیجئے!
میں بڑی الجھنوں میں زندہ ہوں
مجھ کو اِن سے رہا کرئے کوئی
میں بھٹکتا ہوا مسافر ہوں
مجھ کو منزل عطا کرے کوئی
رنگِ زیست میں غزلیات کے علاوہ چند منظومات بھی ہیں جو آپ کی روحانی، مذہبی، معاشرتی اور سماجی موضوعات پر گہری نظر کی غماز ہیں۔ آپ کے شاعرانہ جوہر غزل میں پوری تب و تاب کے ساتھ کھلتے ہیں۔ جدید غزل کا پیمانہ بہت وسیع ہو چکا ہے۔ غزل کا ہر شعر گنجین معانی اورماہِ ہفت اقلیم ہوتا ہے۔ یہ قطرے میں جلو طور دکھانا اور کوزے میں دریا بند کرنا ہے۔ آپ کی ہر غزل دریائے معانی ہے۔ روایت اور جدت کا حسین سنگم ہے۔ الہامی شاعری ہی در اصل شاعری ہے۔ مرزا غالب نے کہا تھا!
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
یہی نوائے سروش ہمیں علی احمد شاہ صاحب کی شاعری میں ملتی ہے یعنی ان کی شاعری آورد نہیں بلکہ آمد ہے اور آمد کی شاعری کو ہی الہامی شاعری کہا جاتا ہے۔ وہ خود اِس کا اعلان کرتے ہوئے ایک غزل میں کہتے ہیں!
دل کوئی یہاں درد سے خالی نہ ملے گا
جس روز اثاثے ہوئے نیلام ہمارے
ہم شاہ ہیں کھلتے ہی نہیں اہلِ ہوس پر
ہوتے ہیں وفا بازوں پہ الہام ہمارے حیدرعلی دہلوی مرحوم کے شعری مجموعہ کا نام صبحِ الہام ہے۔ واقعی الہامی شاعری ابدی و سرمدی ہے۔ وہ کہتے ہیں
ابھی ماحول عرفانِ ہنر میں پست ہے حیدر
یکا یک ہر بلند آواز پہچانی نہیں جاتی
علی احمد شاہ کی شاعری چونکہ الہامی شاعری ہے اِس لیے جلد یا بدیر اِس کا نقارہ گنبدِ افلاک میں گونجے گا۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here