امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے جس طرح آزادی سے مسلمان اپنے مذہب تقریبات اور عبادات کر رہے ہیں اس طرح اپنے اپنے آبائی ممالک میں نہیں کرسکتے۔ مسلمانوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ہر شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔حلال فوڈ بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مسلمان امریکی معیشت میں حلال فوڈ بزنس کے ذریعے اربوں ڈالر حصہ ڈال رہے ہیں۔ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں روزمرہ اشیاء مہنگی ہو کر سستی ہو جاتی ہیں کرونا میں کھانے پینے کی اشیا اور پٹرول بہت مہنگا ہوگیا لیکن کرونا گزرنے کے بعد قیمتیں واپس آئیں سوائے چند اشیاء کے جن میں بکرے بکری کا گوشت آئل اور مرغی کا گوشت شامل ہے ان کی قیمتیں زیادہ کم نہیں ہوسکیں باقی تمام اشیاء جیسے دودھ فروٹ سبزیاں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں نیچے آگئیں اس کے ساتھ ساتھ پیٹرول کی قیمتیں بھی نیچے آئیں۔ امریکن گروسری سٹورز نے بھی حلال اشیاء فروخت ہو رہی ہے۔ ہمارے پاکستانی گروسری سٹورز اور ریسٹورنٹس اکثریت میں اپنی مرضی سے قیمتیں اوپر لے جاتے ہیں اور بہانہ مہنگائی کا بنا کر پانچ پانچ سو فیصد منافع کما رہے ہیں اس کی مثال رمضان المبارک میں سموسے پکوڑے اور چاٹ پاپڑی مسلمان اپنی خوراک میں شامل کرتے ہیں۔ چاٹ پاپڑی کے اجزا میں چنے آلو نمک پارے پیاز ہیں دس پائونڈ آلو پانچ ڈالر دس پائونڈ چنے دس ڈالر تین پائونڈ نمک پارے پندرہ ڈالر یہ ٹوٹل ہوگئے۔23 پائونڈ اور تیس ڈالر لاگت پانچ ڈالر مصالحے اور پیاز کے بھی ایڈ کرلیں تو ٹوٹل 35 ڈالر لاگت ہے جس سے 23 پائونڈ چاٹ پاپڑی یعنی 23 ڈبے تیار ہوتے ہیں ایک پائونڈ کے قریب ڈبے کی قیمت آٹھ سے بارہ ڈالر وصول کی جارہی ہے اگر دس ڈالر بھی لگائیں تو 230 ڈالر بنتے ہیں یعنی 35 ڈالر لگا کر 230 ڈالر بنائے جارہے ہیں سموسے کا بھی یہی حال ہے پچیس سے تیس سینٹ سموسے کی لاگت ہے جس کو پاکستانی ریسٹورنٹس اور گروسری سٹورز پر دو سے تین ڈالر فی سموسہ فروخت کیا جارہا ہے ہمارے پاکستانی سٹورز اور اکثریت میں ریسٹورنٹس اپنی مرضی اور من مانی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔اگر سرکاری سطح پر ایک ڈالر کی مہنگائی ہوئی ہے تو یہ پانچ ڈالر بڑھا دیتے ہیں اور مہنگائی مہنگائی بہانہ بنا کر اپنی کمیونٹی کو لوٹ مار میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ امریکہ میں ہر پاکستانی یا مسلمان لاکھ لاکھ ڈالر تنخواہیں نہیں لیتے کمیونٹی کی آدھی آبادی گیس سٹیشن ٹیکسی اور دیگر محنت مزدوری کرتے ہیں یہ قیمتیں ان کی پہنچ سے باہر ہیں اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی ریسٹورنٹس اور حلال میڈ اینڈ گروسری سٹورز پرEXPIRE ڈیٹ اشیا کی بہت زیادہ شکایات ہیں جس میں مصالحہ جات کی جعلی تاریخ اوپر چھاپ دی جاتی ہے کئی ریسٹورنٹس بھی EXPIRE مصالحہ جات اور دیگر اشیاء استعمال کرتے ہیں۔ مٹھائیوں میں بھی اسی طرح لوٹ مار ہے مہنگائی کے بہانے جو مٹھائی کرونا سے پہلے پانچ ڈالر پائونڈ تھی آج بارہ سے چودہ ڈالر پائونڈ بیچی جارہی ہے گوشت کی کئی اقسام پاکستان گروسری سٹورز پر بیچی جارہی ہیں۔ FDA میں مسلمان اہلکار اور انتظامیہ حلال فوڈ ٹاسک فورس قائم کرنے کی پلاننگ کر رہے ہیں یہ عرض کرتے چلیں یہ قیمتوں میں اضافہ سب گروسری سٹورز اور ریسٹورنٹس نہیں کرتے کئی ایسے بھی ہیں جو قیمتیں مناسب اور تازہ اشیا کے ساتھ حلال درست گوشت فروخت کر رہے ہیں لیکن اکثریتی کاروباری اپنی مرضی سے مناپلی قائم کی ہوئی ہے قیمتوں کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں قیمتوں پر کنٹرول اور درست اشیاء کے لئے کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر FDA کی قائم شدہ حلال فوڈ ٹاسک فورس کا انتظار کرتے ہیں تاکہ مسلمان کمیونٹی کو ریلیف ملے۔(باقی آئندہ)
٭٭٭٭٭













