ہم نے اپنے گزشتہ کالم اتحاد و اتفاق وطن کی سلامتی کے حوالے سے وطن عزیز کے ہر شعبے میں مثبت و حب الوطنی کے جس کردار پر اپیل کی تھی، گزشتہ ہفتے وہ کردار ایران کے شہید رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری سفر کی رسومات کے دوران ایرانی قوم میں نظر آیا۔ اتحاد، اتفاق، محبت اور عزم کے جو مظاہر سامنے آئے وہ ایک تاریخ بن گئے، کروڑوں سوگواران کی شرکت، سو سے زائد ممالک کے قائدین کی شرکت اور نظم و ضبط کے احوال سے تو قارئین یقیناً آگاہ ہو چکے ہیں لیکن وطن عزیز میں گزشتہ ہفتہ جو واقعات رونما ہوئے ہیں وہ کسی بھی طرح نہ حب الوطنی، اجتماعیت، تہذیب کے عکاس ہیں اور نہ ہی قومیت و محبت کے آئینہ دار ہیں۔ خبر سے لے کر کردار تک برائی کے عمل تک گندگی، مبالغہ آرائی اور جھوٹ کا ایک طوفان ہی نظر آتا ہے جو اغراض کے پردے میں ہر شعبۂ حیات کی اولیت ہے، حکومت سیاست، معاشرت، اخلاقیات، صحافت، غرض ہر شعبے میں طوفان و انحطاط ہے اور اس کا سد باب عنقا ہے۔
ہماری درج بالا تمہید بلا وجہ نہیں، گزشتہ ہفتے کے واقعات کے حوالے سے دیکھیں تو ہمارے میڈیا سمیت ہر شعبۂ حیات کا موضوع تاحال غیر ملکی خواتین کے حوالے سے رضا ڈار کے کردار، اجتماعی جنسی زیادتی اور اس کے مضمرات اور اسحاق ڈار و پنجاب حکومت، پولیس اور مریم نواز کے حوالے سے پہلی ترجیح بنا ہوا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اس قدر سنگین واقعہ پر استحاق ڈار کو خود ہی حکومتی ذمہ داری سے دستبردار ہو جانا چاہیے تھا بلکہ سمدھیانہ رشتے کی وجہ سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو مستعفی نہیں تو کم از کم غیر جانبدار رہنا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس وفاق اور پنجاب کے لیگی چمچے اس کوشش میں نظر آتے ہیں کہ وہ رضا ڈار کے مجرمانہ کردار سے اس کے نانا اور سمدھیانہ رشتہ دار کی برأت اور عدم تعلق کو ثابت کریں۔ حد تو یہ ہے کہ اس چکرمیں پنجاب کے ڈی آئی جی آپریشن کو بھی گندا کروا دیا گیا۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ غیر ملکی خواتین سے جنسی زیادتی کا یہ واقعہ پاکستان کی عالمی اُفق پر بدنامی اور ساکھ پر اثر کا سبب ہے لیکن کیا اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے میں ہونے والے دیگر واقعات و حالات خصوصاً پاکستان کی سالمیت و بقاء کے حوالے سے اتنے اہم نہیں کہ سارا میڈیا بشمول یو ٹیوبر، بلاگر اور ٹک ٹاکر مسلسل صرف رضا ڈار کیس میں ہی لگے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں ایئر فورس کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت کی خبر محض سرسری دی گئی جبکہ اس نے خاتون کی عصمت کی حفاظت میں جان نچھاور کی۔
افسوس اس امر پر ہوتا ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی سلامتی کے حوالے سے جن حالات اور دشمن واقعات سے نبرد آزما ہے ان پر ہمارا میڈیا اور سوشل میڈیا اولین ترجیح دینے کے برعکس اختلافی سیاسی جھگڑوں اور ان موضوعات پر توجہ دیتا ہے جو ان کی مالی منفعت کا ذریعہ بنیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان و بھارت کے 117 افراد کے دستخطوں سے پاک بھارت تعلقات و امن کے حوالے سے جاری ہونیوالا خط بظاہر امن کے قیام کیلئے تھا جس میں بھارت کے 61 اور پاکستان کے 56 لوگوں کے دستخط تھے لیکن کیا موجودہ صورتحال میں جب مودی رجیم پاکستان کیخلاف سیندور 2 کا اعلان کر رہا ہے پانی روکنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، افغان طالبان اور پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی اور آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کی آڑ میں فساد و شورش کروا رہا ہے، کیا اس خط کے مندرجات پر اعتماد کیا جا سکتا ہے لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ اس خط پر سابق وزیر خارجہ، سابق سیکرٹری خارجہ، پاکستان و سابق جنرلز و بیورو کریٹس، کشمیری رہنمائوں فاروق عبداللہ، محبوب مفتی و حریت کانفرنس کے مقید رہنما بھارت کے سابق وزیراعظم سمیت جن سنگھی رہنمائوں کے دستخط ہیں تو کیا اس خط پر خصوصاً موجودہ حالات میں اعتبار کیا جا سکتا ہے یا پھر اس کو نیا جال لائے پرانے شکاری سے تعبیر کیا جائے کہ دنیا بھر میں عسکری و ڈپلومیٹک ذلت و رسوائی کے بعد بھارت اس طرح اپنی وقعت بحال کرانا چاہتا ہے جس میں پاکستانی و مقبوضہ کشمیر کی اشرافیہ بھی دانستہ یا غیر دانستہ استعمال ہو گئی ہے۔
سوموار کو ہونیوالی کور کمانڈرز کانفرنس کے فیصلوں اور اعلانات سے جہاں بھارت و افغان طالبان کی دشمنانہ کاروائیوں پر جہاں پاکستان کا واضح مؤقف سامنے آیا ہے وہیں یہ بات بھی واضح ہے کہ مذکورہ خط بھی کسی اہمیت کا حامل نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خط کے حوالے سے کوئی مؤقف حکومت کا سامنے کیوں نہیں آیا، حیرت اس بات پر بھی ہے کہ میڈیا نے بھی صرف تذکرہ کیا اس اہم موضوع کی جگہ سارا زور غیر ملکی خواتین کا ایشو ہی اس کے پیش نظر رہا۔
کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایسی قوم ہیں جس کی وطن سے محبت صرف زبانی کلامی ہے یا یوم آزادی تک، عمل سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
















