فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
2

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا نام نامی اسم گرامی علی تھا۔ اور والد محترم کا نام نامی اسم گرامی امام حسین رضی اللہ عنہ تھا۔ آپ کی کنیتیں ابوالحسن، ابو محمد، ابوبکر لقب سجاد اور زین العابدین تھا۔ آپ کی والدہ محترمہ حضرت سہر بانو بنت یزوجر تھیں۔ ابھی آپ تین سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ آپ کے دادا جان سّیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کرّم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم کی شہادت ہوگئی تھی۔ پھر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد حضرت امام حسین مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سانحہ پیش آیا۔ واقعہ کربلا کے وقت آپ کی عمر مبارکہ تقریباً٢٣ سال تھی۔ یہ بھی آپ کا امتحان تھا کہ عین واقعہ کربلا کے موقع پر آپ سخت بیمار ہوگئے اور واقعہ کربلا کے بعد کے تمام صدمے آپ کو برداشت کرنا پڑے۔ جب یزید نے لوگوں سے دمشق میں اسیران کربلا معلّٰی کے متعلق مشورے لئے کہ بتائو اب ان کا کیا کیا جائے آیا ان سب کو قتل کر دیا جائے یا قید میں رکھیں یا رہا کردیا جائے۔ تو اس کے حواریوں نے اس کو طرح طرح کے مشورے دیئے۔ اکثر نے رائے یہ دی کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے۔ تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے یزید! تیرے درباریوں نے تو تجھے وہ مشورہ دیا ہے جو فرعون کے درباریوں نے بھی نہیں دیا تھا کیوں کہ اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیھما الصّلٰوة والسّلام کے متعلق دریافت کیا تھا۔ کہ مجھے ان سے کیا کرنا چاہیئے؟ تو اس کے درباریوں نے اسے کہا تھا کہ ان کو قید کر ڈالو۔ لیکن یہ تو اُن سے بھی بدتر ثابت ہوئے جو اسیران آل رسولۖ کے قتل کے متعلق مشورہ دے رہے ہیں بہرحال جرات وبہادری اور غیرت وحمیت اتنے صدموں کے باوجود بھی اسی طرح باقی تھی۔
آپ رضی اللہ عنہ انتہا، درجہ کے متقی اور پرہیز گار انسان تھے۔ جب آپ وضو فرماتے تو(خوف خدا سے) رنگ زرد ہو جاتا عرض کیا گیا حضور! آپ کی یہ حالت کیوں ہو جاتی ہے؟ فرماتے تم جانتے نہیں ہو کہ کس ذات کے سامنے میں کھڑا ہو رہا ہوں؟ مرتے دم تک آپ( فرض نماز کے علاوہ) ایک ہزار رکعت(نوافل) ہر روز ادا فرماتے تھے۔ ابن شہاب فرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے بڑھ کر کسی ہاشمی شہزادے کو(عظمت رسُان کے لحاظ سے) نہ دیکھا۔ حضرت سعید بن مسیّب فرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے بڑا پرہیز گار کوئی نہیں دیکھا، نماز کے دوران آپ اس قدر خشوع وخضوع میں ہوتے کہ ایک مرتبہ اپنے گھر میں آپ نماز فرما رہے تھے کہ گھر میں آگ لگ گئی جبکہ آپ سجدے میں تھے لوگوں نے آپ بجھانا شروع کردی اور آپ کو آواز دیتے رہے۔ جب سلام پھیرا تو دیکھا کہ گھر جلا ہوا ہے اور دھواں اٹھ رہا ہے۔ آپ نے پوچھا یہ دھواں کیسا ہے؟ لوگوں نے ساری صورتحال بیان کی تو آپ نے فرمایا:میں تو آخرت کی آگ بجھانے میں مشغول تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے علم وفضل کا عالم یہ تھا کہ اصحاب سیر لکھتے ہیںکہ آپ رضی اللہ عنہ علم وعبادت کی بلندیوں پر فائز تھے۔ اور دن رات میں اتنے وظائف پڑھتے کہ پوری جماعت بھی نہ پڑھ سکتی۔ آپ کے اخلاق عالیہ کے متعلق نورالابصار میں ہے کہ آپ ایک مرتبہ مسجد سے باہر تشریف لائے تو ایک شخص سے آپ کی ملاقات ہوگئی۔ اس شخص نے آپ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے۔ آپ کے غلام اس شخص کی طرف لپکے تو آپ نے ان کو روک لیا اور فرمایا: اے شخص ہمارے حالات کا تو بہت حصہ تجھ سے مخفی ہے اگر تجھ کو کوئی حاجت ہے تو بیان کر تاکہ ہم تیری معاونت کرسکیں۔ پھر آپ نے اس کو اپنا ایک جبہ مبارک اور پانچ ہزار درہم دیئے۔ اور اس کو یہ دیکھ کر حیا آئی تو اس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اولاد رسُولۖ ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ کو زین العابدین کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک رات آپ نماز تہجد میں مشغول تھے کہ شیطان ایک سانپ کی شکل میں ظاہر ہوا تاکہ اس ہیبت ناک شکل سے آپ کو عبادت سے باز رکھ کر لہو ولعب میں مشغول کر دے۔ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی یہاں تک کہ سانپ نے آپ رضی اللہ عنہ کے پائوں کا انگوٹھا اپنے منہ میں ڈال لیا۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے پھر کوئی توجہ نہ دی۔ اس نے آپ کو انگوٹھے کو نہایت سختی سے کاٹا جس سے آپ کو بہت درد محسوس ہوا۔ اس پر بھی آپ نے نماز قطع نہ فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پرکشف کر دیا کہ وہ شیطان ہے۔ آپ نے اسے برا بھلا کہا اور مارا پھر کہا: اے ذلیل وکمینے دور ہو جا جو نہی سانپ دور ہوا آپ کھڑے ہوگئے تاکہ درد ختم ہوجائے۔ دریں اثنا آپ نے ایک آواز سنی لیکن سائل نظر نہ آیا کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا آپ زین العابدین ہیں۔ آپ زین العابدین ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ چڑیوں کی تسبیح کی آواز پہچان لیتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ لوگ چڑیوں کو ذبح کر رہے تھے اور چڑیاں چیخ رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا یہ چڑیاں اللہ کی تقدیس بیان کر رہی ہیں۔ اور انہوں نے آج کی روزی طلب نہیں کی۔ ایک رات ایک آدمی کہہ رہا تھا۔ دنیا کے زاہد کہاں ہیں اور آخرت کے راغب کہاں ہیں؟ تو اس کو جنت البقیع کی طرف سے غائبانہ آواز آئی”علی بن حسین ہیں۔ ایک دن آپ کی اونٹنی راہ میں سستی وکاہلی کرنے لگی۔ آپ نے اسے بٹھا دیا۔ اور اسے تازیانہ یا عصاء دکھا کر کہا۔ تیز تیز چلو ورنہ اس تازیا نے اور ڈنڈے سے تمہیں سزا دوں گا۔ اونٹنی نے تیز چلنا شروع کردیا اور اس کے بعد سستی سے کام نہ لیا بہرحال آپ رضی اللہ عنہ صبر کے امام ہیں۔ آپ کا مرتبہ ومقام بہت زیادہ ہے آپ کا وصّال باکمال٢٥ محرم الحرام ١٥ھ میں ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجے بلند فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here