پاکستان کی معاشی تاریخ میں اگر کسی ایک بحث نے مستقل طور پر جگہ بنائے رکھی ہے تو وہ ہے قومیانے اور نجکاری کی پالیسیوں کا تضاد۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں جہاں بڑے پیمانے پر صنعتوں، بینکوں اور اداروں کو قومی تحویل میں لیا گیا، وہیں بعد ازاں آنے والی تقریبا تمام حکومتوں نے نجکاری کو معیشت کی بہتری کا واحد راستہ قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسئلہ پالیسی کا تھا یا اس پر عملدرآمد کا؟1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے قومیانے کی پالیسی اس نیت سے اپنائی کہ ریاست معاشی وسائل پر کنٹرول حاصل کرے، دولت کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائے اور عام آدمی کو استحصال سے بچایا جائے۔ ابتدا میں اس پالیسی کو عوامی حمایت حاصل ہوئی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ سرکاری ادارے سیاسی مداخلت، نااہلی، اقربا پروری اور ناقص انتظام کے باعث خسارے میں جاتے چلے گئے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) جو کبھی ایشیا کی بہترین ایئرلائن سمجھی جاتی تھی، انہی عوامل کا شکار ہو کر قومی معیشت پر بوجھ بنتی چلی گئی۔بعد میں آنے والی حکومتوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ریاست کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ سہولت فراہم کرنا ہے، چنانچہ نجکاری کو فروغ دیا گیا۔ مگر بدقسمتی سے نجکاری کا عمل بھی شفافیت، احتساب اور طویل المدتی منصوبہ بندی سے محروم رہا۔ کئی ادارے اونے پونے داموں فروخت ہوئے، کہیں مزدور بے روزگار ہوئے اور کہیں ریاستی اثاثے مخصوص طبقوں کے ہاتھوں میں چلے گئے۔ اس کے نتیجے میں نجکاری بھی عوام کے لیے ایک متنازع تصور بن گئی۔پی آئی اے کی نجکاری اسی طویل پالیسی تذبذب کا تازہ باب ہے۔ ایک طرف حکومت یہ مقف اختیار کرتی ہے کہ قومی خزانہ مزید خسارہ برداشت نہیں کر سکتا، جبکہ دوسری جانب خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ نجکاری کے بعد ملازمین کا مستقبل کیا ہوگا، قومی شناخت کی علامت سمجھی جانے والی ایئرلائن کس سمت جائے گی اور کیا واقعی سروس میں بہتری آئے گی یا نہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ قومیانا بہتر ہے یا نجکاری، بلکہ اصل مسئلہ گورننس کا ہے۔ دنیا میں کئی سرکاری ادارے کامیابی سے چل رہے ہیں اور کئی نجی ادارے بھی ناکامی کا شکار ہوتے ہیں۔ کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ادارے کو کس طرح چلایا جا رہا ہے، اس میں پیشہ ورانہ مہارت کتنی ہے، سیاسی مداخلت کس حد تک روکی گئی ہے اور احتساب کا نظام کتنا مضبوط ہے۔پاکستان آج بھی اسی کنفیوژن کا شکار ہے کہ کون سی پالیسی ہمارے لیے درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی کسی ایک پالیسی کو مستقل مزاجی اور دیانت داری سے نافذ نہیں کیا۔ کبھی قومیانے کے نام پر اداروں کو سیاسی بھرتیوں سے بھر دیا گیا اور کبھی نجکاری کے نام پر قومی اثاثے ضائع کر دیے گئے۔پی آئی اے کی نجکاری کے بعد اصل امتحان شروع ہوگا۔ اگر یہ فیصلہ شفاف، میرٹ پر اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیا گیا تو ممکن ہے کہ یہ ادارہ دوبارہ اپنے پاں پر کھڑا ہو سکے۔ بصورت دیگر، یہ بھی ماضی کے ناکام تجربات کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ قوم اب نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے فیصلوں کی جانچ کرے گی۔
٭٭٭
















