ہم کو بھی اک یزید کا، دور دکھا دیا گیا !!!

0
30

صوفیوں اور سنتوں کی سر زمین ہندوستان کی تاریخ، کبھی بھی مودی کی ظالمانہ حکومت کی طرح نہیں رہی۔ ہندو تشدد پسند تنظیم، راشٹریہ سیوک سنگھ یا آر ایس ایس کی ممبرشپ کبھی بھی پچاس ساٹھ ہزار سے زیادہ نہ بڑھ سکی۔ اس کے باوجود، ہندوستان کی کئی حکومتوں کی جانب سے، اس پر گاہے بگاہے پابندیاں بھی لگتی رہیں۔ انگریزوں کے ظلم و جبر کے باوجود، ہندوستان کی آزادی کی تحریک بڑی حد تک عدمِ تشدد کے اصولوں پر کاربند رہی۔ اب اسی ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک کی بدقسمتی دیکھئے کہ گزشتہ کئی برسوں سے اسے شدید انتہا پسند حکمرانوں نے اپنے چنگل میں جکڑ رکھا ہے۔ اقلیتوں کے خون کے پیاسے یہ لوگ، اپنی تاریخی روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، تہذیب و شرافت کی ساری حدود پار کر چکے ہیں۔ اقبال اشعر کے بقول!
ہم کو ہمارے صبر کا خوب صلہ دیا گیایعنی دوا نہ دی گئی، درد بڑھا دیا گیا
ان کی مراد ہے یہی ختم نہ ہو یہ تیرگیجس نے ذرا بڑھائی لو، اس کو بجھا دیا گیا
بھارتی ریاست بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی اتارنے کا معاملہ بھی ہندوستان کی مودی سرکار کی یزیدیت کی ایک کڑی ہے۔ ایک باپردہ اور باعزت خاتون کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی کرنا، انسانیت کے ہر معیار سے انتہائی گری ہوئی حرکت ہے۔ اپنی طاقت کے نشہ میں بدمست ہوکر ایک کمزور خاتون کے ساتھ کی گئی یہ زیادتی، کسی لحاظ سے بھی قابلِ برداشت نہیں ہو سکتی۔ کاش ہندوستان کے شہریوں کے ساتھ ساتھ، پوری دنیا اس ناجائز حرکت کے خلاف آواز اٹھاتی تاکہ مستقبل کا ہر ظالم و جابر اس طرح کی گری ہوئی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکتا۔ اقبال اشعر کے یہ اشعار بھی قابلِ قدر ہیں۔
منکرِ کربلا ہوئے درد میں مبتلا ہوئیہم کو بھی اک یزید کا، دور دکھا دیا گیا
شوق سے اب جناب میری زباں تراشیئیبولے بغیر بولنا، مجھ کو سکھا دیا گیا
ہندوستان جیسی عظیم ریاست کے حالات مودی اور اس کے قریبی ساتھیوں نے کچھ اس طرح بگاڑے ہیں کہ مستقبلِ قریب میں کوئی بہتری کی صورت بھی دکھائی نہیں دیتی۔ کروڑ سے متجاوز آبادی کی یہ بہت بڑی ریاست، اپنی اقلیتوں کو نہیں سنبھال پا رہی۔ ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان ہیں جو انتہائی خطرناک معاشی انحطاط کا شکار ہیں۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہونے کے پیشِ نظر،مقبوضہ کشمیر کی ریاست کے علاوہ جن صوبوں میں اردو کو ایک سرکاری زبان مانا جاتا ہے، وہ اتر پردیش، آندھرا پردیش، دہلی، بہار، مغربی بنگال اور تلنگانہ ہیں۔ اس کے باوجود، مودی، جسے گجرات کے قصاب کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے، کی قیادت میں ہندو اکثریت، مسلم معاشرت اور اردو زبان کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتی۔ اقبال اشعر نے کیا خوب تصویر کشی کی ہے۔پھر کہا گیا کہ آپ شوق سے سانس لیجئیپہلے ہوائے شہر میں، زہر ملا دیا گیا
اہلِ ستم کو رات پھر دعوتِ رقص دی گئیاور برائے روشنی، شہر جلا دیا گیا
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here