ڈاکٹر سعید نقوی!!!

0
2
عامر بیگ

ادب کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنی تخلیقات کے باعث نہیں بلکہ اپنی عملی خدمات، انتظامی بصیرت اور ادبی تحریکوں کی آبیاری کے سبب بھی یاد رکھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر سعید نقوی انہی شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے امریکہ میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہی نہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔ ڈاکٹر سعید نقوی ایک معروف افسانہ نگار، شاعر، مترجم اور منتظم ہیں۔ افسانہ نگاری کے میدان میں ان کی متعدد کتابیں اردو ادب کا سرمایہ بن چکی ہیں اور ان کے افسانوں میں زندگی کے مختلف رنگ، انسانی نفسیات کی گہرائیاں اور معاشرتی شعور کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتیں صرف افسانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے انگریزی ادب کی منتخب اور معیاری کتب کے تراجم کے ذریعے اردو قارئین کو عالمی ادب سے روشناس کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، یوں ان کی ادبی خدمات اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ عظیم افسانہ نگار منٹو بھی افسانہ نگاری سے پہلے انگریزی ادب کے مترجم ہوا کرتے تھے۔ ڈاکٹر سعید نقوی کی شخصیت کا دوسرا اہم پہلو ان کی انتظامی صلاحیتیں ہیں، اور حلقہ اربابِ ذوق نیویارک کی کامیابی اور استحکام میں ان کی قیادت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر یہ اعزاز حاصل ہے کہ امریکہ آمد کے بعد اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ادبی سفر کو جلا بخشنے کے لیے میں نے حلقہ ارباب ذوق نیویارک کا انتخاب کیا۔ اس مقصد کے لیے میں سیریکیوز اپ اسٹیٹ نیویارک سے تقریباً چار سے پانچ گھنٹے کا طویل سفر طے کرکے حلقے کے اجلاسوں میں شرکت کرتا رہا۔ ان نشستوں نے جہاں بہت سے نئے ادبی دوستوں سے ملوایا، وہاں ایک نئے سرے سے ادبی تنظیم سازی کے عملی پہلوؤں سے بھی آشنا کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے محسوس ہوا کہ ڈاکٹر سعید نقوی کو مسلسل ذمہ داریوں سے کچھ فرصت ملنی چاہیے، اسی خیال کے تحت میں نے حلقے کے جنرل سیکریٹری کے انتخاب میں ان کے مقابلے میں نامزدگی جمع کرا دی۔ میں نے ان سے طویل گفتگو کرتے ہوئے یہ گزارش بھی کی کہ مجھے خدمت کا موقع دیا جائے۔ میں دنیا کے تیرہویں بڑے کاروباری تعلیمی پروگرام میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکا تھا اور یقین رکھتا تھا کہ تنظیمی امور میں مزید بہتریاں لا سکتا ہوں، لیکن ڈاکٹر سعید نقوی نے نہ صرف یہ تجویز قبول نہ کی بلکہ پوری استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنے کا مشورہ دیا۔ بعد ازاں محترم اعجاز بھٹی کے اصرار پر میں نے اپنی نامزدگی واپس لے لی۔ اس وقت مجھے ان کا رویہ شاید سخت محسوس ہوا تھا مگر آج جب ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کس قدر درست تھا۔ ایک ایسا شخص جو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود اردو ادب کی ترویج کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہو، اسے اس مشن سے الگ کرنا دراصل اردو ادب خصوصاً نیویارک کی اردو بستی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ بعض اوقات زندگی کی حقیقتیں وقت گزرنے کے بعد سمجھ آتی ہیں اور واقعی عقل آتے آتے آتی ہے۔ آج جبکہ میں خود نیو جرسی میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد حلق? ارباب ذوق نیو جرسی میں ایک عرصہ سے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہوں، تو اس تجربے نے مجھے اس ذمہ داری کی وسعت اور دشواری کا بخوبی احساس دلایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ڈاکٹر سعید نقوی کی خدمات اور ان کی استقامت میرے نزدیک پہلے سے کہیں زیادہ قابل قدر ہیں۔ جب میں آج حلقہ ارباب ذوق نیویارک کو اس کے موجودہ مقام پر دیکھتا ہوں تو بلا تردد یہ کہہ سکتا ہوں کہ لاہور کے بعد اگر دنیا میں کسی حلقہ ارباب ذوق نے اپنی مضبوط شناخت، تسلسل اور ادبی وقار قائم رکھا ہے تو وہ نیویارک کا حلقہ ہے، اور اس کامیابی کے پس منظر میں ڈاکٹر نقوی کا کردار لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی محنت، خلوص، بصیرت اور اردو ادب سے بے لوث محبت نے اس ادارے کو ایک مثالی ادبی مرکز بنا دیا ہے۔ میری دعا ہے کہ جو بھی شخص اردو زبان اور اردو ادب کی خدمت کے لیے عملی میدان میں قدم رکھے اللہ تعالیٰ اس کے اخلاص میں برکت عطا فرمائے اور ڈاکٹر سعید نقوی جیسے افراد جو اپنی زندگی کا قیمتی وقت ادب کی آبیاری کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں، ان کی خدمات کو قبولیت اور دوام عطا ہو۔ اردو ادب ان کا مقروض ہے اور آنے والی نسلیں ان کی ادبی و تنظیمی کاوشوں کو قدر و احترام کی نگاہ سے یاد رکھیں گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here