سید اولاد رسول قدسی مصباحی۔ قسط 8
بھلا کیوں نہ ہو حضرت والا اس مایہ ناز ہستی کے چشم و چراغ ہیں جنہیں نعتیہ شاعری کے میدان میں امامت و صدارت حاصل تھی تبھی تو ان کے کلام کو دنیا کلام الامام اور امام الکلام سے یاد کرتی ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو قطعی غلط نہیں ہوگا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کا کلام اپنے زمانے کے جملہ نعت گو شعراء سے ہر اعتبار سے ممتاز ہے بلکہ سچائی یہ ہے کہ امام احمد رضا کی نعتیہ شاعری اردو نعتیہ شاعری کا نقطہ آغاز ہے۔ عربی، فارسی اور اردو زبان و ادب کی تاریخ میں پانچ زبانوں میں نعت گوئی کا شرف آپ کے سوا دنیا کے کسی نعت نگار کو حاصل نہیں۔ آپ کی کہی ہوئی نعت لم یات نظیرک فی نظر اور قصیدہ معراجیہ آج بھی دنیائے ادب کے لیے ایک چیلنج ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کا بدل صبحِ قیامت تک کوئی پیش نہیں کر سکتا۔ امام احمد رضا کے کلام کی خوبیاں اربابِ نظر سے مخفی نہیں۔ پھر کسی موقع سے ان شاء اللہ اس پر مزید روشنی ڈالی جائے گی۔ نمونے کے چند اشعار ذیل میں ملاحظہ کریں۔
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
ہمیں بھیک مانگنے کو تیرا آستاں بتایا
تجھے حمد ہے خدایا
یہی بولے سدرہ والے چمنِ جہاں کے تھالے
سبھی میں نے چھان ڈالے ترے پایہ کا نہ پایا
تجھے یک نے یک بنایا
ہمیں اے رضا ترے دل کا پتہ چلا بمشکل
درِ روضہ کے مقابل وہ ہمیں نظر تو آیا
یہ نہ پوچھ کیسا پایا
ذرے جھڑ کر تیری پیزاروں کے
تاجِ سر بنتے ہیں سیاروں کے
میرے آقا کا وہ در ہے جس پر
ماتھے گھس جاتے ہیں سرداروں کے
میرے عیسیٰ ترے صدقے جاؤں
طورِ بے طور ہیں بیماروں کے
٭٭٭














