نیویارک (پاکستان نیوز)وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی حالیہ سماعت کے دوران سینیٹر ٹم کین اور سینیٹر مارک کیلی نے ان کے ماضی کے حوالے سے انتہائی سنگین اور پریشان کن انکشافات کیے۔ سماعت کے دوران سینیٹر ٹم کین نے براہ راست پیٹ ہیگسیتھ سے سوال کیا کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایک بار کے اندر نشے کی حالت میں تمام مسلمانوں کو قتل کر دو کے پرتشدد اور نفرت انگیز نعرے لگائے تھے؟ انہوں نے مزید کہا کہ یہ الزامات ان کے اپنے ہی ایک سابق ساتھی نے لگائے ہیں جو کسی بھی طرح گمنام نہیں ہیں۔ سماعت کے دوران پیٹ ہیگسیتھ پر اخلاقی گراوٹ کے دیگر الزامات بھی عائد کیے گئے جن میں ان کا اپنے ماتحت ملازمین کو ایک نائٹ کلب لے جانا اور وہاں نشے میں دھت ہو کر رقاصاؤں کے ساتھ اسٹیج پر رقص کرنے کی کوشش کرنا شامل ہے۔ سینیٹر نے بتایا کہ اس موقع پر پیٹ ہیگسیتھ اس قدر بے قابو ہو چکے تھے کہ ان کے اپنے ہی ایک ملازم کو انہیں زبردستی اسٹیج سے پیچھے ہٹانا پڑا، جس کے بعد ایک خاتون ملازم نے ان کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی باقاعدہ شکایت درج کرائی تھی۔ جب پیٹ ہیگسیتھ نے ان الزامات کو گمنام قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کی تو سینیٹر مارک کیلی نے سخت لہجے میں جواب دیا کہ یہ الزامات گمنام نہیں ہیں بلکہ ریکارڈ پر موجود ہیں اور ان میں پیٹ ہیگسیتھ کی اپنی والدہ کا نام بھی شامل ہے جنہوں نے ماضی میں ایک ای میل کے ذریعے اپنے بیٹے کے کردار اور خواتین کے ساتھ ان کے نازیبا سلوک پر کڑی تنقید کی تھی۔ سینیٹ کے ارکان نے ان واقعات کو وزیر دفاع جیسے حساس عہدے کے لیے نااہلی کی علامت قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ایک ایسا شخص جس کا ماضی شراب نوشی، جنسی بدسلوکی اور ایک مخصوص مذہبی طبقے کے خلاف شدید نفرت سے بھرا ہو، وہ امریکی فوج کی قیادت کرنے کا اہل ہو سکتا ہے؟ ان الزامات نے پیٹ ہیگسیتھ کی نامزدگی کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت مسلم کمیونٹی نے بھی ان کی تقرری پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
















