سینیٹر کوری بکر نے ایران جنگ تاریخی صدارتی غلطی قرار دیدی

0
9

نیو جرسی (پاکستان نیوز) ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ پر سینیٹر کوری بکر کا سخت ردعمل، امریکی صدر کی پالیسیوں کو موجودہ دور کی سب سے بڑی غلطی قرار دے دیا۔ نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بکر نے ایک ٹیلی ویڑن انٹرویو کے دوران ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع کو موجودہ دور کی عظیم ترین صدارتی غلطی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملک کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں ا? رہا اور یہ صورتحال ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ کوری بکر کے مطابق اس تنازع کی وجہ سے اب تک 13 امریکی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں اور اس جنگ پر اب تک 25 ارب ڈالر سے زائد کے اخراجات آئے ہیں۔ سینیٹر نے مزید کہا کہ حکومت نے ایک ایسے وقت میں جنگ پر اربوں ڈالر ضائع کیے ہیں جب ملک کے اندر صحت اور خوراک کے پروگراموں کے بجٹ میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر نے کانگریس سے کسی قسم کی اجازت لیے بغیر افغانستان کی جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی مداخلت شروع کر دی ہے جس کے نتیجے میں خطے میں ہزاروں مزید فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے ا?بنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس سے عام امریکی شہریوں کے لیے زندگی کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور صدر اپنے کسی بھی بیان کردہ مقصد بشمول جوہری پروگرام کی روک تھام یا حکومت کی تبدیلی میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ اس موقع پر میزبان کی جانب سے جب انتظامیہ کے 15 نکاتی امن منصوبے کے بارے میں پوچھا گیا تو کوری بکر نے واضح کیا کہ وہ اس حکومت کی کسی بھی کوشش کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ ان کی پالیسیوں نے خطے کے استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ایرانی حکومت پہلے سے زیادہ انتہا پسند ہو چکی ہے۔ سینیٹر نے زور دیا کہ ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے فوری طور پر سنجیدہ سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے نہ کہ مزید فوجی طاقت کے استعمال کی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here