نیویارک (پاکستان نیوز) امریکہ کے ممتاز اور تجربہ کار ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں اور اعلیٰ عہدیداروں نے ایران کے خلاف گزشتہ 4 ہفتوں سے جاری جنگ کے تناظر میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان ماہرین نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جانی نقصان اور جنگ کے پھیلائو کے خدشات کے پیش نظر اس تصادم سے باہر نکل آئیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کو تیز کر کے نتائج حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، تاہم فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کے پاس اس وقت جنگ میں اختیارات انتہائی محدود ہیں۔ امریکی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے ان ریٹائرڈ عہدیداروں نے ایرانی علاقے کرگ آئی لینڈ میں تیل کی اہم تنصیبات پر امریکی حملے اور قبضے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کی اموات اور بڑے نقصان کا خطرہ موجود ہے، لہٰذا صدر ٹرمپ کو اپنی فتح کا اعلان کر کے اس جنگ کو ختم کر دینا چاہیے۔ ریٹائرڈ میجر جنرل رینڈی مینر، جنہوں نے امریکی ایئر بورن 82 میں خدمات انجام دیں، کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بیان صرف دباؤ ڈالنے کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن عملی طور پر ایران کے پاس جوابی کارروائی کے لیے امریکہ سے زیادہ راستے موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی ایئر بورن کے فوجی جوان زیادہ مسلح نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے ایران انہیں آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران خلیجی ممالک کے سمندری پانی صاف کرنے کے نظام اور ذخائر پر حملے کر کے خطے میں بڑی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ اسی طرح ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اسٹیو اینڈرسن نے اپنے تجربات کی روشنی میں کہا کہ ایران کی صورتحال عراق سے بالکل مختلف ہے۔ ان کے مطابق ایرانی عوام اسے ایک نظریاتی جنگ سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قیادت کی تبدیلی یا اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی پالیسی اب تک ناکام رہی ہے۔ انہوں نے بھی خلیجی ممالک کے لیے مزید نقصانات اور تباہی کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض اعلیٰ ریٹائرڈ افسران نے موجودہ امریکی وزیر دفاع ہیگھ اسمتھ کی اہلیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور انہیں کم تجربہ کار قرار دیا ہے۔ ممتاز مصنف پیٹر برگن نے بھی ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی موجودہ جنگی پالیسی کی شدید مخالفت کی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے مشرق وسطی کے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں غیر معمولی اضافے اور بحری و فضائی بیڑوں کی ایران کی سمت روانگی نے عالمی سطح پر ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ پینٹاگون نے حالیہ دنوں میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی دستوں کو جنگی ساز و سامان کے ساتھ روانہ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جن میں پیرا شوٹ رجمنٹ اور خصوصی تربیت یافتہ بحری دستے شامل ہیں۔ ان فوجی دستوں کی نقل و حرکت کا مقصد بظاہر خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنا بتایا جا رہا ہے تاہم تہران نے ان اقدامات کو براہ راست اشتعال انگیزی اور اپنی خود مختاری پر حملے کی تیاری قرار دیا ہے۔آج ایران کے ساتھ جنگ جس فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو گئی ہے ان حالات سے متعلق امریکی عسکری تھنک ٹینک کی جانب سے اس سال کے آغاز میں پیش کیے گئے تجزئیے اور پیش گوئیاں آج حقیقت بن کر سامنے آ رہی ہیں جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے ساتھ براہ راست فوجی ٹکراؤ ایک ایسی علاقائی جنگ کو جنم دے گا جس سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہوگا اس وقت کے بیشتر مبصرین ان خدشات کو بعید از قیاس سمجھ رہے تھے لیکن آج ایک ماہ گزرنے کے بعد صورتحال بالکل مختلف ہے ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور امریکی فوجی اڈوں کی کمزوریوں کے بارے میں کیے گئے دعوے اب میدان جنگ میں سچ ثابت ہو رہے ہیں ایران نے برسوں کی پابندیوں کے باوجود ایک ایسا کثیر الجہتی اور غیر متناسب دفاعی نظام تیار کیا ہے جو روایتی فوجی طاقت کے بجائے دشمن کی کمزوریوں کو نشانہ بنانے پر مبنی ہے اس نظام میں ہزاروں کی تعداد میں بیلسٹک میزائل اور جدید ترین ہائپر سونک ٹیکنالوجی شامل ہے جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتے ہوئے اسرائیل کے دفاعی نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کے علاوہ ڈرون حملوں کے بڑے لشکر نے خلیج فارس میں موجود امریکی بحری بیڑوں اور اڈوں کے لیے شدید خطرات پیدا کر دئیے ہیں جنہیں عسکری زبان میں آسان ہدف قرار دیا جا رہا ہے۔ تاریخی طور پر امریکی سنٹرل کمانڈ کے سابق سربراہان اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین بشمول ایڈمرل ولیم فیلن اور جنرل جیمز میٹس بارہا اپنی سیاسی قیادت کو یہ مشورہ دے چکے تھے کہ ایران کے ساتھ جنگ ایک تزویراتی تباہی ثابت ہوگی ان پیشہ ور فوجی افسران کا موقف تھا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر بمباری محض عارضی حل ہو سکتا ہے مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ردعمل پورے خطے میں امریکی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا ریکارڈ کے مطابق سنہ 2019 میں 76 ریٹائرڈ اعلی فوجی افسران نے ایک کھلا خط بھی جاری کیا تھا جس میں جنگ سے گریز کرنے پر زور دیا گیا تھا تاہم امریکی سیاسی قیادت نے ان پیشہ ورانہ مشوروں کے بجائے ان لابیوں کی بات سنی جو جنگ کے ذریعے مالی اور سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے تھے اب اس کے نتائج یہ ہیں کہ اسرائیل کی معیشت بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور شمالی علاقوں سے لاکھوں شہری بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوط کر کے عالمی تجارتی راستوں کو دباؤ میں لے لیا ہے اور امریکہ کے بڑے بحری بیڑے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ عسکری ماہرین کی جانب سے ماضی میں کی گئی کمپیوٹرائزڈ مشقوں اور جنگی سمیلیشنز نے بھی یہ واضح کر دیا تھا کہ ایران جیسی غیر متناسب جنگ لڑنے والی طاقت کے خلاف روایتی فوج کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑے گا آج وہی صورتحال عملی طور پر نظر آ رہی ہے جہاں لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی جنگجوؤں نے دشمن کو متعدد محاذوں پر الجھا رکھا ہے عراقی مزاحمتی گروہوں کے دباؤ کی وجہ سے نیٹو اور امریکی افواج کو بعض اہم اڈوں سے محفوظ انخلا کی درخواستیں دینی پڑ رہی ہیں اس جنگ نے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی برتری کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے ماہرین کے مطابق اب یہ جنگ ایک طویل اور تھکا دینے والے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل کے پاس تزویراتی لحاظ سے کوئی واضح برتری موجود نہیں ہے اور وہ ایک ایسی دلدل میں پھنس چکے ہیں جس کی تبیہہ عسکری دانشوروں نے بہت پہلے کر دی تھی۔دریں اثناء اعلی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ ان تازہ دم دستوں کی تعیناتی کا ایک بڑا مقصد ایران کے جوہری تنصیبات اور اہم دفاعی مراکز کی نگرانی کرنا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ دوسری جانب خلیج فارس میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی موجودگی نے سمندری تجارتی راستوں خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو انتہا پر پہنچا دیا ہے جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ تہران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کی سرحدوں یا مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کے باعث اب دونوں ممالک کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کے امکانات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ روشن ہو گئے ہیں۔یاد رہے کہ اس وقت مختلف ممالک کے سفارتی مشنز پس پردہ مذاکرات کے ذریعے اس بحران کو ٹالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن زمین پر ہونے والی فوجی نقل و حرکت اور جنگی بیانیے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حالات کسی بھی لمحے کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں۔ 2026 کے اس نازک موڑ پر جہاں دنیا پہلے ہی مختلف چیلنجز سے نبرد آزما ہے وہیں اس نئی فوجی صف بندی نے مشرق وسطی کو ایک بار پھر بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے جس کی تپش دور دور تک محسوس کی جا رہی ہے۔











