تجزیہ: مجیب ایس لودھی
ہنری کسنجر نے دہائیوں قبل گوریلا جنگ کے جس بنیادی اصول کا ذکر کیا تھا وہ آج مشرق وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں اور سمندری لہروں میں ایک بار پھر زندہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ روایتی فوج اس وقت ہار جاتی ہے جب وہ واضح طور پر جیت نہ سکے جبکہ مزاحمتی قوت اس وقت جیت جاتی ہے جب وہ شکست سے بچ جائے۔ آج جب ہم ایران اور امریکی و اسرائیلی عسکری قوت کے مابین جاری اس ہولناک تصادم کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا تہران اپنی اسی حکمت عملی کے باعث برتری حاصل کر رہا ہے؟ امریکی عسکری حکام اگرچہ ہزاروں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ایران کی روایتی فوجی صلاحیتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف جنگ کسی بھی بڑی قوت کے لیے ایک دلدل ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ غیر متناسب جنگی طریقے ہیں جن میں ایران نے مہارت حاصل کر لی ہے۔
امریکہ اپنی تمام تر ٹیکنالوجی اور فضائی برتری کے باوجود جب ایران پر دباؤ بڑھاتا ہے تو تہران اس کا جواب براہ راست میدان جنگ کے بجائے مختلف محاذوں پر دیتا ہے۔ وہ اپنے اتحادیوں کو متحرک کرتا ہے، عالمی تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالتا ہے اور سائبر حملوں کے ذریعے معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ بالکل وہی صورتحال ہے جہاں ایک بیل اور اس کے سامنے لہرائے جانے والے سرخ کپڑے کی مثال صادق آتی ہے۔ امریکی افواج ان مقامات پر اپنی توانائی ضائع کر رہی ہیں جن کی سیاسی اہمیت شاید اتنی زیادہ نہیں ہے جبکہ ایران کا اصل مقصد فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ امریکی صدر کے لیے سیاسی اور جغرافیائی طور پر اتنی بھاری قیمت مقرر کرنا ہے کہ وہ جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ وہی طریقہ کار ہے جو بیس سال قبل عراق میں باغی گروہوں نے اپنایا تھا جہاں سستے اور سادہ ہتھیاروں نے ایک جدید ترین فوج کے ناک میں دم کر دیا تھا۔ آج آئی ای ڈی کی جگہ ڈرونز اور بحری بارودی سرنگوں نے لے لی ہے جو ثابت کرتی ہیں کہ متحرک اور پوشیدہ ہتھیار کسی بھی بڑی فوج کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
ایرانی سیاست اپنی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہمیشہ ہی مبہم رہی ہے لیکن حالیہ حملوں اور اہم کمانڈروں کی شہادت کے باوجود وہاں کا مذہبی اور فوجی نظام بکھرنے کے قریب نظر نہیں آتا۔ تہران کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ حملوں کو برداشت کرے، اپنے پیروکاروں کو منتشر کرے اور پھر سے ایک نئی قوت کے ساتھ سامنے آئے۔ دہائیوں کی تیاری نے ان کے دفاعی ڈھانچے کو اتنا لچکدار بنا دیا ہے کہ وہ بڑے سے بڑے دھچکے کے بعد بھی اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ہرمز کی گزرگاہ میں ایران کا پلڑا اس لیے بھاری ہے کیونکہ اسے اپنی دھاک بٹھانے کے لیے صرف ایک کامیاب حملے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بعد کوئی بھی تجارتی جہاز اس خطرناک راستے سے گزرنے کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ سیاسی دباؤ بڑھنے پر امریکی قیادت کے پاس صرف دو ہی راستے بچیں گے کہ یا تو وہ اس آگ کو مزید بھڑکائیں یا پھر مذاکرات کی میز پر آئیں۔ تاہم اب کوئی بھی ممکنہ معاہدہ ماضی کے مقابلے میں ایران کے حق میں زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ تہران نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے پاس عالمی معیشت کو مفلوج کرنے کا کتنا بڑا اختیار موجود ہے۔
اس جنگ کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہے بلکہ خلیجی ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستیں جو طویل عرصے سے امریکی حفاظتی چھتری تلے امن کی زندگی گزار رہی تھیں اب خود کو اس تنازعے کے مرکز میں پاتی ہیں۔ ایران نے ان ممالک کو امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک کمزور مقام کے طور پر شناخت کیا ہے۔ اگرچہ بعض خلیجی ریاستیں اب اس کوشش میں ہیں کہ جنگ کو کسی منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ خطے کی صورتحال میں کوئی مستقل تبدیلی آئے لیکن اس دوران انہیں ایرانی جوابی کارروائیوں کا براہ راست سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مغربی دنیا میں بھی اس جنگ کے حوالے سے یکسوئی کا فقدان ہے اور کئی اہم یورپی اتحادیوں نے اس عسکری مہم میں ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے جو اس اتحاد کی دراڑوں کو ظاہر کرتا ہے۔ بالآخر یہ جنگ ہتھیاروں کے زور پر نہیں بلکہ اعصاب کی مضبوطی اور سیاسی قیمت برداشت کرنے کے حوصلے پر ختم ہوگی جہاں فی الحال ایران اپنی بقا کو ہی اپنی جیت تصور کر رہا ہے۔












