کراچی (پاکستان نیوز)پی آئی اے کنسورشیم کے چیئرمین عارف حبیب نے جیٹ فیول کی قیمتوں میں حالیہ 150 فیصد اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان قیمتوں کو فوری طور پر واپس نہ لیا تو قومی ایئر لائن کا آپریشن مکمل طور پر ٹھپ ہو سکتا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اس قدر غیر معمولی اضافے کے بعد پی آئی اے کے لیے پروازیں جاری رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے اور یہ ادارہ بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی عالمی بے یقینی کے نتیجے میں پاکستان میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں بغیر کسی باضابطہ اعلان کے مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 21 مارچ سے جیٹ فیول کی قیمت 84 روپے فی لیٹر اضافے کے ساتھ 472 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ یکم مارچ کو یہی قیمت 190 روپے فی لیٹر تھی۔ اس طرح محض ایک ماہ کے دوران قیمتوں میں تقریباً 150 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عارف حبیب کا کہنا ہے کہ حکومت نے عام شہریوں پر پیٹرولیم مصنوعات کا بوجھ کم کرنے کے لیے کراس سبسڈی کا سہارا لیا ہے جس کا سارا بوجھ ایوی ایشن فیول اور ہائی اوکٹین پر ڈال دیا گیا ہے۔ ان کے بقول حکومت کی یہ سوچ درست نہیں کہ عام آدمی فضائی سفر نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات پائیدار نہیں ہیں اور اس پالیسی کی وجہ سے پاکستانی ایئر لائنز بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی سکت کھو دیں گی کیونکہ دیگر ممالک میں ایندھن س قدر مہنگا نہیں ہے۔ ہوا بازی کے ماہرین کے مطابق کسی بھی ایئر لائن کے اخراجات میں ایندھن کا حصہ 30 سے 40 فیصد ہوتا ہے۔ قیمتوں میں اس ہوش ربا اضافے کی وجہ سے فضائی کرایوں میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس سے مقامی ٹکٹ 10,000 سے 15,000 روپے اور بین الاقوامی ٹکٹ 30,000 سے 40,000 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو کرایوں میں مزید اضافے کا امکان ہے جس سے فضائی سفر عام آدمی کی پہنچ سے مکمل باہر ہو جائے گا۔













