نیویارک (پاکستان نیوز)تہران اور خلیجی خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے نئی اور سخت شرائط سامنے رکھ دی ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنے ایک تجارتی جہاز پر ایرانی میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق جب تک امریکہ اپنے رویے کی اصلاح نہیں کرتا تب تک آبنائے ہرمز کے راستے کو نہیں کھولا جائے گا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر اور کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کو دھمکیاں دینا بند کرے، خطے میں جاری جنگ کا مستقل خاتمہ کرے، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر کے اپنی فوج کا انخلا یقینی بنائے، جنگی نقصانات کا مکمل ہرجانہ ادا کرے، تمام پابندیاں اٹھائے اور منجمد اثاثے بلا شرط بحال کرے۔ دوسری جانب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت حتمی سمجھوتے کے لیے مقرر کردہ 60 دنوں کی مدت چند دنوں میں ختم ہو رہی ہے لیکن اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق سلطنت عمان کی ثالثی میں جہاز رانی کے ٹرانزٹ روٹ سے متعلق معاہدے پر پیش رفت ہوئی ہے لیکن راستے کی مکمل کشادگی امریکہ کی جانب سے عبوری اقدامات کی پاسداری پر منحصر ہے۔ اسی دوران ابوظہبی کی قومی تیل کمپنی کے ایک جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا، تاہم واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال کے ساتھ ساتھ خطے میں دیگر اہم پیش رفت بھی سامنے آئی ہیں، جہاں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ ترکیہ کی پارلیمان نے کرد امن بل کی بھی منظوری دے دی ہے۔













