واشنگٹن (پاکستان نیوز)میساچوسٹس کے وفاقی جج لیو سوروکن نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ایچ ون بی ویزا درخواستوں پر عائد کردہ ایک لاکھ ڈالر کی فیس کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ 42 صفحات پر مشتمل اپنے تفصیلی فیصلے میں جج نے واضح کیا کہ اتنی خطیر رقم دراصل فیس نہیں بلکہ ایک پوشیدہ ٹیکس ہے اور امریکی آئین کے تحت حکومت کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایسا کوئی ٹیکس نافذ کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے اس فیصلے کے ساتھ ہی ملک گیر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے اس متنازع فیس پر فوری روک لگا دی ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے ویزا فیس دوبارہ اپنے پرانے ڈھانچے یعنی 2000 سے 5000 ڈالر پر واپس آ گئی ہے جس سے امریکی کمپنیوں اور غیر ملکی ماہرین کو بڑی راحت ملی ہے۔ یہ فیس سابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال ستمبر میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے نافذ کی تھی جس کا مقصد مبینہ طور پر امریکی ملازمین کی ملازمتوں کا تحفظ کرنا تھا۔ تاہم 20 امریکی ریاستوں نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جن کا موقف تھا کہ اتنی بھاری فیس سے سرکاری ہسپتالوں، سکولوں اور تحقیقی اداروں کے لیے غیر ملکی ڈاکٹروں، اساتذہ اور سائنسدانوں کی خدمات حاصل کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس بھاری فیس کی وجہ سے ایچ ون بی ویزا کی درخواستوں میں واضح کمی دیکھی گئی اور یہ تعداد 343981 سے کم ہو کر 211600 رہ گئی تھی۔ البتہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی بڑی کمپنیوں جیسے کہ این ویڈیا اور اوپن اے آئی نے فیس کے باوجود ریکارڈ درخواستیں جمع کرائیں۔ واضح رہے کہ اس ویزا پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت اور چین کے شہریوں کو ہوتا ہے جو مجموعی ویزوں کا بالترتیب 71 اور 12 فیصد حاصل کرتے ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔










