واشنگٹن (پاکستان نیوز)واشنگٹن سے موصول ہونیوالی ایک تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر ایک انتہائی سنگین الزام سامنے آیا ہے جس کے تحت حکومت نے لاکھوں تارکین وطن کی سماجی تحفظ کی مراعات منسوخ کرنے کیلuے ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا تھا جس کا مقصد ان افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔ اس مبینہ منصوبے کی تفصیلات محکمہ سماجی تحفظ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار جیرمیا شوفیلڈ کی جانب سے دائر کردہ 49صفحات پر مشتمل ایک معلوماتی دستاویز میں سامنے آئی ہیں جس نے امریکی سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پوری حکمت عملی کی تیاری میں ایلون مسک کی سربراہی میں کام کرنے والی سرکاری کارکردگی کی وزارت بھی برابر کی شریک تھی اور اس کا بنیادی ہدف ایسے غیر ملکیوں پر دباؤ ڈالنا تھا جو قانونی طور پر ملک میں مقیم ہیں۔ اس مبینہ منصوبے کا سب سے خوفناک پہلو یہ تھا کہ محکمہ داخلہ نے لاکھوں زندہ افراد کو سماجی تحفظ کے سرکاری کھاتوں میں مردہ ظاہر کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ ان کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کیا جا سکے۔ دستاویزات کے مطابق اس کارروائی کا اصل مقصد یہ تھا کہ جب متاثرہ افراد اپنے بینک کھاتوں کی بندش اور دیگر مالیاتی معطلیاں دیکھیں گے تو وہ مجبورا ان دفاتر کا رخ کریں گے جہاں پہلے سے موجود امیگریشن کے حکام انہیں آسانی سے اپنی حراست میں لے سکیں گے یا انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کر سکیں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی بھی زندہ انسان کا نام سرکاری طور پر وفات پا جانے والے افراد کی فہرست میں شامل کر دیا جائے تو اس کے نتیجے میں اس شخص کے بینک اکاؤنٹس، ملازمت، ادھار کی تاریخ، اور تمام سرکاری و مالیاتی معاملات فوری طور پر منجمد ہو جاتے ہیں اور وہ شخص عملی طور پر قانونی طور پر ناپید ہو جاتا ہے۔ اس سنسنی خیز انکشاف کو سامنے لانے والے سابق عہدیدار نے یہ واضح کیا ہے کہ جب انہوں نے ان مجوزہ 27 لاکھ افراد کی فہرست کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو یہ معلوم ہوا کہ ان میں سے اکثریت ایسے افراد کی تھی جو یا تو امریکی شہریت رکھتے تھے یا پھر مستقل قانونی رہائشی کارڈ کے حامل تھے اور ان میں سے کوئی بھی شخص حقیقت میں مرا نہیں تھا۔ انہوں نے حکام کو مطلع کیا کہ انہوں نے اس غیر قانونی منصوبے پر عمل درآمد کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا کیونکہ ادارے کے اپنے قانونی مشیروں نے بھی اس اقدام کو مروجہ قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اس معاملے پر جب سماجی تحفظ کے قومی ادارے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے ان تمام الزامات کی تردید کی اور کہا کہ تاحال کسی بھی ایسے زندہ شخص کا نام اموات کے سرکاری ریکارڈ میں شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی غیر قانونی قدم اٹھانے کا کوئی ارادہ ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ داخلہ کے ترجمان نے ان مخصوص الزامات پر براہ راست تبصرہ کرنے سے مکمل گریز کیا ہے تاہم انہوں نے اپنے ایک عمومی بیان میں یہ موقف اختیار کیا کہ مختلف سرکاری اداروں کے مابین معلومات کا باہمی تبادلہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے، جرائم کی روک تھام اور عوامی وسائل کے درست استعمال کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس تمام صورتحال نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور حکومت مخالف حلقوں کی جانب سے اس مبینہ سازش کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے تاکہ قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا جا سکے۔









