ICE اور ناسا کاؤنٹی کا گٹھ جوڑ؛ ہزاروں بے قصور تارکین گرفتار

0
7

نیویارک(پاکستان نیوز)ناساؤ کاؤنٹی کی ICEسے شراکت داری اور امریکہ میں غیر مجرم تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاںمنظر عام پر آئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نیویارک کی ناساؤ کاؤنٹی سے لے کر وفاقی سطح تک، امریکہ میں تارکینِ وطن کیخلاف جاری مہم نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، مقامی انتظامیہ اور وفاقی ایجنسی ‘آئی سی ای’ (ICE) کے درمیان بڑھتے ہوئے اشتراک کے نتیجے میں ایسے ہزاروں افراد کو سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا ہے جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ تک نہیں ہے۔ ناساؤ کاؤنٹی کے ایگزیکٹو بروس بلیک مین نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے آئی سی ای کے ساتھ ایک باقاعدہ معاہدہ کیا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت بلیک مین نے ایسٹ میڈو میں واقع مقامی جیل کے 50 سیل آئی سی ای کو 195 ڈالر فی قیدی فی رات کے حساب سے کرایے پر دے دیے ہیں تاکہ زیر حراست تارکینِ وطن کو وہاں رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ناساؤ کاؤنٹی کے 10 پولیس ڈیٹیکٹیوز کو خصوصی طور پر امیگریشن افسران کے طور پر کام کرنے کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جو مقامی پولیس اور وفاقی امیگریشن حکام کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس جیل میں بند کیے جانے والے بہت سے افراد ایسے ہیں جن پر کسی قسم کا مجرمانہ مقدمہ نہیں ہے، بلکہ انہیں صرف ان کی قانونی حیثیت کی بنیاد پر قید کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے “ڈیپورٹیشن ڈیٹا پروجیکٹ” سے حاصل ہونے والے نئے اعداد و شمار نے اس مہم کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے نو ماہ کے دوران تقریباً 220,000 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ تقریباً 75,000 افراد کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں 90 فیصد مرد ہیں، جن کا تعلق زیادہ تر میکسیکو اور وسطی امریکہ سے ہے اور ان کی عمریں 25 سے 45 سال کے درمیان ہیں۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف “بدترین مجرموں” کو نشانہ بنا رہی ہے، لیکن ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ گرفتار شدگان میں سے صرف ایک تہائی سزا یافتہ مجرم تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس کو امیگریشن کے کاموں میں شامل کرنے سے کمیونٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہو رہا ہے۔ مزید برآں، بغیر کسی جرم کے لوگوں کو جیلوں میں ڈالنا امریکی قانونی ڈھانچے اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ حکومتی حکام نے تاحال ان مخصوص اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے، لیکن ناساؤ کاؤنٹی جیسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں امیگریشن نافذ کرنے کی یہ پالیسیاں مزید سخت ہو سکتی ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here