نیویارک (پاکستان نیوز) نیویارک کے طبی شعبے میں کئی ہفتوں سے جاری بحران بالاخر ختم ہو گیا ہے۔ نیویارک پریسبیٹیرین ہسپتال کی انتظامیہ اور نیویارک اسٹیٹ نرسز ایسوسی ایشن کے درمیان ایک عارضی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد ہزاروں نرسوں نے اپنی طویل ہڑتال ختم کر کے کام پر واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔یہ ہڑتال، جسے شہر کی تاریخ کی سب سے بڑی نرسنگ ہڑتال قرار دیا جا رہا تھا، اس وقت شروع ہوئی جب 4,200 سے زائد نرسیں کام چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئیں۔ نرسوں کا موقف تھا کہ وہ مریضوں کی جان بچانے کے لیے دن رات کام کرتی ہیں لیکن بدلے میں انہیں ناکافی تنخواہیں اور انتہائی مشکل حالاتِ کار کا سامنا ہے۔ کئی گھنٹوں کے طویل مذاکرات کے بعد ہونے والے اس معاہدے میں نرسوں کے تمام بنیادی مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ معاہدے کی تفصیلات کے مطابق نرسوں کی تنخواہوں میں اگلے تین سالوں کے لیے مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ نے ہسپتال میں نئی نرسوں کی فوری بھرتی اور ‘اسٹافنگ ریشو’ کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے، تاکہ ایک نرس پر مریضوں کا اضافی بوجھ نہ ہو اور دیکھ بھال کا معیار بلند ہوسکے۔ یونین کی ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “یہ صرف ہماری جیت نہیں، بلکہ نیویارک کے ہر مریض کی جیت ہے۔ ہم صرف پیسے کے لیے نہیں، بلکہ محفوظ ہسپتالوں کے لیے لڑ رہے تھے۔” دوسری جانب نیویارک پریسبیٹیرین ہسپتال کی انتظامیہ نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے سے مطمئن ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ ان کی ماہر نرسیں دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح ہمیشہ سے مریضوں کی خدمت رہی ہے اور یہ معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ معاہدے کے فوری بعد ہسپتالوں میں معمول کی خدمات کی بحالی شروع ہو گئی ہے۔ وہ آپریشنز اور چیک اپ جو ہڑتال کی وجہ سے ملتوی کر دیے گئے تھے، اب دوبارہ شیڈول کیے جا رہے ہیں جس سے ہزاروں مریضوں کو ریلیف ملے گا۔












