پاک افغان تعلقات…!!!

0
45
ماجد جرال
ماجد جرال

افغانستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک نہایت حساس اور اہم پہلو رہی ہے۔ دونوں ممالک جغرافیائی، مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا افغانستان سے تعلقات خراب کرنا پاکستان کے لیے مناسب ہوگا؟ اس سوال کا جواب سادہ نہیں، مگر زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کشیدہ تعلقات کسی بھی طور پاکستان کے مفاد میں نہیں۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریبا 2600کلومیٹر طویل سرحد ہے جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے۔ اس سرحد کے آرپار آباد قبائل صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ خاندانی اور تجارتی روابط رکھتے آئے ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو سب سے پہلے اثر سرحدی علاقوں کی معیشت اور عوام پر پڑتا ہے۔ تجارت کی بندش، آمدورفت میں رکاوٹ اور سکیورٹی خدشات عام شہری کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ افغانستان جاتا ہے، جبکہ افغانستان پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کرتا ہے۔ کشیدگی کی صورت میں یہ معاشی روابط متاثر ہو سکتے ہیں اور دونوں ممالک کو مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔سکیورٹی کے تناظر میں بھی تعلقات کی خرابی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتا آیا ہے۔ اگر کابل اور اسلام آباد کے درمیان اعتماد کا فقدان ہو تو سرحدی علاقوں میں شدت پسند عناصر کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ بہتر سفارتی روابط اور انٹیلی جنس تعاون دونوں ممالک کے لیے ناگزیر ہیں تاکہ سرحد کو محفوظ بنایا جا سکے اور دہشت گردی کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ دشمنی کی فضا میں الزام تراشی بڑھتی ہے اور عملی تعاون کمزور پڑ جاتا ہے، جس کا نتیجہ دونوں جانب بدامنی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔سیاسی سطح پر بھی افغانستان کی صورتحال براہِ راست پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام کی صورت میں مہاجرین کی نئی لہر پاکستان کا رخ کر سکتی ہے، جیسا کہ ماضی میں ہو چکا ہے۔ پاکستان پہلے ہی لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر چکا ہے، جس سے اس کی معیشت، تعلیم اور صحت کے نظام پر دبا پڑا۔ اگر تعلقات مزید خراب ہوتے ہیں تو یہ مسئلہ دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی برادری بھی خطے کے حالات کو بغور دیکھتی ہے، اور اگر پاکستان کو غیر ذمہ دار فریق سمجھا گیا تو سفارتی سطح پر اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔معاشی اعتبار سے خطے میں رابطہ سازی اور تجارتی راہداریوں کے منصوبے، جیسے وسطی ایشیا تک رسائی، اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مستحکم ہوں۔ افغانستان وسطی ایشیائی ریاستوں تک زمینی راستہ فراہم کرتا ہے۔ اگر تعلقات کشیدہ ہوں تو یہ مواقع ضائع ہو سکتے ہیں اور پاکستان علاقائی تجارت میں پیچھے رہ سکتا ہے۔ دوسری جانب بہتر تعلقات دونوں ممالک کو اقتصادی شراکت داری، توانائی منصوبوں اور ٹرانزٹ تجارت سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات قومی سلامتی کے تقاضے سخت فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو پاکستان کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ تاہم یہ اقدامات سفارتی چینلز کو بند کیے بغیر، مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے زیادہ موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ مکمل طور پر تعلقات خراب کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ پیچیدگیوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان سے تعلقات خراب کرنا پاکستان کے لیے کسی بھی زاویے سے سودمند نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمسایہ ممالک کو نظر انداز کر کے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں، اعتماد سازی کے اقدامات کریں اور خطے کے امن و استحکام کو ترجیح دیں۔ یہی پالیسی پاکستان کے قومی مفاد کے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here