نیویارک (عظیم ایم میاں )رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں مقیم پاکستانی نڑاد نوجوان عمر عزیز نے امریکہ میں فاشزم کے دوبارہ ابھرتے ہوئے رجحانات کے موضوع پر اپنی تازہ ترین کتاب شائع کر کے عالمی صحافتی اور علمی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ 35 سالہ عمر عزیز جو کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے مشیر خارجہ کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور مارک کارنی کی تقریر نگار ٹیم کا حصہ بھی رہے ہیں، اب اپنی اس نئی تصنیف کی بدولت واشنگٹن پوسٹ کے معروف صحافی باب ووڈ ورڈ سمیت کئی بڑے دانشوروں سے خراج تحسین حاصل کر رہے ہیں۔ ٹورنٹو کے ایک متوسط محنت کش پاکستانی گھرانے میں پیدا ہونے والے اس باصلاحیت نوجوان نے اپنی تمام اعلیٰ تعلیم بشمول ہارورڈ، کیمبرج اور ییل جیسی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں سے وظائف اور فیلو شپ کی بنیاد پر مکمل کی۔ عمر عزیز اس سے قبل اپنی کتاب براؤن بوائے کے ذریعے بھی شہرت حاصل کر چکے ہیں جبکہ ییل یونیورسٹی میں طالب علمی کے دوران سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر پر ان کا تنقیدی مضمون بھی کافی زیر بحث رہا تھا۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے تاریخی بک اسٹور پر اپنی کتاب کی تقریب کے دوران وہ قارئین اور علمی شخصیات کی توجہ کا مرکز رہے۔ موجودہ عالمی سیاسی تناظر اور امریکہ کے بدلتے ہوئے داخلی حالات کے پیش نظر عمر عزیز کی یہ تحقیق انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے جس نے دانشوروں کو ایک نئی سمت میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کینیڈا، امریکہ اور فرانس کے ممتاز تعلیمی اداروں سے قانون اور خارجہ امور کی تعلیم حاصل کرنے والے اس نوجوان نے ثابت کر دیا ہے کہ محنت اور قابلیت کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی جا سکتی ہے۔ ان کی یہ کتاب نہ صرف امریکہ میں فاشزم کے خدشات کو اجاگر کرتی ہے بلکہ عالمی امن کو درپیش خطرات کا بھی گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے۔












