راقم الحروف سے اکثر وبیشتر بعض پاکستان میں طلباء اور مزدور تحریکوں سے ناواقفیت کی بنا پر سوالات کرتے ہیں کہ آپ کو ہم ہر حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے پایا گیا ہے خاص طور پر آپ جنرلوں کے مخالف ترین نظر آتے ہیں آپ کی زندگی کا مطلب اور مقصد کیا ہے تو میں جو اب دیتا ہوں کہ میں ایک نظریاتی شخص ہوں جس نے آمریت میں آنکھ کھولی۔پرورش پائی نوجوانی گزاری جوانی میں مقابلہ کیا ہے جس کا سلسلہ بڑھاپے تک جاری ہے جب ہم زمانہ اسکول میں تھے تو متحدہ پاکستان میں طلباء تحریکیں زوروں پر تھیں جس کی قیادت متحدہ ترقی پسند سیاستدان معراج محمد خان صحتیاب علی خان، علی مختار علی رضوی، شہنشاہ حسین، نفیس صدیقی، ڈاکٹر سرور، ڈاکٹر ودود بیرسٹر اور بڑے بڑے مشہور طلبا رہنما تھے جو طلباء مزدور اور عوام کے مسائل پر سڑکوں پر کھلتے تھے جن کے جلسوں جلوسوں میں لاکھوں طلبا جمع ہوتے تھے یہ زمانہ جنرل ایوب خان کی آمریت اور جابریت کا تھا جب بسوں ٹرینوں ریسٹورنٹوں، ہوٹلوں دکانوں مکانوں سڑکوں، پارکوں جبکہ ہر پبلک مقامات پر سیاسی گفتگو کرنا منع تھی اس وقت جو بھی شخص جنرل ایوب خان کی مخالفت کرتا وہ ایبڈوامو ڈی پی آر کے تحت سیدھا جیل بھیج دیا جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی جیلیں سیاستدانوں طلبا رہنمائوں مزدور لیڈروں سے بھری ہوا کرتی تھیں۔ چنانچہ ساٹھ کی آغاز دہائی میں معراج محمد خان، مختیار علی خان، علامہ علی مختار رضوی، جنرل ایوب خان کی آمریت کے شدید مخالفت تھے جن کے بڑے بڑے طلباء اجتماع ہوا کرتے تھے جس میں ہم لوگ کراچی کے اسکولوں سے جاکر شریک ہوا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے خاکسار نویں کلاس میں بس جلانے کے الزام میں گرفتار ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان بھر میں شوشلزم کا چرچا تھا ہر بڑی بڑی پارٹی عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی یا بعدازاں پیپلزپارٹی بھی شوشلزم کا نعرہ لگا رہتی تھیں جس کے حق میں پاکستانی عوام کی اکثریت تھی جس نے جنرل یحیٰی خان کے دور آمریت میں عام انتخابات میں ثابت کیا تھا کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ مغربی پاکستان میں پنجاب سندھ میں پیپلزپارٹی جبکہ نارتھ ویسٹ موجود پختون خواہ اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی بھاری اکثریت میں کامیاب ہوئی تھیں جس میں جنرلوں کی ملک توڑنے کی سازش کی وجہ سے مشرقی پاکستان الگ ہوگیا کہ جب جنرل یحیٰی خان نے عوامی لیگ کو اقتدار نہ دینے پر عوامی تحریک نے جنم لیا جس پر فوجی ایکشن ہوا جو بنگال سے بنگلہ دیش بننے میں ثابت ہوا جس سے نظریہ شوشلزم کو شدید نقصان پہنچا کہ جب ترقی پسند قیادت مولانا بھاشانی، ولی خان، غوث بخش بزنجو، خیربخش مری، بھٹو اور شیخ مجیب ایک دوسرے سے دور ہوگئے تھے جس سے پاکستان میں جاگیرداری گماشتہ، سرمایہ داری، اجارہ داری اور جنرل گیری مضبوط ہوگئی جس نے بچے کھچے پاکستان پر جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی شکل میں 20 سال تک حکمرانی کی تھی۔ تاہم خاکسار نے 70 کی دہائی میں دو مرتبہ اسلامیہ کالج کراچی آرٹس اور لاء کالج طلبا یونین کا صدر اور آئی سی بی کا چیئرمین منتخب ہونے کا موقع ملا جس میں طلبا تحریک کی بنا پر جیل یاتری اور متفروری بھی ملی ہے جب ہم طلبا بنگال میں فوجی ایکشن کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی اور قیادت پر حیدر آباد بغاوت کیس کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔ جمہوریت کے قیام اور قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالاتری کے لیے کی حمایت میں بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جب جنرل نے بھٹو کا تختہ الٹا تو اس کی مخالفت پر ہم چند دوستوں پر سندھ پملٹ کیس بنا جس کی وجہ سے ترک وطن ہوئے تو امریکہ میں پناہ لی۔ امریکہ میں بھی جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی مخالفت میں پیش پیش رہنے کا موقع چلا ہے جب جنرل مشرف نے پاکستان کے ججوں کو برطرف کردیا تو امریکہ میں وکلاء تحریک کی بنیاد رکھی جس کے پلیٹ فارم پر درجنوں احتجاجی جلسے اور جلوس سیمینار اور کانفرنسیں مزحقہ کی تھیں۔ جس سے پاکستان اور امریکہ کے قانون دانوں، ججوں نے آکر خطاب کیا تھا جو آخر کار ججوں کی بحالی کا باعث بنا تھا۔ بہرکیف ہماری نظریاتی جدوجہد جاری وساری رہے گی۔ تاکہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی قائم ہو پائے جس کے لیے ہر مقام پر جدوجہد جاری رہے گی۔
٭٭٭٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)










