میں مرزا غالب کے اِس شعر پر غور وفکر کر رہا تھا کہ !
ہم موّحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم
ملّتیں جب مِٹ گئیں، اجزا ء ایماں ہو گئیں
تو میرے وجدان میں ایک تلاطْم برپا ہو گیا۔ ضمیر نے جنجھوڑا اور آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں کے مصداق ایک آوازِ غیبی نے یہ سطور لکھنے پر آمادہ کیا۔ رمضان کا مبارک مہینہ گزرا اور آج عید کا دن ہے جس پر تمام مسلمانوں کو عید مبارک ہو۔ عربی زبان میں مبارک کا لفظ برکت سے ماخوذ ہے جس کے معنی مسّرت کے نہیں ہیں۔ گویا آج ہماری عید یومِ برکت تو ہے مگر یومِ مسّرت نہیں ہے۔ کیا مسلمان ایران، غزہ اور لبنان کے شہیدوں کی لاشوں پر عید کی خوشیاں منائیں؟ بقولِ شاعر !
خزاں میں مجھ کو رْلاتی ہے یادِ فصلِ بہار،
خوشی ہو عید کی کیوں کر کہ سوگوار ہوں میں
پیامِ عیش و مسّرت ہمیں سناتا ہے
ہلالِ عید ہماری ہنسی اْڑاتا ہے
اللہ پاک سب روزہ داروں کے روزے اور عبادات قبول فرمائے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان عبادات کا مقصد صرف حصولِ ثواب اور امیّدِ جنّت ہے؟ نماز و روزہ کا مقصد از رْوئے قرآنِ مجید حصولِ تقویٰ اور منکرات و فحاشی سے دْوری ہے۔ تقویٰ کا لفظ ایک بحرِ بے کنار ہے جس میں ظلم کیخلاف جہاد سرِ فہرست ہے۔ اگر کہیں ظلم ہوتا رہے اور مسلمان نماز و روزہ کے ساتھ ساتھ جہاد سے گریز کریں تو ان کے بارے میں وہی حکم ہے جو رسولِ مقبول کے زمانے میں ان لوگوں کے بارے میں تھا جو جہاد سے گریز کے بہانے تلاش کرتے تھے اور ان سے اللہ و رسول کی بیزاری قرآنِ پاک میں مرقوم ہے۔شہید آرزوئے قرآن زندہ ہیں اور سورة بقرہ میں شہیدوں کی حیات کے بارے میں واضح آیت موجود ہے۔ جو لوگ زندگی عارضی کو بچانے کے لیے اور اپنے تخت و تاج کی حفاظت کے لیے غیر مسلموں کا سہارا ڈھونڈیں ان کے ایمان کے بارے میں علمائے عظّام اور مْفتیانِ کرام کا کیا فتویٰ ہے؟ قرآنِ مجید تو ان کے بارے میں یوں اعلان کرتا ہے کہ اے ایمان والو یہود و نصاریٰ کو ولی نہ بناؤ کیونکہ وہ صاف آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں اور تم میں جو ان کو ولی بنائے گا تو وہ انہیں میں سے ہے، بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ عربی زبان میں ولی کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسے دوست، نگہبان، سرپرست اور مددگار۔ قرآن کا حکم واضح ہے کہ اب جو مسلمان ملک استعماری طاقتوں کو اڈے فراہم کرے گا اور عالمی سیاست و معاملات میں کسی مسلمان ملک کیخلاف اس کی جارحیت جس میں اسلام دشمن قوتیں بھی شامل ہوں تو ان کے بارے میں مفتیانِ دین کا کیا فتویٰ ہے؟ کیا از رْوئے قرآن ان کا شمار ظالمین میں نہیں ہوگا؟ جو اس ظلم میں دشمنوں کا ساتھ دے گا کیا ان کی عبادات صرف رسمی عبادات نہیں ہیں؟ کیا وہ رْوحِ دین سے بے خبر نہیں ہیں؟ کیا وہ انقلابِ اسلام سے واقف ہیں یا ان کا ایمان اللہ کے بجائے استعماری قوتوں کے سہارے پر ہے؟ فیض احمد فیض کے اشعار یاد آ رہے ہیں کہ !
میرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، میرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا
قرآنِ مجید کی سورہ جمعہ کی آیتِ مبارکہ کے مطابق اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو۔ یہ تمنا ان راہنماؤں نے کی جو جارح اور ظالم نہیں تھے اور میدان میں امام حسین علیہ السلام کی سنت پر عمل پیرا ہوئے جبکہ جارح اور بزدل دشمن لومڑی کی طرح روپوش ہے۔ ان طاقتوں کے حاشیہ برداروں کا فلسفہ توحید کیا ہے؟ کاش وہ علامہ اقبال کے یہ اشعار پڑھ لیتے کہ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہٰ الا اللہ
اگرچہ بْت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں لا اللہ الا اللہ
افسوس پاسدارانِ حرم کا حال یہ ہے کہ
بْتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
کیا آج کے مسلمان معرکہ ہائے بدر و حنین اور سانحہ کربلا کو بھول گئے ہیں؟ آج کے مسلمانوں نے اپنی بادشاہت کی حفاظت کے لیے غیر مسلم افواج اپنی سرزمین پر رکھی ہوئی ہیں۔ کعبہ شریف میں لبیک کہنے والے عملی طور پر دوسروں کے غلام ہیں۔ مغربی عوام سے کوئی شکوہ نہیں کیونکہ ان کی اکثریت جمہوریت اور انسانی حقوق کی علم بردار ہے لیکن وہاں کی حکومتیں ہمیشہ دشمن اسلام قوتوں کی پشتیبان رہی ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں، اوّل یہ کہ وہاں کی سیاست و معیشت پر مخصوص لابیوں کا کنٹرول ہے اور دوم یہ کہ مذہبی انتہا پسند پادری اسلام دشمنی میں پیش پیش ہیں۔ وہ اپنے عقیدے کے مطابق مسیح علیہ السلام کے دشمنوں کو تو معاف کر سکتے ہیں لیکن مسلمانوں کو نہیں بھولے۔ غزہ پر ہونیوالے مظالم کے خلاف جو احتجاج مغرب میں ہوا وہ مسلمان ممالک میں بھی نہیں ہوا بلکہ کچھ جگہوں پر تو عوامی احتجاج کو گولیوں سے دبا دیا گیا۔ بقولِ علامہ اقبال
بجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
عالمی طاقتوں کے اشتراک نے غزہ کو قبرستان میں بدل دیا اور اب وہ مل کر حامی فلسطین قوتوں کو سزا دے رہے ہیں۔ ان کیخلاف وہ سب ممالک ہیں جن کی بادشاہی کو خطرہ ہے۔ غیر ملکی فوجی اڈے ان کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کی دولت پر پل رہے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کی روح اور مقصد مقدس مقامات کا تحفظ ہے جو کہ لائقِ ستائش ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی مسلمان ملک کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت دی جائے۔ ایسی بے روح اور دکھلاوے کی نمازوں پر قرآنِ مجید افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ عبادت کا اصل مقصد انسانی حقوق کا تحفظ اور استعمار و استبداد کے خلاف اعلانِ جہاد ہے۔ پاکستان کی پوزیشن بہت نازک ہے اور یہاں کے لوگ مظلوموں کے حق میں سراپا احتجاج ہیں۔ حکومتِ پاکستان کو بڑی احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی دباؤ کا شکار نہ ہو۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ برادر اسلامی ممالک کے درمیان مصالحت کار کا کردار ادا کرے اور واضح کر دے کہ دفاعی معاہدے کسی کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں ہیں۔ تہران کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کْرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
پاکستان کو خطے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو سلجھانا ہوگا۔ شاباش ہے ان مغربی ممالک پر جنہوں نے جنگی جنون کی اپیل کو ٹھکرا دیا اور صد آفرین ہے ان دانشوروں پر جنہوں نے اپنے ہی حکمرانوں کی جارحیت کی مذمت کی۔ افسوس ان مسلمان حکمرانوں پر ہے جو اقتدار کی خوشنودی کے لیے اپنوں کے خون کا سودا کر رہے ہیں۔ کیا غزہ کے شہیدوں کے گھروں میں عید کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں یا وہ گھر ماتم کدے بنے ہوئے ہیں؟ بے گناہ مسلمانوں کی لاشوں پر عید منانے والوں کی نذر علامہ اقبال کے یہ اشعار ہیں کہ
عیدِ آزاداں شکوہِ مْلک و دیں
عیدِ محکوماں ہجومِ مومنیں
ایک اور نظم میں فرماتے ہیں
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں
شکوہِ عید کا مْنکر نہیں ہوں میں لیکن
قبولِ حق ہیں فقط مردِ حْر کی تکبیریں














