امریکہ میں پاکستانیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے انفرادی طور پر پاکستانی ہر سطح پر کامیاب ہیں اور امریکہ کے ہر شعبے میں تعمیر ترقی میں برابر کا حصہ ڈال رہے لیکن جب اتفاق اور اتحاد کا نام آتا ہے تو زیرو کئی اہم پاکستانی کاروباری جو ٹیکساس کیلیفورنیا واشنگٹن نیویارک دیگر ریاستوں میں بڑے بااثر دولت مند ہیں۔یہ انفرادی طور پر اراکین کانگریس سینٹرز حتیٰ امریکی صدور سے تعلق ظاہر کرتے ہیں جب عمران خان وزیراعظم کی حیثیت سے واشنگٹن کے دورے پر تھے کپٹل ہل پر پاکستانی کاکس کا بڑا زور شور تھا۔ ٹیکساس سے پاکستانی امریکن شخصیات کے مطابق اس ایونٹ میں80 کے قریب اراکین کانگریس اور سینٹرز موجود تھے۔ حالانکہ کپٹل ہل کے اندر جس کمرے میں یہ ایونٹ تھا اُس میں ٹوٹل 80 لوگوں کے کھڑے ہونے کی جگہ تھی لیکن اس شخصیت کا جھوٹ چل گیا۔30 سے 25 کے قریب اراکین کانگریس اور سینٹ کو اسی کی فکر دے جھوٹ چل گیا یہی پاکستانی جعلی لیڈر ہر وقت شور مچاتے ہیں پاکستانی کاکس پاکستانی کاکس حقیقت میں جھوٹ کا پلندہ ہے پہلے تو کوئی رجسٹر کاکس تھا ہی نہیں اب موجودہ کچھ عرصے سے کاکس کو رجسٹر کروایا گیا وہی پرانے لوگ دعویدار ہیں لیکن موجودہ کاکس میں تعداد دس سے پندرہ ہے اور اس وہ ممبران کانگریس بھی شامل ہیں۔ جو انڈین کاکس کے بھی ممبر ہیں۔ کس طرح وہ پاکستانی مفادات کو واشنگٹن میں تحفظ دے سکتے ہیں ٹیکساس میں متعدد شخصیات جوبائیڈن مشیر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے ۔کئی اور شخصیات جوبائیڈن کے قریبی ساتھی ہونے کا دعویٰ کرتے تھے پاکستانی کاکس کے ان جعلی فیک دعویدار چار سالوں میں ایک دفعہ بھی پاکستان کال نہ کروا سکے چار سالوں میں وہائٹ ہائوس میں تقریباً 55 کے قریب اہلکار انڈین تھے۔ اہم پوسٹوں پر کام کرتے تھے جبکہ دو یا تین پاکستانی جو اپنی ذاتی شناخت اور تعلیم کی وجہ سے وہائٹ ہائوس تک پہنچے۔ اب موجودہ حالات میں یہ مفاد پرست پاکستانی جن کے کاروبار پاکستان میں ہیں اور حکومت وقت سے مفاد اور کاروبار میں شریک ہوتے ہیں۔ امریکی سیاست میں اگر پاکستانی کامیاب تو اسلامک سینٹرز کے ذریعے ہیں جس کی مثال امریکی ریاست میری لینڈ ہے جہاں پاکستانیوں نے امریکی مین سٹریم سیاست میں بااثر مقام رکھتے ہیں کوئی بھی ممبر کانگریس سینٹرز پاکستانیوں کی مدد کے بغیر نہیں جیت سکتا یہ مختصر تفصیلات لکھنے کا مقصد یہ ہے پاکستانی امریکن کمیونٹی کے جو ہم جیسے مڈل کلاس لوگ ان جعلی فیک لیڈروں سے بچے جو بڑے بڑے ناموں کے ساتھ جوڑ کا فنڈریز کرتے ہیں اور ذاتی مفادات کے علاوہ کچھ نہیں کرتے کپٹل ہل پر موجودہ پاکستانی کاکس بالکل بے اثر ہے اس کاکس کی موجودگی میں پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر قرار داد پاس کی گی کئی دفعہ پچاس سے زیادہ اراکین کانگریس نے عمران خان کی رہائی کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روبیو کو خطوط لکھے یو این او سے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر قرار داد پاس کی گئی سب سے بڑھ کر ڈونلڈ لوکی ہیرنگ جو پاکستان کے خلاف تھی اگر کاکس بااثر ہو تو یہ قراردادیں کیسے پاس ہوسکتی تھیں اس لئے ان نام نہاد پاکستانی جعلی لیڈروں نے پاکستانی امریکنز کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا اس آڑ میں پاکستان وزارتیں لینے کے چکر میں اور کاروباری مفاد لینے کے لئے کر رہے ہیں اور ہر حکومت کے ساتھ آگے پیچھے پھرتے ہیں۔
٭٭٭













