گزشتہ روز آرمی چیف کی جید علماء کرام کے ساتھ ایک اہم نشست ہوئی جس کا بنیادی مقصد علاقائی صورتحال بالخصوص خلیجی کشیدگی کے تناظر میں ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ اس موقع پر بعض ناخوشگوار واقعات اور شرپسند عناصر کی جانب سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تاہم سنجیدہ حلقوں نے تدبر سے معاملے کو سنبھال لیا۔ پاکستان کی بعض مذہبی جماعتوں کا مخصوص مسلکی بنیادوں پر غیر ملکی ریاستوں کی حمایت کرنا ایک سطحی طرز عمل ہے کیونکہ اس وقت مجموعی طور پر مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے۔ عالم اسلام کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ ایران، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب اسلامی برادر ممالک ہیں اور ان کے درمیان اتحاد کا برقرار رہنا ناگزیر ہے۔ خلیجی ممالک میں مقیم ستر لاکھ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذا بحیثیت قوم ہمیں پوری امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں سوچنا ہوگا۔ اس ضمن میں عسکری قیادت کو بھی اپنا لہجہ اور رویہ علماء کرام کے ساتھ نہایت شائستہ رکھنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی دھمکی آمیز زبان یا فوجی عدالتوں کے حوالے سے گفتگو سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک جتنا مقتدر حلقوں کا ہے اتنا ہی ان علماء اور عام شہریوں کا بھی ہے۔علماء کا موقف ہے کہ ان کا دل دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے تڑپتا ہے اور ریاست کو ایسے حساس معاملات میں الجھ کر اپنی ساکھ متاثر نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح مذہبی قیادت کو بھی اپنے صفوں میں موجود سیاسی شرپسند عناصر پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ یہ حساس معاملہ کسی بڑے بحران کی شکل اختیار نہ کرلے۔ پاکستان اس وقت سعودی عرب، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مشکل سفارتی پوزیشن میں ہے تاہم پاکستانی سفارت کار اس صورتحال کو توازن کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان، ترکی اور مصر کی مشترکہ کوششوں سے ہی عرب ممالک اور ایران کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ عمانی دانشور سالم الجہواری کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ بندی کے بدلے عرب ممالک سے خطیر رقم کا مطالبہ کیا ہے جو کہ ایک طرح کی مالی بلیک میلنگ ہے۔ اس صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ مسلم ممالک نیٹو کی طرز پر ایک مشترکہ دفاعی نظام اور فورس تشکیل دیں تاکہ وہ بیرونی طاقتوں کے زیر اثر آنے کے بجائے اپنا تحفظ خود کر سکیں۔خلیجی خطے میں امریکی اڈوں پر حملوں کے حوالے سے ایران کا موقف واضح ہے کہ وہ عرب ممالک کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ امریکی جارحیت کا جواب دے رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بزور قوت کھلوانے کی دھمکیوں اور نیٹو سے مشترکہ آپریشن کی اپیل کو اتحادیوں نے مسترد کر دیا ہے جبکہ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے مکمل کنٹرول کا اعلان کیا ہے۔ حالیہ تنازع میں فریقین کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جہاں ایران کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں جواب میں اسرائیل اور امریکہ کے دفاعی و معاشی مراکز پر بھی کاری ضرب لگائی گئی۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے رمضان المبارک کے تقدس میں بڑے ہتھیاروں کے استعمال میں احتیاط برتی ہے تاہم مستقبل میں وہ سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنگ کی بڑھتی ہوئی شدت نے مغربی ممالک کے اسلحہ کے ذخائر اور جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ اب مذاکرات کی راہ تلاش کر رہا ہے۔امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل رینج کو محدود کرنے جیسی سخت شرائط پیش کی گئی ہیں جنہیں ایران نے مسترد کرتے ہوئے خلیج سے امریکی اڈوں کے خاتمے اور مالی نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ سفارت کاری جاری ہے مگر زمین پر حملوں کا سلسلہ بھی تھما نہیں ہے۔ اسرائیلی عوام میں بھی موجودہ قیادت کے خلاف شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ جنگ نے ان کے شہروں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ سی آئی اے کے سابق حکام بھی موجودہ امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں روس کی جانب سے ایران کی حمایت اور ایٹمی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کی تنبیہ نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ایٹمی وقار کے ساتھ امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ ایران کی استقامت اور پاکستانی و ترک سفارت کاری کے نتیجے میں پانچ روزہ عارضی جنگ بندی کی امید پیدا ہوئی ہے اور دعا ہے کہ یہ کوششیں بارآور ثابت ہوں تاکہ خطہ مزید خونریزی سے محفوظ رہ سکے۔















