ٹرمپ کی اوٹ پٹانگ پالیسیاں!!!

0
17
کامل احمر

امریکہ کے سیکریٹری دفاع جن کا تجربہ کم اور جارحانہ رویہ زیادہ ہے وہ طاقت کے بل بوتے پر حالات کو سنبھالنے کے بجائے بگاڑنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک ایسا بیان داغ دیا جس نے ثابت کر دیا کہ ایران ہو یا عراق اور مشرق وسطیٰ ہو یا سعودی عرب ان کے نزدیک اصل نشانہ ایک مخصوص نظریہ ہے۔ اب ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ جب کوئی اسلامی ملک اس وقت دفاعی طور پر اتنا مستحکم نہیں رہا اور نہ ہی وہ کسی کو دھمکیاں دے رہا ہے تو پھر جنگ مسلط کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس تمام صورتحال کا آغاز 2001 میں بش جونیئر کے دور میں ہوا تھا جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعے کو بنیاد بنا کر بن لادن کا نام استعمال کیا گیا جو کہ ایک مضحکہ خیز منصوبہ بندی تھی۔ خود امریکی ماہرین نے تفصیل سے بتایا تھا کہ تکنیکی طور پر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ خبروں کے ذریعے عوام کو ہراساں کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ مسلمان امریکہ کے دشمن ہیں اور جب مقصد حاصل ہو گیا تو بن لادن کی ہلاکت کا دعویٰ کر کے لاش کو سمندر برد کر دیا گیا تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔
بش کا نیو ورلڈ آرڈر دراصل اسی سلسلے کی کڑی تھا جس کی اب ٹرمپ کے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگ ستھ نے وضاحت کر دی ہے۔ یہ جنگ دراصل ایک نظریے پر حاوی آنے کی کوشش ہے جس کا آغاز سلطنت عثمانیہ کے خاتمے پر ہی ہو گیا تھا جب تھامس ایڈورڈ لارسنس نے عربوں کو متحد کر کے اس ریاست کو کمزور کیا۔ اب صدر ٹرمپ ان اقدامات کو آگے بڑھا رہے ہیں جن کے پیچھے اسرائیل کے نتن یاہو کا ہاتھ ہے جس نے امریکہ کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیل مشرق وسطیٰ پر قبضے کا خواب دیکھ رہا ہے اور عراق، لبنان، شام اور لیبیا کے بعد اب اس کی نظریں ایران پر جمی ہوئی ہیں۔ اس تمام عمل میں امریکہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ امریکی عوام کی مرضی ہے۔ ٹرمپ اور نتن یاہو کے مفادات کی نمائندگی صدر کے داماد کر رہے ہیں جنہیں مشرق وسطیٰ کا انچارج بنایا گیا تھا۔ انہوں نے اس منصب کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب سے اربوں ڈالرز حاصل کیے تاکہ اسرائیل کو ایران کے مبینہ خطرے سے بچایا جا سکے۔
سابق صدر اوباما نے 2016 میں ایران کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کی تصدیق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بھی کی تھی کہ ایران نے تمام شرائط پوری کر دی ہیں اور وہ بم نہیں بنائے گا۔ تاہم ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ میں آکر اس معاہدے کو ختم کر دیا۔ نہ تو صدر ٹرمپ اور نہ ہی امریکی عوام ایران کے ساتھ کسی نئی جنگ میں کودنا چاہتے تھے لیکن خاندانی اثر و رسوخ اور سیاسی مصلحتوں نے فیصلے بدل دئیے۔ ان پالیسیوں کے نتائج سامنے ہیں کہ جنگ کے خدشات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور نجی کمپنیوں نے اپنا منافع بڑھانا شروع کر دیا۔ ان کمپنیوں میں سیاست دانوں کے حصص ہیں اس لیے کوئی بھی ان سے بازپرس کرنے والا نہیں۔ دوسری جانب دنیا کے اکثر ممالک امریکہ کے زیر اثر ہیں سوائے اسپین کے جس کے وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایران سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور اس موقف پر ایران نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔صدر ٹرمپ کی یہ بے معنی جنگ دراصل صرف اسرائیل کے مفادات کے لیے لڑی جا رہی ہے جس نے امریکہ کو داخلی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ اس صورتحال سے صرف اسلحہ بنانے والی فیکٹریاں فائدہ اٹھا رہی ہیں جن کے مالکان وہی سیاست دان ہیں جو خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کی اپنی کابینہ کے عہدیدار جو کوئنٹ نے استعفیٰ دیتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ ایران اب کسی کے لیے خطرہ نہیں رہا۔ امریکی میڈیا بھی ایران کے حوالے سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کا اصل سیاسی نقصان اسرائیل کے اقدامات سے ہو رہا ہے۔ امریکی عوام اب جان چکے ہیں کہ اسرائیل اپنے مقاصد کے لیے ٹرمپ پر دباؤ ڈال کر ایران سے لڑ رہا ہے جس کا مالی بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے۔ ٹرمپ کا امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا نعرہ اب صرف ایک بیان تک محدود ہے جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پریس کانفرنسوں میں صحافیوں کے سوالوں پر صدر کا غیر سنجیدہ رویہ اور اوٹ پٹانگ باتیں ان کی ذہنی کیفیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ امریکی عوام اب اس انتظار میں ہیں کہ کسی طرح 2028 آ جائے تاکہ اس سیاسی صورتحال سے نجات مل سکے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here